چین خطے کے امن کا ضامن

چین خطے کے امن کا ضامن
چین خطے کے امن کا ضامن

  

تاریخی طور پر ، لداخ تبت کا حصہ تھا اور اس پر تبتی بادشاہوں اور چینیوں کا راج تھا۔ مونس اور ہند آریان بدھ مت سے پہلے کے دور میں مغربی لداخ اور زنسکر کے حکمران تھے۔ آر سی اروڑا کے مطابق ، گلگت اور استور کے ڈارڈز نے بھی اس علاقے پر حکمرانی کی اور اس کے شواہد یہاں کے آثار قدیمہ میں ملتے ہیں۔ 1380 سے 1510 کے درمیان ، مسلمان صوٖفیائے کرام  نے یہاں اسلام کی تبلیغ کی ۔سید علی ہمدانی وہ بزرگ تھے جنہوں نے  اس خطے میں اسلام متعارف کروایا  ۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت لداخ میں مسلمانوں کی آبادی 46 فیصد ، بدھ مت کے پیروکاروں کی  40 فیصد اور ہندووں کی  12 فیصد ہے۔ ۱۸۳۴ میں ، سکھ جنرل زورآور سنگھ نے لداخ پر حملہ کیا اور اسے سکھ سلطنت کے  ماتحت جموں سے منسلک کردیا۔

چینیوں نے 1841 میں سکھوں کو شکست دی اور لداخ پر قبضہ کرلیا۔ 1850 میں یہاں یورپیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ۔ مشہور شاہراہ ریشم سری نگر ، کارگل ، دولت بیگ اولانی ، قراقرم سے  ہوتا ہوا یارقند ، خوتان اور کاشغر تک جاتاتھا ۔اس وقت  برطانوی فوج کے ایک افسر اور ایکسپلورر ، سر فرانسس ینگ ہسبینڈ کو اس پاس کے ذریعہ روسی حملے کا اندیشہ تھا۔ تاہم  1937 تک لیہ سے کاشغر / یارقند تک تجارتی قافلے معمول کے مطابق اس راستے  سے گزرتے تھے ۔ 1865 میں ، ایک انگریز جانسن نے اس علاقے کا سروے کیا اور اسکائی چن کوجموں و کشمیر کے ایک حصے کے طور پر دکھایا ۔ اس نام نہاد سروے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی اسلئے  چینی حکام نے نہ تو اسے وقعت دی اور نہ ہی اسے کبھی تسلیم کیا ۔

 1899 کے بعد ، جب سنکیانگ چین کو مل گیا ، انگریزوں نے جارج میکارٹنی میکڈونلڈ کی طرف سے کھینچی جانے والی ایک نئی بارڈر لائن کی تجویز پیش کی جس میں اسکائی چن کو چین کا حصہ رکھا گیا ، اور قراقرم کے سلسلے کو سرحد کے طور پر رکھا گیا ۔ اس لائن کو میکارٹنی - میکڈونلڈ لائن کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ 1914 میں ، لداخ پر انگریزوں نے قبصہ کرلیا ۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہندوستان نے جانسن لائن کا بطور سرحد دعوای کیا چین کا موقف بہت واضح تھا اسکائی چن میکارٹنی - میکڈونلڈ لائن کے تحت  چین کے قبضے میں تھا  لہذا 1954 میں نہرو کے میمو کے جواب میں ، چواین  لائی نے جواب دیا کہ میکارٹنی-میکڈونلڈ لائن کے تحت اسکائی چن چین کا حصہ اور زیر کنٹرول ہے ، اس لئے بات چیت میں اس کی یہی حیثیت برقرار رہے گی  ۔ دوسری طرف  1954 میں ہندوستان نے اپنے  نقشوں میں اسکائی چن کو ہندوستان کا حصہ دکھایا اور 1959 میں متنازعہ علاقے میں اپنی فوجیں اترنا شروع کردیں۔ چین نے سنکیانگ کو تبت سے جوڑنے کیلئے  1954 میں سڑک کی تعمیر شروع کی اور1957 میں مکمل کرلی یہ سڑک اسکا ئی چن سے گزرتی تھی  ۔ ۱۹۵۷میں چین کے اپنے  انکشاف تک ہندوستان کو اس سڑک کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

۱۹۶۲ میں بھارت کو چین کے ہاتھوں ہزیمت آمیز شکست اٹھانی پڑی۔۱۹۶۲ کی جنگ کے دوران ، پوری اروناچل پردیش (جنوبی تبت) پر چینی فوج کا قبضہ تھا اور چینی فوج آسام تک تیج پور تک پہنچ گئی  تھی۔ بروز ریڈیل اپنی کتاب "آرمیگڈن سے بچتے ہوئے" میں لکھتے ہیں ، "ہندوستان کو ذلیل کیا گیا ، نہرو کو تباہ کیا گیا ... یہاں تک کہ کلکتہ کو بھی خطرہ تھا"۔

