ناقص منصوبہ بندی کے باعث ایران کو آم کی برآمدات خطرے میں پڑھ گئی

  ناقص منصوبہ بندی کے باعث ایران کو آم کی برآمدات خطرے میں پڑھ گئی

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) وزارت تجارت اور کسٹم حکام کی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی سے ایران کو آم کی برآمدات شدید خطرے میں پڑگئی ہے اور 15ہزار ٹن سے زائدکی برآمد میں سے ابتک صرف 800ٹن آم ابھی تک برآمد کیا جاسکا ہے اور حکام کی شدید لاپرواہی کے باعث تین سے چار دن تک آم پاک ایران سرحد پر روکا جا رہا ہے جس سے آم کی برآمدات کا ہدف پورانہیں کیا جا سکتا اور مال خراب بھی ھورھا ھے یہ بات آم کے بڑے درآمد کنندہ اور درانی گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو بابر درانی نے آج صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو ماہ سرحد مکمل بند تھی اور اب سرحد کھلنے کے بعد صرف 3دن برآمدات کی اجازت پیر بدھ اور ہفتے کی صبح 10بجے سے 3بجے دوپہر تک دی گئی ہے اور اس مختصر وقت میں ایل پی جی اور دیگر اشیاء کی گاڑیوں کی مسلسل آمد کے باعث ایران آم لے جانے والے خالی ٹرک پاکستان نہیں پہنچ پا رہے۔حکام ایل پی جی اور ایل این جی کی گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں جسکے باعث 400 ملین روپے مالیت کی کنسنائنمنٹ پاک ایران سرحد پر خراب ہو رہی ہے اور برآمد گان کو اور ملک کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔بابر درانی نے بتایا کہ ایران کو 15ہزار ٹن آم ہر سال برآمد کیا جاتا ہے جو آم کی کل برآمد کا 20فی صد سے زائد ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہفتے میں 3 دن درآمد اور برآمد کیلئے بے حد کم ہیں اور جس سے دونوں طرف بالخصوص ملک کو اپنی اشیاء کی برآمداورزرمبادلہ کا نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک اور ایکسپورٹرز کے نقصان کے ساتھ کاتشتکاروں اور بیوپاریوں کا اس سال بڑا نقصان ہوا ہے اور تھوڑی مدت کیلئے برآمدات کی اجازت ملی ہے اسمیں بھی تاخیر ہونا اس شعبے کیلئے تباہ کن اور مالی بحران کا باعث ہے۔بابر درانی نے وزیر اعظم، وزارت تجارت، ایف بی آر اور کسٹم حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دیں اور ایکپسورٹرز کے مسئلے کو حل کرائیں۔

مزید :

صفحہ آخر -