حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ....پیکر رشد وہدایت

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ....پیکر رشد وہدایت

  

تحریر: مولانا مجیب الرحمن انقلابی

hmujeeb786@hotmail.com

 عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر، سلسلہ نقشبندیہ کے معروف بزرگ، عالم اسلام کے عظیم علمی و روحانی شخصیت، لاکھوں مریدوں کے مرشد، قطب الاقطاب، شیخ المشائخ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحبؒ  گزشتہ صدی کے بزرگوں کی آخری نشانیوں میں سے ایک تھے، آپ علم و عمل، زہد و تقویٰ، اخلاص و للہیت کے پیکر اور اہل حق کی جیتی جاگتی تصویر تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ رحمہ اللہ کو محبوبیت و مقبولیت سے خوب نوازا تھا، آپؒ ان عظیم اور خوش قسمت لوگوں میں سے تھے کہ جن کو دیکھ کر خدا یاد آئے، جن کی محفل میں بیٹھ کر انسان روحانی سکون محسوس کرتا، آپؒ کے  ”دست حق“  پر لاکھوں لوگوں نے بیعت کرتے ہوئے تذکیہ نفس کیا۔ 

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ1920ء میں موضع ڈنگ ضلع میانوالی خواجہ عمرصاحبؒ کے ہاں پیدا ہوئے، آپ ؒ کے والد خواجہ عمر اتنہائی متقی، نیک سیرت اور خدا ترس انسان تھے، آپ ؒ نے چھٹی جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد قرآن مجید اور ابتدائی دینی کتب کی تعلیم خانقاہ سراجیہ میں حاصل کی، مزید تحصیل علم کیلئے آپ ؒ جامعہ اسلامیہ ڈاھبیل تشریف لے گئے اور وہاں آپ ؒ نے حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، مولانا سید محمدیوسف بنوریؒ، مولانا حافظ عبد الرحمن امروہیؒ، مولانا ادریس سکروڈھویؒ اور مولانا عبد العزیز کیمبل پوریؒ سے جلالین، مشکوۃ شریف، ہدایہ اور مقامات حریری سمیت دیگر کتب پڑھیں، جامعہ اسلامیہ ڈاھبیل سے تعلیم کے بعد آپ ؒ دینی علوم کی تکمیل کے لئے بر صغیر کی مشہور و معروف دینی و روحانی درسگاہ ”دارلعلوم دیوبند“  تشریف لے گئے جہاں آپ ؒ نے مولانا اعزاز علی صاحبؒ اور دیگر نامور اساتذہ کے علاوہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ سے بھی پڑھنے اور ان کے شاگرد خاص ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا، مولانا حسین احمد مدنیؒ نے آپ ؒ کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ خواجہ خان محمد سے دین کا بہت بڑا کام لیں گے۔ 1941 ء میں دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کرتے ہوئے سند فراغت حاصل کر کے آپ ؒ واپس خانقاہ سراجیہ کندیاں تشریف لائے اور دینی کتب پڑھانے میں مشغول ہوگئے خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت عامہ عطا فرمائی ہے اور اس کا فیضان آج پوری دنیا میں جاری ہے لاکھوں لوگوں کے دل اس خانقاہ کے ساتھ وابستہ ہیں اس خانقاہ میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ، امیری شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا مفتی محمود صاحبؒ، علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت عبدالقادر رائے پوریؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ سمیت اپنے اپنے دور کے بڑے بڑے اکابر، علماء و صلحاء تشریف لاتے رہے، اس خانقاہ سراجیہ کے بانی حضرت خواجہ ابو سعد احمد خان ؒ ہیں جنہوں نے یہ خانقاہ اپنے مرشد و مربی حضرت خواجہ محمد سراج الدینؒ کے نام منسوب کرتے ہوئے تعمیر کی اور آج یہ خانقاہ پوری دنیا میں مشہور اور مرکز رشد و ہدایت ہے، حضرت مولانا ابو سعد احمد خانؒ نے تیس سال تک لوگوں کے دلوں کوذکر الٰہی سے منور کیا، اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ پر بھی خصوصی توجہ فرمانے کے ساتھ ساتھ اپنی صاحبزادی کے ساتھ ان کا نکاح بھی فرمایا... حضرت ابو سعد احمد خان ؒ کی وفات کے بعد مولانا عبد اللہ جانشین بنے اس دوران حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ نے بڑی تیزی کے ساتھ اپنے مربی ومرشد مولانا عبداللہ صاحبؒ سے تزکیہ و سلوک کی منازل طے کرتے ہوئے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی تحصیل و تکمیل کے ساتھ ساتھ سلسلہ قادریہ، سہروردیہ، چشتیہ اور دیگر سلاسل کی بھی خلافت سے سرفراز ہوئے آپ ؒ کے شیخ و مرشد مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ آپ ؒ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جو ”امانتیں اور خزانے میرے شیخ و مرشد حضرت ابو سعد احمد خان ؒ نے مجھے عنایت فرمائے تھے وہ سارے کے سارے میں نے مولانا خواجہ خان محمد کے سپرد کر دیئے ہیں“ آپ ؒکے مرشد و مربی مولانا عبد اللہ نے تقریبا پندرہ سال تک خانقاہ سراجبہ میں سلسلہ نقشبندیہ کو احسن طریقہ سے چلایا، ان کی وفات کے بعد حضرت خواجہ خان محمد ؒ خانقاہ سراجیہ پر مسند نشین ہوئے اور تقریبا ساٹھ سال تک مسلسل آپ ؒ کا وفات تک فیضان جاری رہا، اس خانقاہ کو اللہ نے  ”مرجع خلائق“  بنا دیا تھا خانقاہ سراجیہ میں اس خانقاہ کے بانی حضرت ابو سعد احمد خانؒ نے ایک وسیع اور عظیم لائبریری بھی قائم کر رکھی تھی جس میں انتہائی قیمتی اور نایاب کتب موجود تھیں لوگ دور دراز سے سفر کرتے ہوئے خانقاہ سراجیہ میں آکر روحانی و علمی پیاس بجھایا کرتے تھے، آپ ؒ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی 1977ء میں وفات کے بعد سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر کے منصب پر فائز ہوئے اور وفات تک اس منصب پر رہتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے خلاف پوری دنیا میں سرگرم عمل رہے، امریکہ و برطانیہ سمیت درجنوں ممالک کا سفر کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنے، آپ کی عمر 90 سال سے زائد تھی تقریبا ہر سال حج کی سعادت حاصل کرتے اب تک 65 کے قریب حج کیئے، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے دورِ امارت میں آپ ؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر کی حیثیت سے کام کیا بلکہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت ہی اس شرط کے ساتھ قبول کی تھی کہ ان کے ساتھ بطور نائب امیر حضرت خواجہ خان محمد کام کریں گے۔ آپ ؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر ہونے کے باوجود کبھی تقریر نہیں کی بلکہ خاموشی کے ساتھ ذکر و مراقبہ کرتے ہوئے سٹیج پر رونق افروز ہو کر مقررین کی تقایر غور سے سنتے اور مسکرا کر مقرر کو داد بھی دیتے۔ 

ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ آپؒ تقریر کیوں نہیں فرماتے؟ آپ ؒ نے فی البدیہہ جواب میں ارشاد فرمایا کہ جس نے مجھے سننا ہے وہ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ  کو سن لے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آپ کے دور میں خوب ترقی کی پوری دنیا میں قادیانیت کا تعاقب کرتے ہوئے کئی ممالک میں ختم نبوت کے دفاتر و مراکز قائم کیئے،آپؒ نے 1953 ء کی تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیتے ہوئے میانوالی جیل، بورسٹل جیل اور سینٹر جیل لاہور میں قید و بند کی صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا،آپؒ اہل حق کی تمام جماعتوں اور تنظیموں کے سرپرست و مربی اور بڑے بڑے علماء و قائدین خانقاہ سراجیہ میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے پاس مشورے اور دعاؤں کیلئے حاضری کو اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے، رمضان المبارک کے مہینہ میں خانقاہ سراجیہ میں ملک بھر سے ہزاروں لوگ حاضر ہوتے، اعتکاف بیٹھتے اور روحانیت کی منازل طے کرتے۔حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کا سب سے امتیازی وصف یہ ہے کہ سلسلہ نقشبندیہ کے اپنے دور میں سب سے بڑے مربی و شیخ ہونے کے باوجود بہت ہی کم بولتے تھے بلکہ کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا آپ کی ذات کا خاصہ تھا، جامعہ اشرفیہ لاہور سمیت سینکڑوں دینی مدارس کے سرپرست تھے اپنی وفات سے قبل اپنے آخری سفر لاہور میں حضرت مولانا خواجہ خوان محمد صاحبؒ جامعہ اشرفیہ لاہورکے مہتمم حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم  اشرفی مدظلہ کی درخواست پر کمال شفقت فرماتے ہوئے جامعہ اشرفیہ لاہور تشریف لائے اس موقعہ پر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے مسجد حسن کے دروازے پر جامعہ اشرفیہ،امت مسلمہ، دینی مدارس اور ملک و قوم کی سلامتی کیلئے اتنہائی رقت امیز دعاء فرمائی۔ 

 آپ  ؒ آخر وقت تک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کیلئے سرگرم عمل رہے اور علالت کے باوجو د تحفظ ختم نبوت کیلئے سفر فرماتے ہوئے جلسوں اور کانفرنسوں میں شرکت کرتے۔ لوگ کئی کئی گھنٹے جلسے میں اس لئے موجود ہوتے کہ جلسے کے اختتام پر صدر جلسہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ کی دعا میں شرکت کی سعادت حاصل ہو جائے آپ ؒ دیگر مسالک کے لوگوں کیلئے بھی قابل احترام تھے آپؒ کی قیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پروگراموں اور تحریکوں میں دیگر مکاتب فکر اور مسالک کے لوگ بھی شریک ہوتے۔۔۔ وفات کے وقت حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ کی عمر 90 برس سے زائد تھی بڑھاپے اور نقاہت کے سوا بظاہر کوئی بیماری نہ تھی لیکن آخری دنوں میں یرقان کے شدید حملہ کی وجہ سے ملتان میں زیر علاج تھے اور پھر 5مئی 2010 ء بروز بدھ بعد نماز مغرب سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی رشد و ہدایت کا یہ سورج بھی اپنے لاکھوں مریدوں کو اپنی جدائی میں روتا تڑپتا چھوڑ کر غروب ہوگیا آپؒ کی نماز جنازہ آپؒ کے بیٹے اور جانشین صاحبزادہ مولانا خلیل احمد نے پڑھائی جس میں ملک بھر سے لاکھوں افراد نے شرکت کی اور آپؒ کو خانقاہ سراجیہ کے قبرستان میں آپؒ کے مرشد مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ 

؎  خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

مزید :

ایڈیشن 1 -