 تبت سے سنکیانگ تک رسائی اسکا ئی چن سے ہوتی ہے جو چین  کیلئے  تزویراتی اہمیت کی حامل ہے ۔ اسکائی چن بھارت کے کے  زیرکنٹرول کشمیر کے لداخ اور چین کے سنکیانگ  کے درمیان واقع ہے  ۔ 5 اگست ، 2019 کو ، ہندوستان نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو کالعدم کردیا ،اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا  جس میں آزادکشمیر کو ریاست ہند کے مقبوضہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے نئے حصے کے طور پر دکھایا گیا اور اسکائی چن کو مرکزی ریاست لداخ میں تشکیل دیا گیا ۔ اس دوران ، ہندوستان نے دولت بیگ اولڈی نامی ایک علاقے میں میں کچھ اقدامات بھی اٹھائے ، دولت بیگ اولڈی شمال کے سب سیکٹر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دولت بیگ اولڈی کا نام یارکند کے ایک بزرگ کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے  قراقرم پاس سے سفر کیا تھا۔ دولت بیگ اولڈی قراقرم پاس سے 8 میل کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔ اس اہم اسٹریٹجک چوکی کو 1962 کی جنگ کے دوران چینیوں پر نظر رکھنے کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔

 ۱۹۶۲کی جنگ کے بعد ، یہاں ایک بٹالین رکھی گئی تھی، گزشتہ سال ، ہندوستان نے اس مقام  کو ایک بریگیڈ گروپ فورس کے درجے تک اپ گریڈ کردیا ۔ دنیا کی سب سے بلند فضائی پٹی ، ۱۶۶۱۴ فٹ کی بلندی پریہاں پر تعمیر کی گئی ہے ۲۰۰۸ میں اس پٹی پر بھارت کا سی ون تھرٹی جے ائیرکرافٹ ٹرانسپورٹ طیارہ اتراتھا اترا ۔ ۲۰۱۳ میں ، ایک سپر ہرکیولس بھی اس پٹی پر اس پٹی پراترا۔ یہ فضائی پٹی ، جو ۱۹۶۲ میں شروع کی گئی تھی کے زریعے   بریگیڈ کے لئے رسد  تیزی سے کی جا سکتی ہے اور اس سے  شاہراہ قراقرم کو بھی نشانہ بنا یاجاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ  جب سیاچن کیلئے دوسری سڑکیں بند ہوتی ہیں تو یہ پٹی لاجسٹک سپلائی کے لئے سیاچن کو متبادل راستہ  بھی فراہم کرسکتی  ہے۔ اسکے علاوہ بھارت نے اسی علاقے  میں گذشتہ سال ۲۵۵ کلومیٹر لمبی سڑک - ڈربوک-شیوک - دولت بیگ کے نام سے تعمیر کی ہے ، جو ۳۷ پلوں پر مشتمل ہے اور سدابہار راستہ  ہے۔ لہذا اس سڑک کی تعمیر اور دیگر عسکری اقدامات میں نہ صرف چین کے اسکائی چن اور تبت-سنکیانگ ہائی وے کے لئے واضح خطرہ ہے  بلکہ یہ  گلگت بلتستان اور پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے بھی خطرناک ہیں ۔

 ہندوستان کے سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے حال ہی میں کہا ہے کہ بھارتی فوج کا گلگت بلتستان پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار ہے اور مزید کہا کہ گلگت بلتستان کا ہندوستان کا حصہ ہے  ۔ ہندوستانیوں نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر بھی اعتراض کیا تھا۔

ہندوستان کے جارحانہ عزائم کو بھانپتے ہوئے اپنی سرزمیں کو محفوظ بنانے کیلئے چین نے ۵ مئی ۲۰۲۰ کو وادی گالون اور ۹ مئی کو  شمالی سکم کے نکولہ میں پانچ ہزار افواج  اور ۱۲ مئی کو پینگونگ میں مزید 5000 فوجیں اتاریں۔

۱۸ مئی  تک ، چینی فوج نے تمام بلند چوٹیوں  پر اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ۔ جس کی وجہ سے دولت بیگ اولڈی کی اہمیت ختم ہوگئی ہے ۔ دوسرا اہم علاقہ وادی گالان ہے یہاں پر بھی چینی فوج نے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے۔ یادرہے وادی گالان  چینی سرزمین کا حصہ ہے جہاں ہندوستان نے غیر قانونی طور پر دفاعی ڈھانچے تعمیر کیے ہیں۔

 چینی فوج کا مطالبہ ہے  کہ چین کی سلامتی کیلئے باعث خطرہ تعمیر شدہ تمام بنیادی ڈھانچے کو ختم کیا جائے۔ دولت بیگ اولڈی کی سڑک بشمول دولت بیگ اولڈی کی فضائی پٹی ختم کی جائے ۔

 چین کا اتنا بڑا اور جرات مندانہ اقدام ۱۹۶۲ کی جنگ کے بعد نہیں دیکھا گیا ، اس وقت ہندوستان چین کے ساتھ فوجی تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ بھارت نے 1962 کی شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا اورایک مرتبہ پھر غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور اب پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس خطے میں چین نے ہندوستان کے مذموم عزائم  کو ایک مرتبہ پھر ناکام بنا دیا ہے ۔ پاکستان اور چین کے مابین بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری اور فوجی تعلقات خطے میں پائیدار امن کے استحکام اور ہندوستان کے جارحانہ عزائم کو روکنے کے ضامن ہیں۔   

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -