اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج سے سپریم جوڈیشل کونسل سوال کرسکتاہے،درخواست گزارجج کے بیرون ملک اثاثے تسلیم شدہ ہیں،پانامہ کیس میں نوازشریف نے بھی کہاتھامجھ سے نہ پوچھاجائے،بیرسٹر فروغ نسیم

اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج سے سپریم جوڈیشل کونسل سوال کرسکتاہے،درخواست ...
اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج سے سپریم جوڈیشل کونسل سوال کرسکتاہے،درخواست گزارجج کے بیرون ملک اثاثے تسلیم شدہ ہیں،پانامہ کیس میں نوازشریف نے بھی کہاتھامجھ سے نہ پوچھاجائے،بیرسٹر فروغ نسیم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی رکوانے کیلئے درخواست پر سماعت کے دوران حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ 2018 کی ایمنسٹی سکیم کے تحت ججزیاان کی فیملی فائدہ نہیں لے سکتے،3 ایسے قوانین ہیں جس کے تحت ججز،بیگمات کواثاثے ظاہرکرناضروری ہیں۔بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج سے سپریم جوڈیشل کونسل سوال کرسکتاہے، درخواست گزارجج کے بیرون ملک اثاثے تسلیم شدہ ہیں،پانامہ کیس میں نوازشریف نے بھی کہاتھامجھ سے نہ پوچھاجائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی رکوانے کیلئے درخواست پر سماعت جاری ہے،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجر بنچ سماعت کررہا ہے،حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ 2018 کی ایمنسٹی سکیم کے تحت ججزیاان کی فیملی فائدہ نہیں لے سکتے،3 ایسے قوانین ہیں جس کے تحت ججز،بیگمات کواثاثے ظاہرکرناضروری ہیں۔

جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیاکہ آپ کہناچاہتے ہیں دیگرشہریوں کوٹیکس ایمنسٹی سکیم میں چھوٹ ہے؟،لیکن ججزاوراہلخانہ کوٹیکس ایمنسٹی سکیم میں چھوٹ حاصل نہیں،جسٹس عمرعطا بندیالنے استفسار کیاکہ آپ کی اس بات کااس کیس سے کیاتعلق؟۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج سے سپریم جوڈیشل کونسل سوال کرسکتاہے، درخواست گزارجج کے بیرون ملک اثاثے تسلیم شدہ ہیں، پانامہ کیس میں نوازشریف نے بھی کہاتھامجھ سے نہ پوچھاجائے،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ یہ کہتے ہیں جواثاثے تسلیم کیے گئے ان کوظاہرکرناچاہیے تھا،اگربیگم اپنی انکم سے اثاثے خریدسکتی ہیں تووضاحت بھی وہی دے سکتی ہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ آپ سے کوئی نہیں کہتاکہ نہ پوچھیں،کیاآپ نے جج کی بیگم سے پوچھاکہ جائیدادیافلیٹ کہاں سے لائیں،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ ڈسپلنری ایکشن میں بیگم نہیں،پبلک آفس ہولڈرسے پوچھاجاتاہے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ نیب قانون میں بھی جس کے نام پراپرٹی ہوتی ہے اس کوظاہرکیاجاتاہے،اگراصل ذریعہ نہ ملے توپھردیگر سے پوچھاجاتاہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -