افغانستان میں آسٹریلوی فوج کے مظالم 

افغانستان میں آسٹریلوی فوج کے مظالم 
افغانستان میں آسٹریلوی فوج کے مظالم 

  

میں نے گزشتہ روز اپنے کالم میں عرض کی تھی کہ آسٹریلوی فوج نے پچھلے 15،20برسوں میں باقی مغربی افواج کے ساتھ مل کر نہتے افغانیوں پر جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں ان کی ابجد بھی ہلاکو اور ہٹلر کے منگولوں اور نازیوں کو شرماتی ہے۔ ہیرالڈ لیمب نے چنگیز خان کی جو سوانح عمری لکھی ہے اس میں ایشیا کے خوارزم شاہی دور میں ایک ایسا واقعہ بھی لکھا ہے جسے پڑھ کر زمانہ ء طالب علمی میں بھی مجھے رات بھر نیند نہیں آئی تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ منگول جب کسی شہر پر حملہ آور ہوتے تھے تو ان کے ہر اول فوجیوں کے ہر اول میں بھی قلہ میناروں کا اژدہام پابہ سفر ہوتا تھا۔ ان میناروں میں انسانی کھوپڑیوں کو تڑنگڑوں میں بھر کر شہر کی چاروں اطراف میں بھیج دیا جاتا تھا۔ یہ بربریت آمیز نفسیاتی جنگ کا اولین مظاہرہ تھا۔ لیکن اس کی انتہا چنگیز کے پوتے ہلاکو خان کے دور میں بغداد کے محاصرے کے دوران دیکھی گئی۔ ہیرلڈ لیمب لکھتا ہے کہ تاتاری سب سے پہلے بغداد کے گلی کوچوں میں جا کر گھر گھر تلاشی لیتے تھے۔ جن ماؤں کے دودھ پیتے بچے سہم کر ماؤں کے سینوں سے چمٹے دیکھتے تھے، ان کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور ایک پنڈال میں جمع کرکے ’نیزہ بازی‘ کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔

ایک تاتاری ماں کی چیخ و پکار کے درمیان اس کی چھاتی سے لگے بچے / بچی کو کھینچ کر الگ کرتا اور بڑے زور سے اوپر ہوا میں اچھال دیتا تھا اور دوسرا تاتاری جس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا تھا وہ آگے بڑھ کر بلندی سے گرتے ہوئے بچے کو اپنے نیزے میں پرو کر پنڈال کا چکر لگاتا اور اپنی نشانہ بازی کی داد پاتا تھا…… اردو زبان کے اولین عسکری لکھاریوں میں بریگیڈیئر گلزار (بلوچ رجمنٹ) کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ راولپنڈی میں GHQ میں پوسٹنگ کے دوران گلستان کالونی، نزد مری بیریوری فیکٹری میں ان کے دولت خانے پر حاضری کے کئی مواقع ملے۔ وہ پاک فوج کے کئی اعلیٰ عہدوں (DMOاورDMI) پر بھی فائز رہے۔ اردو زبان میں ملٹری ہسٹری کے پہلے مشہور لکھاریوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے ہیرالڈلیمب کی کتاب ”چنگیز خان“ کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔  میں نے ایک ملاقات میں ان سے ذکر کیا کہ یہ کتاب میں نے زمانہ ء طالب علمی میں پڑھی تھی۔ اس کا کوئی ایسا واقعہ سنائیں جو اب تک آپ کے حافظہ میں محفوظ ہو۔ میرا سوال سن کر وہ کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر بولے: ”دودھ پیتے بچوں کو ماؤں کی گود سے الگ کرکے ہوا میں اچھالنا اور انہیں نیزے کی انی میں پرو کر اظہارِ فتح مندی کی داد پانا میرے لئے سب سے اضطراب انگیز (Disturbing) واقعہ تھا جو آج بھی مجھے لرزانے کے لئے کافی ہے“……

میری بھی ایک عمر ملٹری ہسٹری کے مطالعے میں گزری…… دوسری جنگ عظیم میں نازی افواج کے یہودیوں پر (جھوٹے سچے) ظلم و ستم کے واقعات بھی نظر سے گزرے جن پر آج بھی تبصرے اور تجزیئے کئے جاتے ہیں لیکن یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ موجودہ آسٹریلوی افواج کے سورمے ماضی کے سب ستم کاروں پر بازی لے جائیں گے۔ امریکی صدر نے جونہی یہ اعلان کیا کہ یکم مئی (2021ء) کو امریکی ٹروپس کا انخلا شروع ہو جائے گا تو ناٹو افواج کے جو ساڑھے سات ہزار ٹروپس، امریکی ٹروپس کے علاوہ تھے ان کا انخلا اور پسپائی بھی شروع ہو گئی…… اس موضوع پر آج کل ہمارے میڈیا میں بالعموم اور غیر ملکی میڈیا میں بالخصوص اتنا مواد آ رہا ہے کہ مجھے اس پر اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں لیکن جب یہ خبر پڑھی کہ آسٹریلیا نے کابل میں اپنا سفارت خانہ ہی بند کر دیا ہے اور اپنے عملے کو واپس سڈنی بلا لیا ہے تو مجھے اس واقعہ کا پس منظر جاننے کی ضرورت پڑی۔

اب یہ تفصیلات بھی فارن میڈیا پر آ رہی ہیں جنہیں میرے جیسا قاری اور ناظر پڑھ، سن اور دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ آج کی ’مہذب دنیا‘ میں کیا کسی وردی پوش سپاہ کا چہرہ بھی اتنا بھیانک ہو سکتا ہے؟…… صدر امریکہ کے اعلانِ انخلا سے پہلے ہی آسٹریلین آرمی کے ان گھناؤنے جرائم کی داستانیں میڈیا میں آنا شروع ہو گئی تھیں …… یہ تفاصیل بہت دلدوز ہیں۔ کئی اخباری کالموں اور مضامین میں تو یہ اضافی نوٹ بھی لکھ دیا جاتا ہے: ”اس تفصیل کو پڑھنے کے بعد اگر آپ کے دل کی حالت غیر ہو جائے تو اس کا ’بندوبست‘ پہلے سے کر لیں“۔

آسٹریلوی فوج کے ان جنگی جرائم کی تفصیلات آج تقریباً ہر فارن اخبار اور چینل پر آ رہی ہیں …… پاکستانی میڈیا کو بھی اس کوریج میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ ہم کینیڈا میں ایک پاکستانی نژاد خاندان کے اسلامو فوبیا کا شکار ہونے کی تفاصیل تو بتا رہے ہیں اور کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی ’زود پشیمانی‘ کے تذکرے بھی پڑھ رہے ہیں لیکن اسی طرح کے آنسو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے بھی ایک مسجد پر ایک سفید فام نیوزی لینڈر کے حملے کے بعد بہائے تھے، سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا تھا اور دست بستہ میڈیا کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھیں۔ ان کی پشیمانی شاید ان کے دل کی گہرائیوں کی غماز ہوگی لیکن کیا آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سے زیادہ دور ملک ہے؟ کیا آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن اندھے اور بہرے تھے کہ ان کو افغانستان میں اپنے فوجیوں کے افغان عورتوں اور بچوں پر مظالم ڈھانے کی رپورٹیں مل رہی تھیں اور وہ چپ تھے…… وہ تو آج بھی چپ ہیں …… عرقِ انفعال کا کوئی قطرہ ان کی پیشانی پر نظر نہیں آتا۔

دنیا کی کئی میڈیا تنظیمیں، آسٹریلوی جنگی جرائم کی چھان بین کر رہی ہیں …… ان کے مطابق اب تک اس افغان وار (2001ء تا 2021ء) میں 25000آسٹریلوی ٹروپس نے افغانوں کے خلاف آپریشنوں میں حصہ لیا ہے۔ ان فوجیوں میں سے 3000کا تعلق ’سپیشل فورسز‘ سے تھا جنہوں نے 2005ء سے لے کر 2016ء تک کابل، قندھار، ہلمند، ہرات اور دوسرے افغان صوبوں میں بے گناہ افغان شہریوں پر عرصہء حیات تنگ کئے رکھا۔ خود آسٹریلوی ذرائع کے مطابق افغانستان میں بھیجے گئے آسٹریلوی سپاہی کو قتل و غارت گری کا بپتسمہ دینے کے لئے کسی افغان شادی گھر میں بھیجا جاتا تھا جہاں وہ اس گھر میں پہلے چار پانچ دستی بم پھینکتا تھا اور جب بھگدڑ مچ جاتی تھی اور 5سال سے 10سال کے لڑکے لڑکیاں بدحواس ہو کر گلیوں میں جا نکلتی تھیں تو سپیشل فورس کا نوجوان سپاہی زندگی کا پہلا زندہ فائر کرکے ٹارگٹ کو خون میں نہلا دیتا اور اس کی تصویریں بھی بناتا تھا۔ یہ تصویریں آج بھی ان کے خلاف انکوائری رپورٹوں میں شامل ہیں۔

ایک وڈیو میں ایک ماں کی گود میں 2سال کا بچہ بیٹھا ہے۔ اس کی بڑی بیٹی کی شادی ہے۔ تمام آنگن میں گیت گائے اور ڈھولکیں بجائی جا رہی ہیں، لڑکے بالے روائتی رقص کر رہے ہیں، تالیاں پیٹنے کی آوازیں آ رہی ہیں، زرق برق لباس آنگن میں رقص کے دوران لہراتے نظر آتے ہیں …… اتنے میں ایک ناگہانی فائر کی آواز آتی ہے۔ گھر کی کچی چار دیواری سے ایک نوجوان آسٹریلوی سپاہی سرتاپا زرہ بکتر میں ملبوس آٹو میٹک سروس رائفل سے فائر کرتا ہے۔ پہلی گولی دو سال کے بچے کو لگتی ہے جو ماں کی گود سے اچھل کر دس قدم دور ہوا میں بلند ہو کر زمین پر جا گرتا ہے اور تڑپتا ہوا خون میں لت پت نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی کئی مرد و زن بھی گرتے ہیں اور پورا شادی گھر ماتم کدہ بن جاتا ہے……اس وڈیو کی بعض تصاویر اخباروں میں آتی ہیں اور ایڈیٹر ایک اضافی نوٹ کی سرخی لگاتا ہے:

Disturbing This story includes details of violence that readers may find.

یہی وجہ تھی کہ آسٹریلیا کو کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرکے سارے عملے کو واپس بلانا پڑا۔ حتیٰ کہ افغان مترجم، گارڈز اور سویلین عملہ بھی کابل سے نکال کر واپس لے جانا پڑا…… اس قسم کی سٹوریاں دی گارجین، وال سٹریٹ جرنل، دی نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، سٹار ٹربیون، دی ریکارڈر اور دی بوسٹن پوسٹ وغیرہ میں شائع ہو رہی ہیں …… ان کو دیکھ اور پڑھ کر افغان طالبان کا ردعمل کیا ہوگا اس کا تصور کچھ زیادہ محال نہیں ……

اور اب تو یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ انڈیا بھی ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے طالبان سے خفیہ مذاکرات کر رہا ہے اور افغانستان سے واپسی کا پروگرام طے کر رہا ہے!…… آج نہیں تو کل یہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی خفیہ سے ظاہر کا روپ دھار لے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -