اثاثہ جات کیس، محمد صفدر کو گرفتاری سے ایک ہفتہ قبل نوٹس دینے کی ہدایت

اثاثہ جات کیس، محمد صفدر کو گرفتاری سے ایک ہفتہ قبل نوٹس دینے کی ہدایت

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کی مس جسٹس عالیہ نیلم اور مسٹر جسٹس شہباز علی رضوی نے آمدنی سے زائد اثاثوں کے کیس میں کیپٹن (ر)محمد صفدر کی طرف سے دائرعبوری ضمانت کی درخواست نیب کے پراسیکیوٹر کے بیان پر نمٹاتے ہوئے نیب کوہدایت کی کہ کیپٹن (ر)محمدصفدر کوگرفتاری سے ایک ہفتہ قبل نوٹس دیاجائے،دوران سماعت نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کوبتایا کہ کیپٹن صفدر کی ابھی گرفتاری کی ضرورت نہیں، فاضل جج نے کہا کہ آپ کے بیاں کی روشنی میں درخواست نمٹا رہے ہیں، اگر نیب کیپٹن (ر)محمدصفدر کو گرفتار کرنا چاہے تو ایک ہفتہ قبل انہیں آگاہ کیاجائے،فاضل جج بنچ نے کیپٹن (ر)محمدصفدر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت شروع کی تو کیپٹن (ر) محمد صفدر اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تھے،درخواست گزرا کا موقف تھا کہ نیب لاہور نے آمدنی سے زائد اثاثوں کے کیس میں دس مارچ کو طلبی کا نوٹس بھجوایا، آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری نیب پشاور میں بھی زیر التوا ہے، پشاور ہائیکورٹ میں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں عبوری ضمانت دائر کررکھی ہے، ایک ہی

 معاملہ پر دو صوبوں میں انکوائری نہیں چل سکتی،  سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، پولیس کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمات بھی بھگت رہا ہوں، عدالت سے استدعاہے کہ نیب کی انکوائری میں شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں عبوری ضمانت منظور کی جائے۔دوسری جانب  لاہورہائی کورٹ میں پیشی کے بعد کیپٹن (ر)محمدصفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے وکیل کا شکریہ کرتا ہوں جنہوں پورے ریکارڈ سے عدالت کو مطمئن کیا،دس انکوائریاں بھی کریں تو نیب کو کچھ نہیں ملے گا،انہوں نے مزید کہا کہ مانسہرہ کی ایک زمین جو والد کی تھی اور وہ  26 سال پہلے خریدی  خالی پلاٹ دیکھ کر ایک گریڈ 22 کے افسرکے منہ میں پانی آ گیا،وہ ایک اقلیتی گروہ کا وکیل بھی رہاہے،اقلیتی گروہ میرے پیچھے پڑا ہے،نیب سے سوال ہے کہ کیا انہیں ہم ہی نظر آ رہے ہیں،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے پیچھے پیپلز پارٹی نے نماز پڑھنے سے انکار کر دیا کیا۔

محمد صفدر

مزید :

صفحہ آخر -