وہ سنتا ہے

وہ سنتا ہے
وہ سنتا ہے

  

ہم پاکستانیوں کی اکثریت بداخلاقی کے پہلے پائدان پر ہے، برداشت نام کی چیز ہم میں سرے سے ہی غائب ہے، چھوٹی چھوٹی بات پر گالم گلوچ، دست و گریباں ہونا، اپنے ماتحتوں اور سائلوں سے برا سلوک کرنا تو جیسے ہماری گھٹی میں شامل، کسی بھی شخص سے جو تکلیف یا مشکل میں ہو بدتمیزی کرنا ہمارا محبوب ترین مشغلہ، بڑی ہی عجیب بات انسانیت سے جڑے ہر معاملے میں ہم جانوروں سے بھی بدتر ہو چکے۔

شیر خدا مولا علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے سوال کیا ”انسان اور جانور میں کیا فرق ہے؟“ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”جو دوسروں کے لئے سوچے وہ انسان، جو صرف اپنے لئے سوچے وہ جانور“۔انسانیت سے جڑے ادب و تہذیب کے اس معاملے میں ہمارے سرکاری بابوز کی فرعونیت، رعونت ایسی ہے کہ فرعون بھی شرما جائیں، مجھے تو لگتا ہے سول سروس اکیڈیمی میں شاید یہ سبق بار بار ازبر کرایا جاتا ہے کہ آپ نے مقابلہ کا امتحان پاس کیا، آپ کوئی عام آدمی نہیں،ملک کے اصل حکمران، آپ نے اپنی نشست سنبھالتے ہی ملازمین کو رگڑا کیسے لگانا ہے،

اپنے دفتر کے باہر سائلوں کو گھنٹوں انتظار کروا کر یہ بتلانا ہے کوئی ہم سا ہے تو سامنے آئے اور ہاں کام کئی کئی ماہ تک لٹکا کر یہ ثابت کرنا ہے کہ سول سیکریٹریٹ کی اہمیت کیا ہے اور اگر غلطی سے کسی شریف آدمی نے آپ سے سوال پوچھنے یا اپنا حق مانگنے کی بات کر لی تو اس کی ایسی درگت بنانی ہے، جو دوسروں کے لئے کھلا پیغام بن جائے کہ صاحب کے سامنے ہمیشہ غلاموں کی طرح دھیمی آواز میں گفتگو کرنی ہے ان سے بحث نہیں کرنی، حالانکہ اس کارخانہئ قدرت میں جس جس کو بھی نعمت ملی ادب و احترام کے طفیل ملی۔ اسی لئے کسی دانش ور نے کہا ”با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب“ غرض یہ کہ ادب ہی ایسی صفت ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے، جس طرح ریت کے ذروں میں موتی اپنی چمک اور اہمیت نہیں کھوتا اسی طرح مؤدب شخص انسانوں کے جم غفیر میں اپنی شناخت کو قائم و دائم رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ادب ہی کی بنا پر حضرت جبرائیل علیہ السلام سید الملائکہ بنے اور بے ادبی، تکبر، حسد کی بنا پر ابلیس شیطان بنا اور قیامت تک کے لئے دھتکار دیا گیا۔

بدقسمتی سے ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں دُکھ، دھوکہ، اذیت، تکلیف دوسروں کو دے کر معافی اللہ سے مانگی جاتی ہے، ہماری اس منافقت کا کوئی جواب نہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم جیسا بے مراد بھی کوئی نہیں۔ اللہ کے آخری رسول نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو اسے نرم مزاج بنا دیتے ہیں“۔ (المعجم الکبیر للطبرانی 2274) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید فرمائی ”لوگوں پر آسانی کرو سختی نہ کرو اور خوشی کی بات سناؤ نفرت نہ دلاؤ“۔(بخاری 69) اور یہ بات بھی طے ہے کہ اللہ جب کسی کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرماتا ہے تو اسے مخلوق کی خدمت اور مخلوق کی محبت کا راستہ عنائت فرماتا ہے، مجھے پکا یقین، ہم پر ان نصیحتوں کا کوئی اثر نہیں ہو گا، ہمیں تو مخلوق سے اچھے اخلاق سے پیش آنے پر انعامات کی بارش ہونے کی نوید سنائی جا رہی، مگر صدافسوس!اس دھرتی پر ہم جیسے بھی کوئی نہ ہوں گے جو اپنی جھوٹی انا کی تسکین، وقتی شان و شوکت، بڑے عہدے، کرسی کی وجہ سے دوسروں کا جینا محال کر دیتے ہیں۔

اس سلسلہ کی کڑی چند دن پہلے لاہور پریس کلب کی جاری کردہ پریس ریلیز میں سینئر صحافی وکیل انجم سے ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ پنجاب عثمان خالد کے ناروا سلوک، ہتک آمیز رویے اور ان کے سٹاف  کی طرف سے معمر صحافی کو زدوکوب کرنے، دھکے دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ دریں اثنا معلوم یہ بھی ہوا کہ تگڑی سیاسی سفارش کے حامل آفیسر کا آئے روز سائلوں سے جھگڑنا معمول، اس سے پہلے بھی موصوف کئی صحافیوں سے تلخ کلامی کرچکے اور ڈھٹائی کی انتہا جناب وکیل انجم کے اس اندوہناک واقعہ بارے پڑھ کر خاکسار کا دل خون کے آنسو رویا کہ ایک نووارد سول سرونٹ (جنھیں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے عوام کا خادم قرار دیا)نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر ایک بوڑھے شخص کی توہین کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ کیسی اندھیر نگری چوپٹ راج ہے؟

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے رمضان بازار میں پھلوں کے گلے سڑے ہونے کی شکایت پر اسسٹنٹ کمشنر کی پوچھ گچھ پر تو چیف سیکریٹری پنجاب نے جناب بزدار سے شکایت کے انبار لگا دئیے، مگر یہاں جب ایک معمر عام آدمی سے بدسلوکی کی داستان رقم کی گئی تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ کاش ہمارے عزیز افسران بالا رحمت اللعالمین نبی آخر الزماں کریم مدنی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالیشان پڑھ لیں ”مجھے اپنے ضعیف لوگوں میں تلاش کرو، کیونکہ ضعیف لوگوں کے سبب تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔(ترمذی) ایک دوسری روایت میں منقول ہے ”یہ بات اللہ کی عظمت میں شامل ہے کہ آدمی کسی بوڑھے مسلمان کی اس کے بڑھاپے کی بنا پر عزت کرے“۔

ایک اوار جگہ فرمایا ”میری امت کے بوڑھے کی عزت کرنا میری عزت کرنا ہے“۔ پس ان احادیث سے ثابت ہوا کہ سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑھاپے کی حالت میں پہنچنے والوں کا اکرام کرنے کا درس دراصل ہماری ہی بہتری کے لئے دیا، اس کی زندہ مثال بزرگ افراد کی تعظیم کے حوالہ سے اپنا ذاتی مشاہدہ لکھتا چلوں۔ صبح سے دوپہر تک خیراتی ہسپتال میں بوڑھے مریضوں کو اپنا ماں باپ سمجھ کر معائنہ کرنے سے میرے تمام معاملات اللہ پاک درست فرما دیتا ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو کسی کی مشکل حل کر کے دیکھ لیں۔ وہ اللہ سنتا ہے…… ضرور سنتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -