ہمارا قومی ویکسی نیشن پروگرام

ہمارا قومی ویکسی نیشن پروگرام

  

کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتِ حال میں بہتری کے بعد پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں، اب کاروبار ہفتے میں ایک دن کے لئے بند ہو گا،جو اِس سے پہلے دو دن تک بند رہتا تھا،دفاتر میں بھی سو فیصد حاضری کی اجازت دے دی گئی ہے، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی بھی ہٹ گئی ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر(این سی او سی) نے تمام سرکاری اور نجی ملازمین کے لئے30 جون تک ویکسی نیشن کرانا لازمی قرار دے دیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں 70 فیصد مسافر بٹھانے کی اجازت دے دی گئی ہے،کھیلوں کی سرگرمیاں بھی جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہیں تاہم جن کھیلوں میں کھلاڑیوں کا براہِ راست رابطہ ہوتا ہے ان پر بدستور پابندی رہے گی، اِن ڈور جمز میں صرف وہی افراد جا سکیں گے، جو  ویکسی نیشن کرا چکے ہیں۔ کراٹے، باکسنگ،کبڈی،ریسلنگ، ثقافتی تقریبات بدستور بند رہیں گی،عقیدت مند مزارات پر بھی حاضری نہیں دے سکیں گے،سینما بھی بند رہیں گے، این سی او سی کے چیئرمین وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ خطرہ ابھی باقی ہے،اِس لئے احتیاط جاری رکھنے کی ضرورت ہے، 18سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسی نیشن بھی آج سے شروع کر دی گئی ہے،ایک کروڑ افراد کو لگائی جا چکی ہے،سالِ رواں کے آخر تک سات کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کا ہدف ہے،کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لئے ایک ارب دس کروڑ ڈالر فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔

جن ایک کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ہے اُن میں سے کتنے ہیں، جنہیں صرف ایک خوراک لگی ہے اور کتنے ہیں جو دونوں خوراکوں کا کورس مکمل کرا چکے ہیں، اِس بارے میں اعداد و شمار سامنے نہیں لائے گئے،لیکن محتاط اندازے کے مطابق ان ایک کروڑ میں بڑی تعداد انہی لوگوں کی ہے، جو صرف ایک خوراک لگوا سکے ہیں۔چند روز قبل یہ اطلاع منظر عام پر آئی تھی کہ تین لاکھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے پہلی خوراک لگوائی، لیکن اس کے بعد دوسری خوراک کے لئے رابطہ نہیں کیا جو تین ہفتے یا اکیس دن بعد لگتی ہے۔اسد عمر نے کہا تھا کہ ایسے لوگوں سے رابطے کے لئے ایک کال سنٹر قائم کیا جا رہا ہے،جس میں ان  سے رابطہ کر کے اُنہیں کہا جائے گا کہ وہ ویکسی نیشن کی دوسری خوراک لگوا کر کورس مکمل کریں۔

ملک میں جو ویکسین لگائی جا رہی ہے وہ زیادہ تر چینی ساختہ ہے جو ویکسین ”پاک ویک“ کے نام سے اسلام آباد میں تیار کی گئی ہے اس کا خام مال بھی چین سے درآمد کیا گیا ہے۔ایک لاکھ سے زائد خوراکیں تیار کی گئی ہیں اور مزید کے لئے بھی تیاری ہے تاہم جو لوگ سعودی عرب جانا چاہتے ہیں، انہیں ایک مشکل یہ پیش آ رہی ہے کہ سعودی حکومت اُن پاکستانیوں کو اپنے ہاں داخلے کی اجازت نہیں دے رہی،جنہوں نے چینی ویکسین لگوائی ہے۔ اگرچہ حکومت نے سعودی حکام کے ساتھ اس مسئلے پر بات چیت کی ہے تاہم ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا اور لوگ گو مگو کی پوزیشن میں ہیں،کیونکہ سعودی عرب فائزر، موڈرنا، جانسن اینڈ جانسن اور ایسٹرا زینیکا کی ویکسین ہی کو اپنے ہاں داخلے کے لئے ضروری قرار دے رہا ہے،لیکن پاکستان میں تو اول الذکر تینوں قسم کی ویکسین سرے سے موجود ہی نہیں،البتہ آخر الذکر محدود تعداد میں دستیاب ہے،لیکن اس کا بھی ایک مسئلہ ہے کہ اس کی پہلی خوراک کے بعد دوسری خوراک کے لئے تین ماہ کا وقفہ ضروری ہے،جبکہ باقی کمپنیوں کی ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کا وقفہ تین ہفتے ہوتا ہے۔ فرض کریں جن لوگوں نے آج ہی ایسٹرا زینیکا کی پہلی خوراک لگوائی ہے وہ تو تین ماہ سے پہلے دوسری خوراک نہیں لگوا سکتے، اِس دوران اُن کے سعودی عرب کے ویزوں کی مدت ختم ہو جائے گی تو اُنہیں دوبارہ سارے مراحل طے کرنا ہوں گے،جو سعودی عرب کے سخت قوانین کی وجہ سے ایک مشکل مشق ہے اور اس پر بھاری اخراجات بھی اُٹھتے ہیں، اِس لئے حکومت ِ پاکستان کو یہ معاملہ سعودی حکومت اور عالمی ادارہئ صحت کے ساتھ اٹھانا چاہئے اور چینی ویکسین لگوانے والوں کو سعودی عرب میں داخلے کی اجازت دلوانی چاہئے اور اگر اس میں کامیابی نہیں ہوتی تو پھر متبادل کے طور پر ایسی ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے،جو سعودی حکومت کو قبول ہو،حکومت پاکستان جو ویکسین خریدنے کا پروگرام رکھتی ہے اس میں متبادل ویکسین شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کا مسئلہ حل ہو سکے۔

پاکستان میں ویکسی نیشن کا آغاز 2فروری سے ہوا تھا اس لحاظ سے چار ماہ اور دس دن میں ایک کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین لگائی جا سکی ہے ان میں سے بھی اگر دوسری خوراک نہ لگوانے والے منہا کر دیئے جائیں تو تاحال ویکسین کا مکمل کورس کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے کہیں کم نکلے گی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ دسمبر تک سات کروڑ لوگوں کو ویکسین لگا دی جائے گی۔اگر ساڑھے چار ماہ میں ایک کروڑ لوگوں کو ویکسین لگ سکی ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مزید چھ کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کے لئے کتنی مدت درکار ہو گی اس لحاظ سے دسمبر تک ٹارگٹ شاید پورا نہ ہو۔ویسے جب ویکسی نیشن شروع ہوئی تھی تو سرکاری طور پر یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی بھی ویکسی نیشن ہو جائے تو یہ بھی کافی ہو گی،کیونکہ اس طرح باقی ماندہ لوگ ”ہرڈ ایمونیٹی“ کے نظریئے کے تحت بیماری سے محفوظ ہو جائیں گے۔اگر سات کروڑ کے عدد سے واقعی یہی مراد ہے تو بھی اس کی وضاحت ہو جانی چاہئے۔چین نے ویکسین کی ایک ایسی قسم بھی بنائی ہے جس کی صرف ایک خوراک ہی کافی ہے اور دوسری خوراک لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر یہی ویکسین زیادہ مقدار میں درآمد کر لی جائے تو شاید سات کروڑ کا ہدف مقررہ مدت کے اندر حاصل کرنے میں آسانی رہے۔توقع ہے کہ ان سب پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر ہی ویکسی نیشن کا اگلا پروگرام تیار کیا جائے گا۔اس سلسلے میں بعض سخت اقدامات کا جو تذکرہ ہو رہا ہے ان کے ساتھ ساتھ ترغیبات کی ضرورت بھی ہے،پوری دُنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ویکسین لگوانے کے لئے تیار نہیں ہو رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی کئی ریاستوں میں اس مقصد کے لئے طرح طرح کی ترغیبات دی جا رہی ہیں، جبکہ ہم موبائل فون کی سمیں بند کرنے کی ”دھمکیوں“ سے کام چلانا چاہتے ہیں،ان کی افادیت سے انکار نہیں،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ترغیبی مہم چلانا بھی لازم ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -