کورونا کے باعث پاکستانی معیشت کو3 ہزار ارب روپے کانقصان پہنچا، حفیظ شیخ نے قومی اقتصادی سروے پیش کردیا

کورونا کے باعث پاکستانی معیشت کو3 ہزار ارب روپے کانقصان پہنچا، حفیظ شیخ نے ...
کورونا کے باعث پاکستانی معیشت کو3 ہزار ارب روپے کانقصان پہنچا، حفیظ شیخ نے قومی اقتصادی سروے پیش کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت پاکستان نے قومی اقتصادی سروے برائے مالی سال2019-20 پیش کردیا ہے جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے 5 ہزارارب روپے کے قرضے واپس کیے ہیں۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے قومی اقتصادی سروے پیش کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کرکے عوام کو ریلیف دینے کی پالیسی اپنائی جو کافی حد تک کامیاب رہی۔کورونا سے پہلے معیشت 3 فیصد کی شرح سے بڑھنے کی توقع تھی لیکن پاکستانی معیشت کو3 ہزار ارب روپے کانقصان پہنچا ہے اور مستحکم ہوتی ہوئی معیشت کو دھچکا لگا ہے۔زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 2 اعشاریہ نو آٹھ فیصد رہنے کا امکان ہے اور رواں مالی سال معاشی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 20ارب روپے کے خسارے کو 3ارب تک لے آئے ہیں۔ بجٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی کی گئی۔ فوج نے بھی دفاعی بجٹ میں کمی کی جس پر ہم جنرل باجوہ کے مشکور ہیں۔حکومت نے موثرحکمت عملی سے5 ہزارارب روپے کے قرضے واپس کیے۔ ٹیکس وصولی میں 17 فیصداضافہ ہوا۔ایک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو نقد رقم دینے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے احساس پروگرام کے لیے رقوم مختص کیں۔

انہوں نے بتایا کہ امپورٹ میں کمی آنے سے محصولات جمع کرنے میں بھی کمی ہوئی اور رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ منفی اعشاریہ تین آٹھ فیصد رہے گی۔سروسز سیکٹر کی ترقی کی شرح اعشاریہ پانچ نو فیصد رہے گی۔ یوٹیلیٹی سٹورز کے لیے 50 ارب روپے اور نیا پاکستان ہاو¿سنگ منصوبہ کےلئے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ معاشی بحران اس حکومت کو ورثے میں ملا تھا اور ماضی میں ہمارے اخراجات آمدنی سے زیادہ ہوتے تھے۔ ہم نے حکومتی اخراجات پر قابو پایا۔ ہم نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ ڈالر سستا رکھنے کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے حکومت نے قرضے کیوں لیے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے قرض واپس کرنے کیلئے قرض لیا۔

حفیظ شیخ نے بتایا کہ اس حکومت نے پورے سال اسٹیٹ بینک سے کوئی بھی رقم نہیں لی۔ ہم نے کوشش کی کہ باہر کی دنیا پر انحصار کم کریں۔ پہلی بار بہتر پالیسی سے اخراجات اورآمدن میں توازن لایا گیا اور گزشتہ سال کسی وزارت کو ضمنی بجٹ جاری نہیں کیا۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ حکومت کورونا سے نمٹنے کےلئے مختلف اقدامات کررہی ہے اورسٹیٹ بینک کمپنیوں کو آسان شرائط پر قرضے دے رہا ہے۔

مشیرخزانہ نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں عوام کو مزید مرعات دینے کی کوشش کریں گی اور نئے ٹیکس نہیں لگائیں گے جب کہ جو ٹیکس ہیں ان میں بھی کمی کرنے پر غور کیا جائے گا۔مشیرخزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال محصولات کی وصولی کا ہدف بہت زیادہ رکھا گیا تھا۔ ہمیں امید تھی کہ ہدف کے نزدیک پہنچ جائیں گے لیکن کورونا وائرس کے باعث ایسا نہیں ہوسکا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو پاکستانی عوام پر ظلم کرنے کیلئے نہیں بنایا گیا، وہ ایک بینک کی طرح کام کرتا ہے اور چاہتا ہے قرض لینے والا ملک واپس بھی کر سکے۔ کورونا بحران میں سب سے پہلے آئی ایم ایف نے اضافی رقم دی۔ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے اپنے اخراجات کو آمدن سے کم رکھا اور پرائمری بیلنس کو صفر کیا۔ حکومت کی پہلی ترجیح کم آمدنی والا طبقہ ہے۔

پاکستان میں بے شمار اشیا  باہر سے آ رہی تھیں جن کو حکومت نے کنٹرول کیا اور براہ راست بیرونی سرمایہ میں 137 فیصد اضافہ ہوا۔ اس حکومت نے پانچ سو ارب کے اضافی ٹیکس جمع کیے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -