اسلامو فوبیا کا شکار خاندان

اسلامو فوبیا کا شکار خاندان
اسلامو فوبیا کا شکار خاندان

  

اسلامو فوبیا کا شکار ہونے والے اس مسلمان خاندان کی تین نسلوں کو چند لمحوں میں منصوبہ بنانے اور اس کو عملی جامہ پہنانے والے 20 سالہ نوجوان نیتھانیل ویلٹمین نے ایسا کیوں کیا؟ اس پر کینیڈا سمیت دنیا بھر میں بحث ہو رہی ہے اور کینیڈا میں مسلم کمیونٹی میں سخت تشویش کی لہر بھی دوڑ گئی ہے کہ آخر اس نوجوان کی سوچ میں اس قدر زہر کس نے بھرا تھا کہ اس عمر میں اپنے پروفیشنل کیریئر کی پلاننگ کرنے کی بجائے اس نے معصوم انسانوں کی جان لینے کا منصوبہ بنا لیا تھا، اس حقیقت سے آگاہی کے باوجود کہ اس اقدام کے نتیجے میں اسے اپنی عمر کا  بڑا حصہ سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑ سکتا ہے۔

اس خاندان کی تصویر دیکھ کر اسے نہ جاننے والے بھی آبدیدہ ہو گئے ہیں کہ ایک پڑھا لکھا، مہذب خاندان بغیر کسی غلطی کے کس نفرت انگیز سوچ کا شکار ہوا ہے۔ کینیڈا میں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کینیڈین پولیس بہت جلد کوئی ایسا بیان نہیں دیتی کہ جس سے معاشرے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو، جب تک اسے ٹھوس شواہد کی بنا  پر سو فیصد اس امر کا یقین نہ ہو جائے۔اس کیس میں بھی جب لندن اونٹاریو پولیس چیف نے یہ کہا کہ فیملی کو مسلمان ہونے کی بنا  پر ٹارگٹ کیا گیا اور اس کے پیچھے نفرت اور منصوبہ بندی شامل تھی،جبکہ نوجوان اور متاثرہ خاندان ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں تھے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون اس نوجوان کی سوچ اور ذہن کو کنٹرول کر رہا تھا؟ 

”افضال فیملی“ تو 2007ء  میں پاکستان سے کینیڈا ہجرت کر کے آئی، آنکھوں میں خواب سجائے اس ملک میں قدم رکھا ہو گا کہ کینیڈا کو دنیا بھر میں ایک پُرامن ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس فیملی کوجاننے والی ایک خاتون کے مطابق یہ لوگ نہ صرف مسلم کمیونٹی کی بہتری کے لئے کوشاں تھے، بلکہ دیگر کمیونیٹیز کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ 74سالہ والدہ طلعت افضال سکول ٹیچر ریٹائر ہوئیں اور آرٹ میں بہت دلچسپی رکھتی تھیں، 46 سالہ بیٹا سلمان افضال پیشے کے لحاظ سے فزیو تھراپسٹ اور کرکٹ کے کھیل کا دیوانہ تھا۔وہ سینئر شہریوں کی اس محبت سے دیکھ بھال کرتے جیسے کہ اپنے فیملی ممبرز ہوں۔44سالہ مدیحہ طلعت افضال کی بہو اور سلمان کی اہلیہ تھیں۔ مدیحہ نے کچھ عرصہ پہلے ہی سول اینڈ انوائرنمنٹل انجینئرنگ میں پوسٹ گریجویشن مکمل کی تھی اور پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔ پشاور سے سول انجینئرنگ میں بیچلر مدیحہ وہاں 174 کی کلاس میں واحد طالبہ بھی رہی تھیں۔

لندن اسلامک سکول سے مڈل تک تعلیم مکمل کرنے والی 15 سالہ بیٹی یمنی اب لندن اونٹاریو کے اوک رج سیکنڈری سکول میں نویں جماعت کی طالبہ تھی اور 9 سالہ بیٹا فیاض افضال لندن ایلیمنٹری اسلامک سکول میں گریڈ 3 کا طالب علم ہے،جو اس وقت زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس معصوم کو  شاید یہ علم بھی نہ ہو گا کہ وہ اپنی مال و متاع دادی، والدین اور اکلوتی بہن، سب کو کھو چکا ہے۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نوجوان نیتھانیل نے آخر اس فیملی کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا  کیا وہ ان کا پیچھا کر رہا تھا کیا اس فیملی کے مسجد، بچوں کے مدرسہ جانے سے اس کو کوئی مسئلہ تھا  یا ان کا روایتی لباس، حجاب پہننا ان کا جرم تھا، کیا اس ہولناک قدم سے سنسنی پھیلا کر وہ میڈیا کی توجہ چاہتا ہے، جو اسے امریکہ و کینیڈا کے بعد دنیا بھر میں ایسی سوچ رکھنے والوں میں“مقبول“ بنا دے گی؟ 

ایسا تو نہیں کہ اس نوجوان یا اس کے پیچھے متحرک لوگوں کو اس اقدام کے بعد سامنے آنے والے ردعمل اور نتائج کا علم نہیں تھا۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ گرفتار کر لیا جائے گا،  پولیس کے تعاقب سے مقابلہ کرتے ہوئے  ہلاک بھی ہو سکتا تھا، آخر اس کا مقصد کیا حاصل کرنا تھا؟ 

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو تلاش کرنا ہے اور اس طرح کی نفرت انگیز  سوچ اور اسے بڑھاوا دینے والے گروپوں کا ان کی روٹس سمیت قلع قمع بھی کرنا ہے۔ آخر عام لوگ، مسلمان روزمرہ زندگی میں کتنی احتیاط کر سکتے ہیں؟ انہیں فرائض کی ادائیگی کے لئے مساجد میں بھی جانا ہے، روز نہ سہی مخصوص مواقع پر روایتی لباس بھی پہننا ہے،سب نہ سہی بہت سی خواتین حجاب کی پابندی بھی کرتی ہیں، برقع بھی لیتی ہیں تو پھر کیا ہر وقت ایک خوف کی سی کیفیت میں رہیں گے۔ نہیں، کینیڈا میں تو ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے اور اس کے لئے عام لوگوں کو بھی اپنے سیاسی نمائندوں، حکمرانوں اور پولیس سمیت ان تمام اداروں سے مسلسل رابطے میں رہنا ہو گا اور ان پر دباؤ بھی بڑھائیں کہ مسلمان کینیڈا کیا دنیا بھر میں ایک بڑی کمیونٹی ہیں اور انہیں اسلامو فوبیا سے تحفظ فراہم کرنا ان اداروں کا فرض ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک سانحے کے بعد چند روز تک احتجاج اور میڈیا میں رہنے کی بجائے مسلسل یاد دہانی کرائی جائے اور اپنے اردگرد پر بھی نظر رکھی جائے کہ نجانے کون، کب، کس کی تاک میں گھات لگائے بیٹھا ہے؟

مزید :

رائے -کالم -