اختلاف برائے اختلاف کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے!

 اختلاف برائے اختلاف کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے!
 اختلاف برائے اختلاف کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے!

  

پاکستان کا شمار تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے 74 سال بعد بھی پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ چین ہم سے بعد میں آزاد ہوا، لیکن آج  یہ  دنیا  کی ایک  معاشی طاقت ہے، ملک میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت نے ملکی ترقی کے حوالے سے بلند بانگ دعوے تو بہت کئے، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے، جس سے ملک رفتہ رفتہ تباہی کی جانب گامزن ہوا، اور ہر حکومت نے سابقہ حکومتوں پر الزامات عائد کر کے خود کو  بری الزمہ قرار دیا،جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے سے کام کرنا چاہئے، ملکی معیشت کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، ملکی معیشت کے حوالے سے تمام معاملات اتفاق رائے سے طے کئے جائیں اور اس کا کریڈٹ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو جانا چاہئے۔سیاست دانوں کو چودھری پرویز الٰہی کی اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے،اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی بھی ہونی چاہئے تھی، اگر قیام پاکستان کے فوراً بعد سے ہی اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو آج  پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا۔

ملکی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں سب نے اپنی الگ الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے، ہم خود کو محب وطن اور ایماندار سمجھتے ہیں اور دوسروں کو چور، ڈاکو، لٹیرا، بے ایمان، غدار اور نہ جانے کیا کیا کچھ سمجھتے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت دوسرے پر الزامات عائد کرتی ہے،سوچے سمجھے بغیر کسی پر الزام عائد کرنا وہ بغیر بغیر ثبوت کے اس حوالے سے متفقہ طور پر قانون سازی ہونی چاہئے، سب سے اہم یہ کہ غیر ملکی قرضے جس طرح دھڑا دھڑ لئے جاتے ہیں، اس حوالے سے بھی کوئی  متفقہ لائحہ عمل ہونا چاہئے، اسی طرح تعلیم، صحت اور امن و امان کے حوالے سے بھی قومی اتفاق رائے سے فیصلے ہونے چاہئیں، قومی معاملات پر سیاست کے نذر ہو جانے سے بعض اوقات ملکی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف بھی قومی ڈائیلاگ کے تجویز دے چکے ہیں ملک میں جو سیاسی عدم استحکام ہے اور اختلاف برائے اختلاف کی سیاست کے خاتمے اور قومی اداروں پر اٹھنے والی انگلیوں اور بیانات سے جو نقصان ہو رہا ہے۔اگر اس کے سد ِباب کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو حالات گمبھیر صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -