چار ماہ سے گھر میں بند لیکن پھر بھی کورونا کا شکار لیکن عید کے بعد دراصل کہاں گئی تھیں؟ غریدہ فاروقی نے بالآخر سب کچھ واضح کردیا

چار ماہ سے گھر میں بند لیکن پھر بھی کورونا کا شکار لیکن عید کے بعد دراصل کہاں ...
چار ماہ سے گھر میں بند لیکن پھر بھی کورونا کا شکار لیکن عید کے بعد دراصل کہاں گئی تھیں؟ غریدہ فاروقی نے بالآخر سب کچھ واضح کردیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود صحافی عمران خان اور سہیل وڑائچ کی طرح غریدہ فاروقی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوچکی ہیں جس کا اعلان انہوں نے خود ٹوئٹر پر کیا تھا، اب یہ بھی معلو م ہوا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کی تصدیق ہونے کے ساتھ ہی تمام احتیاطی تدابیر اپنائے ہوئے تھیں اور ایک ہی مرتبہ ویٹنری کلینک پر عید سے قبل گئی تھیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  غریدہ فاروقی نے بتایا کہ عید کے دنوں میں اسلام آباد میں بہت گرمی تھی اور ان کی پالتو بلیاں بیمار ہوگئیں، شاید ہیٹ سٹروک کا شکار ہوئیں، یہی وہ وقت تھا جب وہ چار ماہ کے دوران گھر سے باہر نکلیں، تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کیا لیکن رواں ماہ کے شروع میں ہی کورونا کی علامات ظاہر ہوگئیں، بعد میں ٹیسٹ کروایا جس کا نتیجہ مثبت آیا لیکن اب صحت یاب ہورہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ   اگر میں چند گھنٹے باہر رہنے کی وجہ سے کورونا کا شکار ہوگئی ہو تو ایسے لوگ بھی ہیں جو مسلسل گھروں سے باہر رہے ہیں۔

اس سے قبل  جون کے آغاز میں ہی  سینئر صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” دو دن قبل مجھے کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں جس پر میں نے ٹیسٹ کروایا اور وہ مثبت آ گیاہے ، میں پہلے ہی اپنے گھر میں قرنطینہ میں ہوں ، یہ وباحقیقت ہے تو اس سے متاثر ہونا کوئی باعث شرم نہیں ہے درست علاج اور احتیاط کرنی چاہیے ۔“غریدہ فارقی نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ” چلیں آئیں اور دوسروں کو محفوظ بناتے ہیں اور اس کے خلاف ہمت سے مقابلہ کرتے ہیں ، مجھے آپ کی دعاﺅں کی ضرورت ہے ۔“

 یادر ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 5 ہزار 834 نئے کیسزسامنے آئے ہیں اور مزید 101 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ادھر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں ہر گھنٹے میں 4 لوگ مر رہے ہیں، لوگوں کی زندگیاں بچانا اور زندگی کو نارمل کرنا ہمارا مقصد ہے، کورونا وائرس سے متاثر100میں 30 افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

وینٹی لیٹر دو دھاری تلوار، ہمارا مقصد کورونا پیسیو امیونائزیشن ہے،پلازما کیلئے اینٹی باڈیزکا ٹیسٹ کر رہے، 100میں سے 5فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑیگا، جبکہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ پلازما لگنے سے 80؍ فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اکرم نےکہا کہ اس وقت ملک میں کورونا وائرس کی صورتِ حال خطرناک اور تشویش ناک ہے، گزشتہ روز 100 افراد کورونا وائرس کے باعث ایک دن میں انتقال کرگئے جو سیاہ دن ہے، لوگوں کی زندگیاں بچانا اور زندگی کو نارمل کرنا ہمارا مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس پھیپھڑوں میں جنگ برپا کر دیتا ہے جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور 100 لوگوں کو وائرس ہو تو ان میں سے 30 لوگوں کو علامات ظاہر نہیں ہوتیں جس سے انہیں وائرس کا پتا ہی نہیں ہوا۔ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد کورونا پیسیو امیونائزیشن ہے، پلازمہ کیلئے اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ کر رہے ہیں، 100 میں سے 5 فیصد لوگوں کو اسپتال جانا پڑے گا اور انہیں وینٹی لیٹر بھی لگ سکتا ہے، وینٹی لیٹر دو دھاری تلوار ہے لیکن اس کا نقصان زیادہ ہے، وینٹی لیٹر سے پھیپھڑوں کو نقصان ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز سے کورونا وائرس کے مریضوں کی 99 فیصد اموات ہو رہی ہیں، ایک شخص کا انتقال ہوتا ہے تو پورے آئی سی یو والے پریشان ہو جاتے ہیں، 65 فیصد طبی عملے کی خواتین پر ان کے خاندان کی طرف سے کام نہ کرنے کا پریشر ہے۔

دوسری جانب ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے پیسیوامیونائزیشن سے کورونا کے علاج کیلئے لوگوں سے پلازمہ عطیہ کرنےکی اپیل کی ہے۔

ہیماٹالوجسٹ اور ٹرانسپلانٹ فزیشن ڈاکٹر طاہر شمسی نے کورنا سے صحت یاب مریضوں سے پلازما عطیہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پلازما دینے والے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور پلازما لگنے سے 80 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

مزید :

کورونا وائرس -