لندن یا لاہور 

لندن یا لاہور 
لندن یا لاہور 

  

سابق وزیراعظم نواز شریف کے لندن میں قیام کے حوالے ہر روز کوئی نہ کوئی بات سننے کو ملتی ہے۔ ایک طرف حکومت دانت پیس رہی ہے تو دوسری جانب ان کے حامیوں میں سے بھی کئی ایک کا کہنا ہے کہ ان کے لیڈر کو واپس آنا چاہئے۔ تاہم ان کی پارٹی میں ایسے افراد کی تعداد بھی کم نہیں،جو چاہتے ہیں فی الحال واپسی کا خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں۔باہر بیٹھ کر زیادہ بہتر اور موثر سیاست کی جاسکتی ہے۔ بظاہر آئیڈیل صورتحال تو یہی ہے کہ نواز شریف واپس آکر احتجاجی مہم کو خود لیڈ کریں یا پھر سے جیل جاکر داستان عزیمت رقم کریں۔اس حوالے سے سب کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔ معاملے کا درست تجزیہ کرنے کے لئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اپنی شدید علیل اہلیہ کی تیمار داری کے لئے لندن میں تھے۔ انہیں یہ پیغام دیا جارہا تھا الیکشن سے پہلے واپس آنے کی غلطی کی تو سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ وہ صورتِ حال سے پوری طرح باخبر تھے۔ ان دِنوں لاہور سے لندن جانے والے ایک  ملاقاتی کو نواز شریف نے بتایا کہ انہیں اچھی طرح سے علم ہے ان کے پورے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔ بعد ازاں سب نے دیکھا کہ سابق وزیراعظم کے خدشات درست نکلے۔ سب سے پہلے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ نواز شریف باہر کیسے گئے۔ جیل سے ہی نیب کی تحویل میں آنے کے بعد نواز شریف کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ خود حکومت نے بتایا کہ بیماری کی شدت کے باعث ان کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر صحت میڈیا کے روبرو آکر ہر روز بریفنگ دیتی رہیں۔ ہر طرح کی تسلی کرنے کے بعد انہیں علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔ حکومتی حلقوں کو اس وقت یہ دیکھ کر جھٹکا لگا کہ“ سزا یافتہ“نواز شریف کو برطانیہ لے جانے کے لئے قطر کا شاہی طیارہ لاہور پہنچ گیا۔ پھر برطانیہ پہنچتے ہی نواز شریف کی طبیعت بہتر ہونے لگی تو حکومتی حلقوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ سابق وزیر اعظم نے لندن میں بیٹھ کر سیاسی سرگرمیاں شروع کیں تو اسٹیبلشمنٹ بھی بے چین ہونے لگی۔

اب ہر دوسرے، تیسرے دن کوئی نہ کوئی وزیر، مشیر یہ دعویٰ کر دیتا ہے کہ نواز شریف کو جلد واپس لایا جائے گا۔سفارتی اور قانونی ماہرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ اس بارے میں حکومتی دعوے بے بنیاد ہیں۔ حکومت دن رات بھی لگی رہے تو اپنی اس خواہش کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اپنی خفت مٹانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ نواز شریف دھوکہ دے کر ملک سے باہر گئے،جبکہ حالات و واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مخالفین کے اس الزام میں کوئی وزن نہیں کہ نواز شریف بیمار نہیں تھے۔ چند ہفتے قبل راولپنڈی میں ہونے والی ایک بریفنگ میں یہ بات دہرائی گئی کہ نواز شریف کی صحت اس قدر خراب ہوگئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ یا سابق وزیر اعظم کو علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت دیں یا پھر پنجاب سے بھی ایک بھٹو کا سامنا کرنے لئے تیار ہو جائیں۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ اجازت واقعی وزیراعظم نے دینا تھی؟ یہ تو طے ہے کہ نواز شریف سخت بیمار تھے، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کو باہر بھجوانے کا فیصلہ کیا واقعی علاج کی سہولت دینے کے لئے کیا گیا۔چند غیر ملکی شخصیات کی سرگرمیاں تو اندر خانے چل ہی رہی تھیں اور ادھر قوم کو بتایا جارہا تھا کہ کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔جنرل مشرف کے دور میں ہونے والی جلا وطنی اور اس مرتبہ باہر جانے کے معاملے میں بہت بڑا فرق یہ تھا کہ امریکہ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ سو دو تین  دیگر دوست ممالک کی درخواستیں التوا میں پڑی تھیں۔ پھر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا ہوئی۔اس دوران مریم نواز نے جب بھی سیاسی سرگرمیاں شروع کیں انہیں زبردست پذیرائی ملی۔ خصوصاََپی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے وہ بہت نمایاں لیڈر بن کر ابھریں۔

اب خود ان کے بد ترین سیاسی مخالف بھی نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ مریم مقبول سیاست دانوں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں۔ مخالفوں کے متعلق سخت لب و لہجے کے سبب مریم نواز کو پارٹی کے باہر بھی سراہا جا رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ وقفے وقفے سے اپنے والد گرامی کی طرح خاموشی اختیار کر لیتی ہیں تو حکومتی حلقوں کے وار تو کم نہیں ہوتے،مگر ان کے اپنے حامیوں میں بے چینی اور مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ تاثر زور پکڑنے لگتا ہے کہ کوئی ڈیل ہوگئی یا ہونے والی ہے۔ ویسے تو شہباز شریف کو بھی فی الحال باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت اور اس کی قیادت کو حالات کے پیش نظر فیصلے کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ پھر بھی فرض کریں کہ نواز شریف آج وطن لوٹ آئیں تو کیا ہو گا۔جیل تو جائیں گے، مگر یہ امکان بھی  ہے کہ ان کی واپسی بھونچال پیدا کردے گی۔ مسلم لیگ(ن) اور پی ڈی ایم کی صفوں میں ہی نہیں بلکہ آئین کی بالادستی کے حامی تمام حلقوں میں بجلی دوڑ جائے۔ ایسے میں ان کے مخالفین آوازیں دبانے اور انتقامی کارراوئیاں مزید تیز کرنے کے لئے دباؤ بڑھائیں گے تو اس کا منطقی نتیجہ ایک بڑے بحران کی صورت میں سامنے آئے گا۔ حالات اس طرح کا رخ اختیار کر لیں تو کاروبار مملکت معمول کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہتا۔ یہ سب امکانات ہیں۔تازہ خبر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی مقتدر حلقوں کی خوش کرنے کے لئے پی ڈی ایم کے مقابلے میں ایک“ سرکاری اپوزیشن اتحاد“ بنانے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔

یقیناان حالات کو نواز شریف کو واپسی سے پہلے سو بار سوچنا ہو گا۔ سیاست دانوں نے نہایت باریک بینی سے اس بات جائزہ لینا ہوتا ہے کہ ایک وقت میں ان کے پاس ایک سے زائد آپشنز ہوں تو کون کا راستہ ان کی سیاست کو آگے بڑھانے کے لئے بہتر اور محفوظ ہے۔ نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر جیل میں ڈالا گیا تب بھی ان کی سیاست اور پارٹی قائم رہی۔ وہ باہر چلے گئے پھر بھی ملکی سیاست ان کے اور ان کے خاندان کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ باہر بیٹھ کر سیاسی سرگرمیاں شروع کیں تو وہ بے حد موثر ثابت ہوئیں۔ پی ڈی ایم کے جلسوں سے ویڈیو لنک خطاب کئے تو صحیح معنوں میں کھڑاک کر ڈالا۔ دو تین تقریروں نے ہی مخالفین کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ نواز شریف کے مخالفوں نے اپنے عزائم نہیں بدلے تو سابق وزیراعظم کو بھی حق ہے کہ اپنے بچاؤ اور بحالی کے لئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کریں۔ لندن بیٹھ کر ہر جگہ رابطے اور سیاست کرنا بہتر ہے یا لاہور آکر جیل میں قید کاٹنا۔ فیصلہ نواز شریف اور ان کی پارٹی نے ہی کرنا ہے،لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ اگر سب کچھ دیکھتے ہوئے جان خطرے میں ڈالنا صریحاً حماقت ہے۔ نواز شریف قسمت کے دھنی ہیں کہ جیل میں ہونے کے باوجود دو مرتبہ جان بچا کر باہر جانے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے پاس تجربہ بھی ہے اور وقت بھی، سیاسی کھیل کھیلنے کے لئے  ان کے پاس کئی کارڈ بھی موجود ہیں اور یہی معلومات ان کے مخالفین کے لئے مستقل درد  سر بن چکی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -