حکومتی پالیسی میں عدالت مداخلت نہیں کرتی، جسٹس عمر عطاء بندیال 

حکومتی پالیسی میں عدالت مداخلت نہیں کرتی، جسٹس عمر عطاء بندیال 

  

 اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے حکومت پاکستان کی یقین دہانی پر بھارت میں 11 پاکستانی ہندووں کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس نمٹا دیا۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ عدالت وفاق کو ہدایات جاری کرے یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ یہ پالیسی میٹر ہے عدالت اس میں کوئی ہدایت نہیں دے گی۔ وکیل درخواشت گزار نے کہاکہ ان کا ایک بندہ غائب ہو تو اتنا واویلا کرتے ہیں ہمارے 11 شہری قتل ہو گئے،بھارت سے لوگ بیساکھی میلوں پر پاکستان آتے ہیں۔ وکیل در خواست گزار نے کہاکہ حالات ایسے ہی رہے تو دونوں ممالک میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دفتر خارجہ اس معاملے پر معمول کی کاروائی کر رہا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اس معاملے میں عدالت کیا کر سکتی ہے؟۔وکیل درخواست گزار سید قلب حسن نے کہاکہ چاہتے ہیں کہ وفاقی وزیر خارجہ بھارت سے اس معاملے پر بات کریں۔ عدالت نے کہاکہ وفاقی حکومت نے وزارت خارجہ کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ حکومت کے پالیسی میٹرز میں عدالت مداخلت نہیں کرتی،وزارت خارجہ کے مطابق معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔بھارت میں اہل خانہ کے قتل کیخلاف شرمتی مکھنی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -