لوڈشیڈنگ کیوں؟ بجلی کہاں گئی؟

 لوڈشیڈنگ کیوں؟ بجلی کہاں گئی؟
 لوڈشیڈنگ کیوں؟ بجلی کہاں گئی؟

  

45 درجے سنٹی گریڈ میں اس سے بڑا عذاب کوئی ہو نہیں سکتا کہ بجلی غائب ہو، اس وقت پورا ملک گرمی کی لپیٹ میں ہے اور ساتھ ہی لوڈشیڈنگ بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ شہر شہر گاؤں گاؤں لوگ بجلی نہ ہونے کی دہائی دے رہے ہیں۔ اسلام آباد جیسے شہر سے ہماری ایک صحافی ساتھی سلمیٰ اسد نے خبر دی ہے کہ 30 منٹ میں 40 بار بجلی ٹرپ ہوئی اور پھر غائب ہو گئی۔ یکدم یہ کیا ہوا کہ سرپلس بجلی اس طرح غائب ہو گئی۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ حال ہی میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو جو 40 فیصد ادائیگی کی گئی ہے اس پر وہ احتجاجاً بجلی کی پیداوار کم کر چکی ہیں۔ ابھی دو روز پہلے ہی وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا تھا ملک میں کہیں لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی سوائے ان علاقوں کے جہاں بجلی کے بل ادا نہیں کئے جاتے یا بجلی چوری کی جاتی ہے اب تو پورے ملک میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے کیا سارے عوام بجلی کے بل ادا نہیں کر رہے یا اتنے بڑے پیمانے پر بجلی چوری کی جا رہی ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ بجلی کا بڑا بحران پیدا ہو چکا ہے اور حکومت کی دیگر شعبوں میں جو کارکردگی رہی ہے، اگر اس بحران کے دوران بھی وہی برقرار رہی تو پھر بہت مشکل ہے عوام کی گرمیاں اچھی گزر سکیں جس طرح چینی، پٹرول، ادویات اور آٹے کے معاملے میں حکومتی نا کامیاں نمایاں رہیں اسی طرح بجلی کا بحران بھی اس حکومت کے لئے بڑا دردِ سر بن سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 ہزار میگا واٹ سرپلس بجلی ہم چھوڑ کر گئے تھے آج 5 ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال پیدا ہو چکا ہے۔ عمران خان سے اگر حکومت نہیں کی جاتی معاملات نہیں سنبھالے جاتے تو پھر وہ حکومت چھوڑ کر گھر جائیں، ملک تباہ نہ کریں۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے جن باتوں کا تحریک انصاف پچھلے تین برسوں میں کریڈٹ لیتی رہی ہے، ان میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ اس بارے میں فخریہ یہ کہا جاتا رہا کہ ہزاروں میگا واٹ بجلی سرپلس پڑی ہے صرف ترسیلی نظام میں اتنی سکت نہ ہونے کی وجہ سے اسے استعمال میں نہیں لایا جا رہا۔ اب تو صورتِ حال بالکل بدل چکی ہے بجلی کا شارٹ فال خطرے کے نشان کو چھو رہا ہے۔ گرمیوں میں ویسے بھی بجلی کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی تو حکومت کے خلاف شہر شہر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ مجھے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب سخت گرمی میں  لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ واپڈا کے دفاتر پر حملے کرتے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے انہیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ کیا صورتِ حال اسی طرف کو جا رہی ہے۔ کیا حکومت اس شعبے میں بھی ناکام ہو جائے گی؟ کیا وہ اچانک پیدا ہونے والے شارٹ فال پر قابو پا سکے گی یا دیگر بحرانوں کی طرح اس میں بھی ناکام رہے گی۔ تشویشناک بات یہ ہے اس گرم موسم میں تعلیمی ادارے بھی کھلے ہوئے ہیں، ملک کی تاریخ میں کبھی جون جولائی میں تعلیمی ادارے نہیں کھولے جاتے تھے کیونکہ سخت گرمی کی وجہ سے طالب علموں خاص طور پر سکول کے بچوں کا گھروں سے باہر آنا ممکن نہیں ہوتا تھا، مگر اس بار کورونا وبا کی وجہ سے تعلیمی ادارے کھولے گئے اور اوپر سے  لوڈشیڈنگ کا عذاب نازل ہو گیا۔ اسلام آباد کے ایک سکول میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے 25 بچے بے ہوش ہو گئے۔ ایسے واقعات تو ہر شہر کے سکول میں رونما ہوں گے، کیونکہ اس قدر گرمی میں پنکھوں کے بغیر چھوٹے چھوٹے کمروں میں بیٹھنا کسی سزا سے کم نہیں۔

سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ مصنوعی ہوتا ہے ملک میں جتنے پاور پلانٹ لگے ہوئے ہیں ان کی مجموعی پیداوار ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہے جب سرکلر ڈیٹ بڑھ جاتا ہے تو  لوڈشیڈنگ بھی بڑھ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے شعبے میں کرپشن کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ جتنی بجلی صرف ہوتی ہے اس کے حساب سے بلنگ نہیں ہوتی، لائن لاسز اتنے زیادہ ہیں کہ سو یونٹس صرف ہونے پر صرف 75 یونٹس کی بلنگ ہوتی ہے، باقی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں میں ایسے مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جو ہر رکاوٹ کو دور کرنے میں مہارت رکھتے ہیں یہ بڑی عجیب صورت حال ہے کہ بجلی چوری کو روکنے کی بجائے اس علاقے میں لوڈشیڈنگ بڑھا دی جائے۔ ان کا مطلب ہے جو لوگ اس علاقے میں باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں ان پر بھی نزلہ گرایا جاتا ہے اور مفت کی سزا دی جاتی ہے۔ بجلی کا ایک یونٹ آج کل پاکستان میں سب سے مہنگا ہے۔ پھر سلیب سسٹم کے تحت صارفین پر اربوں روپے کا مزید بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے۔ یہ سب باتیں نا اہلی کو ظاہر کرتی ہیں کسی کی چوری اور بھرے کوئی دوسرا، بجلی کمپنیوں کے اہلکار اگر بجلی چوری کے معاملے میں صارفین سے ملے ہوئے نہ ہوں تو بجلی چوری ہو ہی نہیں سکتی، اس بارے میں کوئی ایسا میکنزم نہیں بنایا جا سکا جو لاکھوں یونٹس بجلی چوری کو روکے، جس سے اربوں روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔

پچھلے آٹھ دس برسوں میں تو ہم یہی دیکھتے آئے ہیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اچانک بڑھ جاتی ہے اور اچانک ختم ہو جاتی ہے سرکلر ڈیٹ نوازشریف کے دور میں بھی تھا اور اس دور میں بھی ہے، بلکہ پہلے سے دو گنا ہو چکا ہے پہلے سے دوگنا کیوں ہوا ہے، اس بارے میں کوئی بتانے کو تیار نہیں حالانکہ بجلی کے نرخ آئی ایم ایف کے دباؤ پر بار بار بڑھائے گئے ہیں، مگر اس بار گرمیوں کے آغاز پر ہی لوڈشیڈنگ ایک بڑے عذاب کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ چھوٹے شہروں میں تو بہت ہی برا حال ہے، ہر گھنٹے بعد لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بڑے شہروں میں دورانیہ آٹھ گھنٹے تک پھیل چکا ہے۔ ابھی تو آغاز ہے، گرمیوں کے اس موسم میں صورت حال کس حد تک خراب ہوتی ہے، اس بارے میں فی الوقت کہا نہیں جا سکتا۔ پاور ڈویژن اور وزارتِ توانائی میں ہم آہنگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ دونوں میں بجلی کے شارٹ فال پر بھی اتفاق نہیں تو وہ اس مسئلے کا حل کیسے نکالیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرنی چاہئے کیونکہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ان کا واحد کریڈٹ تھا جو اب داؤ پر لگا ہوا ہے۔ قیامت خیز گرمی میں لوڈشیڈنگ عوام کے صبر کا امتحان بن جاتی ہے۔ لوگ پہلے ہی حکومت کی مہنگائی قابو نہ کرنے کی صلاحیت سے عاجز آئے ہوئے ہیں، اب اگر یہ معاملہ بھی گرمیوں میں مستقل شکل اختیار کر گیا تو شاید حکومت کے لئے عوامی غیظ و غضب سے بچنا محال ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -