وزیراعلیٰ، غور تو فرمائیں؟ 

وزیراعلیٰ، غور تو فرمائیں؟ 
وزیراعلیٰ، غور تو فرمائیں؟ 

  

وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کو نا تجربہ کار بھی نہیں کہا جا سکتا، انہوں نے بھی مقامی سیاست اور قیادت ہی سے اس بحرِ سیاست میں قدم رکھا۔ان کو یہ بھی علم ہو گا کہ یہ جو سرکاری ملازم ہیں۔ یہ کام چوری کیسے کیسے کرتے اور اسے ”خوشامد“ کے پردے میں کس طرح چھپاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کے سیکرٹریٹ کے ارفع دماغوں نے انہیں شہرت کا ایک اور راستہ دکھایا اور خدمت آپ کے دروازے پر، کے نام سے ایک ایسی مہم کا آغاز کرا دیا جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ جو کام اس خدمت نے دہلیز پر انجام دینا تھے وہ پہلے ہی فرائض کے طور پر موجود ہیں اور جن شعبوں اور محکموں کو متحرک کرنے کا یہ منصوبہ بنایا اور اس کی تشہیر کی گئی۔ یہ سب کام ان ملازمین کے کرنے کے تھے۔ جو وہ بوجوہ نہیں کرتے، ضرورت ایسے کسی نئے پروگرام یا منصوبے کی نہیں تھی۔ ملازمین اور محکموں کی سخت نگرانی سے یہ سب ممکن تھا اور ہے لیکن وزیر اعلیٰ کو شاید یہ منصوبہ بھی کارکردگی کا مظہر بتایا گیا اور یہ طے ہوا کہ جس عطار کے لونڈے کے لئے بیمار ہوئے تھے اسی سے دوا بھی لی جائے۔ چنانچہ ہم پہلے ہی جان گئے تھے کہ وزیراعلیٰ کو ”ماموں“ بنانے کا پروگرام ہے وہی ہوا، وزیراعلیٰ سے اچانک ایک بلا پروٹوکول دورہ بھی کروا دیا گیا اور ان کی طرف سے صفائی کی ابتر حالت پر ناخوشی کا اظہار اور وارننگ بھی ہوئی۔ انجام یہی ہونا تھا۔ جو ہوا۔ آج کسی کو یاد بھی نہیں کہ ایسی کوئی مہم شروع بھی ہوئی تھی؟ اب پھر وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے بھی تھی، سو اب بھی ہے۔

اس حوالے سے ہم قارئین کے ساتھ اپنا رپورٹنگ دور کا تجربہ شیئر کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں یہ معروضات وزیراعلیٰ تک پہنچ بھی جائیں گی کہ اس مہم یا اس سے پہلی والی کارروائیوں کا اب تک کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو دور کی بات ہے۔ بلدیاتی ادارے تب بھی نہیں تھے۔ لاہور میونسپل کارپوریشن اور دوسرے ایسے ادارے سرکاری افسروں کے ماتحت چلتے تھے۔ لاہور کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر اسی شہر کے سپوت سی ایس پی سعید احمد (مرحوم) تھے وہ ایک با عمل اور متحرک افسر تھے۔ ان کے کام کرنے کا جو انداز تھا اس نے ہم صحافیوں کو بہت متاثر کیا ان کے طریق کار کی وجہ سے ان کو ”ماموں“ نہیں بنایا جا سکا وہ صبح بروقت دفتر (ٹاؤن ہال) آتے دو یا تین میٹنگیں ہوتیں تجزیہ ہوتا اور پھر کام تفویض ہوتے، ایڈمنسٹریٹر سعید احمد نے اپنے سامنے ایک رجسٹر رکھا ہوتا تھا۔ امروز کا صفحہ سامنے ہوتا جس کام کے کرنے کا فیصلہ یا ہدایت ہوتی، وہ اپنے ہاتھ سے درج کرتے اور پھر صفحات الٹ کر وہ تاریخ سامنے لاتے جس تک یہ کام مکمل یا ختم ہونا ہوتا اور وہاں بھی اندراج کرتے۔ اب یہ ہوتا کہ صبح وہ پہلے سابقہ احکام اور فیصلوں کی تفصیل معلوم کرتے اور اسی کے مطابق احکام بھی جاری کرتے اور پھر تنبیہ اور کارروائی بھی ہوتی۔ یوں ان کو ٹرخانا مشکل تھا اس دوران وہ مختلف منصوبوں پر جاری کام کا خود بھی معائنہ کرتے تھے۔ کام بہتر چلتا رہا تھا۔ لیکن آج جو ہو رہا ہے وہ نمائشی محسوس ہوتا ہے اور وزیر اعلیٰ کو اور ہی راستے پر لگا دیا گیا ہے، وہ کوریج دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ کوئی حل نہیں ہوتا۔

اس سلسلے میں آج ہم ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ صورت حال کیا ہے۔ اس حوالے سے ہم ذرا اپنے رہائش والے علاقے کے بارے میں بھی آگاہ کر سکیں گے۔ یہ آج ہی کی بات ہے کہ ہم گھر سے مصطفیٰ ٹاؤن سپیڈو بس سٹاپ کی طرف روانہ ہوئے۔جونہی ہم مرکزی دو رویہ سڑک پر پہنچے، زبردست جھٹکا لگا کہ صبح سوا ساڑھے دس بجے تھے اور مصطفٰے ٹاؤن کی چوڑی اور وسیع گرین بیلٹ پر قریباً دو درجن گائیں، بھینسیں اطمینان سے گرین بیلٹ کا سبزہ نوش فرما رہی تھیں تھوڑا آگے بڑھے تو تین گائیں خراماں خراماں ٹہل کر ناشتہ کر رہی تھیں اور یہی نہیں چار مقامات پر سائے میں چارپائیاں ڈالے مزدور قسم کے حضرات استراحت فرما رہے تھے۔ ایک آدھ چولہا بھی جل رہا تھا یہ سلسلہ کسی ایک روز کا نہیں مسلسل ہے اور مویشی چرانے والوں نے اوقات مقرر کر رکھے ہیں۔

دن کو یہ صاحب آتے تو سہ پہر کو قیوم بلاک کے ڈیرہ والے اپنے دو درجن سے زیادہ مویشی یہاں پہنچا دیتے اور ایسا ہی ایک وقت اللہ یار بلاک کی جھگیوں والوں نے مقرر کر رکھا ہے۔ جبکہ عصر اور مغرب کے درمیان ”ٹویا ٹاؤن“ سے بھیڑوں، بکریوں اور چھتروں کا ایک ریوڑ آکر شہریوں کے گھروں کی باڑ اور گرین بیلٹ کے پودے نوش فرماتے ہیں۔ یہ سلسلہ اس کے باوجود جاری ہے کہ وزیر اعظم پورٹل پر کئی بار شکایات بھیجی گئیں۔ اس حوالے سے مویشیوں کے مالک کہتے ہیں جو مرضی کر لو ہم  ماہانہ دیتے ہیں۔ یہ گرین بیلٹ ایسی ”قسمت اور نصیب“ والی ہے کہ سال میں دو بار شجرکاری مہم سے مستفید ہوتی، پودے لگائے جاتے اور پھر بھینسوں کا چارہ بنتے ہیں۔

اب ذرا بات کر لیں مسلم ٹاؤن موڑ سے ملتان چونگی تک سڑکوں کے دو رویہ گرین بیلٹ کی تو یہ پوری سڑک ایل ڈی اے کی مہربانی سے کمرشل ہو چکی۔ اب اس سڑک کے دونوں اطراف تعلیمی ادارے، شادی ہال اور دوکانیں بھی ہیں۔ چنانچہ یہ پوری گرین بیلٹ دونوں اطراف سے پارکنگ کے کام آتی ہے گرین بیلٹ کے لوہے والے جنگلے کہاں گئے۔ کسی کو معلوم نہیں۔ ان سب کو یہ تعلیمی ادارے اور میرج ہال اپنے تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ حالت صرف وحدت روڈ کے علاقے کی نہیں پورے لاہور کا یہی حال ہے۔ ایل ڈی اے کی ہر سکیم میں ایسے پارک، گرین بیلٹ اور راستے تک بِک چکے ہیں۔صفائی کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا،کوئی ”روڈ کٹ“ مرمت نہیں ہوا۔ تجاوزات کی بھرمار ہے،اور جناب! کیا یہ سبب کسی ”ادائیگی“ کے بغیر ہوتاہے؟ ضرورت نگرانی اور جواب طلبی کی ہے۔ ”شاید کہ اتر جائے تیرے دِل میں میری بات“۔ عملہ موج مستی کرتا ہے تو محترم وزیر اعلیٰ آپ ذرا غور فرما لیں۔

مزید :

رائے -کالم -