حکومت نے بجٹ اہداف میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا،مقررین

حکومت نے بجٹ اہداف میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا،مقررین

  

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے زیر اہتمام پری بجٹ پر ایک ویبینار منعقد کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر جواد اقبال ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، پروفیسر ڈاکٹر عثمان مصطفی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامک (EDIP) اسلام آباد، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد، پنجاب یونیورسٹی لاہور، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اسد افضل اور کامسٹس یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے محمد ہمایوں بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر محمد عمران رشید نے ویبنار کی میزبانی(بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

 کی جبکہ اساتذہ، طلباء، ماہرین تعلیم، اور اسکالرز کے شرکاء کی ایک بڑی تعداد نے اس پروگرام میں شرکت کی۔شرکاء نے سال 2021-2022 کے وفاقی حکومت پاکستان کی جانب سے آئندہ بجٹ کے حوالے سے متعدد نکات پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے کہا کہ شدید وبائی COVID-19 کے انتہائی منفی اثرات کے باوجود حکومت نے اپنے بجٹ کے اہداف کو حاصل کرنے میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت نے 4000 بلین روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا ہے۔ پچھلے سال برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، ترسیلات زر کو تاریخی سطح تک بڑھا دیا گیا ہے، ایف ڈی آئی میں اضافہ کیا گیا ہے اور اسٹاک ایکسچینج حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے اور ہر دوسرے دن نئے ریکارڈ حاصل کررہی ہے۔ تاہم پچھلے سال معیشت کے ان مثبت پہلوؤں کے باوجود، افراط زر میں اضافہ ہورہا ہے اور درآمدات بھی خطرناک سطح تک بڑھ گئیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر حکومت کو امازون کے بیچنے والے کی فہرست میں شامل کرنے پر حکومت کی تعریف کی جس سے ملک میں ای کامرس کو فروغ دینے کا امکان ہے۔شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک میں محصول وصول کرنے کیلئے ایک نیا تاریخی بلند ترین ہدف طے کیا ہے۔ حکومت نے برآمد دوستانہ پالیسیاں لانے، اور کاروبار دوست ماحول کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے ہاؤسنگ سیکٹر کو سبسڈی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت میں رہائش کے شعبے کو تقویت ملے گی بلکہ اس سے ملک میں سیمنٹ، بجلی کے سازوسامان، ٹائلیں، فرنیچر، سمیت دیگر بہت سے متعلقہ صنعتوں کو ترقی ملے گی۔حکومت نے یوتھ لون کے لئے ایک خصوصی پالیسی متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے جس سے پاکستان میں نئے کاروبار کی نشوونما ہوگی اور کاروبار اور جدت کو فروغ ملے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 900 بلین روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی معیشت کو آگے لے جائیگا۔شرکاء کا مؤقف تھا کہ حکومت کو نہ صرف اداروں کیلئے بجٹ مختص کرنا چاہئے بلکہ اسے ملک میں اداروں کی صلاحیت میں اضافے پر بھی کام کرنا چاہئے۔ اداروں کو مختص بجٹ کو موثر انداز میں خرچ کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔ اس مقصد کیلئے حکومت کو پاکستان کی معاشی ترقی میں اکیڈمیا کے کردار میں اضافہ کرنا چاہئے۔ اعلی تعلیمی اداروں کو زیادہ بجٹ مختص کیا جانا چاہئے اور ملک کیلئے پالیسی سازی میں شامل ہونا چاہئے۔ شرکاء کا خیال تھا کہ موجودہ صدی ''علم اقتصادیات'' کی صدی ہے۔ لہذا حکومت تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی پر زیادہ خرچ کرکے پاکستان کو علم کی معیشت بنانے کی طرف اپنی توجہ مبذول کرائے۔ اگرچہ یہ ایک حیرت انگیز علامت ہے کہ موجودہ حکومت نے دو لاکھ نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا ہے لیکن حکومت کو اس شعبے میں بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کوئی حل نہیں ہے لیکن حکومت کو ان کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ 

مقررین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -