پی ایم اے نے پاکستان میڈیکل کمیشن کی تشکیل کو مسترد کر دیا

پی ایم اے نے پاکستان میڈیکل کمیشن کی تشکیل کو مسترد کر دیا

  

لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کی مرکزی کونسل کے ہنگامی ورچوئل اجلاس کی صدارت پی ایم اے کی مرکزی صدر ڈاکٹر سلمہ اسلم کنڈی نے کی۔اجلاس نے متفقہ طور پر پی ایم ڈی سی کی تحلیل کے بعد پاکستان میڈیکل کمیشن کی تشکیل کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم سی ریگولیٹری باڈی کی بجائے کمیشن کا درجہ رکھتی ہے جس کے تحت طبی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو بہت زیادہ اختیارات سے نوازا گیا ہے۔اجلاس میں پی ایم سی کے اُس فیصلے کو بھی متفقہ طور پر رد کیا گیا جس کے تحت پاکستان میں ہر ڈاکٹر کی  بایو میٹرک اور قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کو لازم قرار دیا گیا ہے۔کونسل کے ممبران نے میڈیکل گریجوئٹس کیلئے نیشنل لائسنسنگ ایگزام (این ایل ای) کے انعقاد کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ضروری اور اضافی بوجھ قرار دیا ہے۔کونسل ممبران کی نظر میں ایم ایم بی ایس پاس کرنے کے بعد کسی ایسے امتحان کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔مرکزی کونسل نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اگر بایو میٹرک اور قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کا فیصلہ واپسنہ لیا گیا تو پھر پی ایم اے، وائے ڈی اے، پیما اور دیگر طبی تنظیموں کے ساتھ ملکر اس کے خلاف پورے پاکستان میں احتجاج کرے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -