اثاثہ جات کیس، ملزم جنید ارشدکے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

اثاثہ جات کیس، ملزم جنید ارشدکے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج اسدعلی نے 80 کروڑ سے زائد آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں ایم ایس پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو ملزم سابق ڈی آئی جی سید جنید ارشد کو مکمل میڈیکل رپورٹس کا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیدیا عدالت نے ریفرنس کے آخری گواہ نیب تفتیشی افسر کو جرح کے لئے طلب کررکھا ہے عدالت نے جنید ارشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کرتے ہوئے ملزم کو 24 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیاہے  نیب کے پراسیکیوٹر حارث قریشی اورنیب کے گواہ گواہ تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے،ملزم جنید ارشد کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش نہیں کیا گیاجبکہ ان کے وکیل کی طرف سے حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ جنید ارشد کو دل کا عارضہ لاحق ہے  ملزم کو میڈیکل رپورٹس فراہم نہیں کی جارہی، جیل انتظامیہ کہ جانب سے عدالتی حکم پر پی آئی سی انتظامیہ کو میڈیکل ریکارڈ دینے کیلئے ریمانڈ بھی بھیجا گیا، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے جنید ارشد کا میڈیکل ریکارڈ ابھی تک فراہم نہیں کیا، عدالت سے استدعاہے کہ میڈیکل رپورٹ سے متعلق اسپتال انتظامیہ کو ڈائریکشن جاری کی جائے،جس پر عدالت نے مذکورہ بالاحکم جاری کردیا۔

واضح رہے کہ عدالت کے روبرو ملزم جنید ارشد کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کی جاچکی ہیں،ملزم جنید ارشد پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے،نیب کے مطابق ملزم جنید ارشد نے دوران ملازمت مبینہ طور پر اختیارات اور عہدے کے ناجائز استعمال سے کروڑوں روپے کے اثاثے بنائے۔

مزید :

علاقائی -