فنڈز کی مد میں سندھ کو واجب الادا 87بلین نہیں دیئے گئے، ناصر شاہ 

فنڈز کی مد میں سندھ کو واجب الادا 87بلین نہیں دیئے گئے، ناصر شاہ 

  

کراچی(این این آئی)وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہاہے کہ سندھ70 فیصد ملک کی آمدنی میں حصہ ڈالتا ہے، پی ایس ڈی پی کا حصہ ملتا ہی نہیں،جب اپنے حصے کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں سندھ کارڈ کھیل رہے ہیں،ہم پورے پاکستان کی بات کرتے ہیں جہاں بھی نا انصافی ہوگی ہم بات کریں گے،لوڈ شیڈنگ کا برا حال ہے، حسیکو سیپکو اور کے الیکٹرک سے بجلی فراہم ہی نہیں کی جاتی،عام آدمی نہ دو وقت کی روٹی کھا سکتا ہے نہ گھر کا کرایہ دے سکتا ہے،سندھ انفراسٹرکچر کے نام سے کمپنی بناکر ان کو فنڈز دینے کی بات کی جارہی ہے،سندھ کے ساتھ ایسا کیوں؟ فنڈز کی مد میں سندھ کو واجب الادا 87بلین نہیں دیئے گئے،فہمیدہ مرزا خود 18ویں ترمیم کا کریڈٹ لیتی رہی ہیں اور آج اس ترمیم کو ریاست کے اندر ریاست کا واویلا کررہی ہیں،وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث پورے ملک سے اپوزیشن اور پی ڈی ایم رہنما جیت گئے، حکومتی پالیسیوں کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے،ہمیں وہ لوگ شہری مسائل پر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جنہوں نے 12 مئی اور بلدیہ فیکٹری میں لوگوں کو زندہ جلا دیا، ان عزائم کے بعد پھر الگ صوبے کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کووفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کو پی ایس ڈی پی میں حصہ نہیں دیا جارہا اور پھر کہا جاتا ہے کہ آپ این ایف سی سے ترقیاتی کام کروائیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ سندھ 70 فیصد حصہ ڈالتا ہے، مگر پی ایس ڈی پی میں حصہ کاٹ دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نہیں کہتے کہ آپ دیگر صوبوں کو فنڈز نہ دیں، پورا پاکستان ہمارا ہے، سب کو حق ملنا چاہیے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم سندھ کارڈ کھیلتے ہیں، ایسا نہیں ہے، ہم کہتے ہیں سندھ کاٹ نہ کیا جائے۔ سندھ کے کچھ اضلاع میں پینے کا پانی تک نہیں ملتا۔انہوں نے کہاکہ 1991 کے پانی معاہدے کا تذکرہ بہت ہوتا ہے مگر افسوس اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔ ارسا سمیت دیگر جگہوں پر شارٹیج ہوئیں تو ہمیں 50فیصد جبکہ دیگر جگہوں پر صرف 15 فیصد اور 10فیصد ہوئی۔ سندھ کے وفاقی وزرا صرف پانی کے معاملے پر پوائنٹ سکورننگ کررہے ہیں۔

ناصر شاہ 

مزید :

صفحہ آخر -