سیلانی ٹرسٹ کے آئی ٹی منصوبہ کیلئے ہرممکن مدد کریں گے،خواجہ صلاح الدین

سیلانی ٹرسٹ کے آئی ٹی منصوبہ کیلئے ہرممکن مدد کریں گے،خواجہ صلاح الدین

  

 ملتان (نیوز  رپورٹر) ایوان تجارت و صنعت ملتان کے صدر خواجہ صلاح الدین نے کہا ہے کہ مخلوق خداسے پیار دکھ تکلیف میں اسے ریلیف دے کر اللہ کی قربت حاصل کی جاسکتی ہے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی انسانیت کے لیے خدمات فراموش نہیں کی جا سکتیں ملتان میں سیلانی (بقیہ نمبر20صفحہ6پر)

ٹرسٹ کے آئی ٹی منصوبہ کے لیے ہر ممکن مدد کریں گے سیلانی ویلفیئر قومی سطح پر خدمات سرانجام دے رہی ہے ان کی سماجی و انسانیت کے لیے خدمات ملک کی پہچان ہے اور ہمارے لیے فخر کا باعث ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کراچی کے چیئرمین مولانہ بشیر فاروقی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے سیلانی ٹرسٹ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وفد میں افضل چانڈیو ایڈوائزری چیئرمین،امین لاکھانی،رفیق سلیمان بورڈ ممبراور عمر نواز خان بابر شامل تھے جبکہ سینیئر نائب صدر ایوان سید افتخار علی شاہ،سابق سینیئر نائب صدر میاں راشد اقبال،ایگیزیکٹو کمیٹی ممبر شیخ فیصل سعید،سیکرٹری جنرل ایوان محمد شفیق موجود تھے چیئرمین سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ مولانہ بشیر فاروقی نے سیلانی ٹرسٹ کے بارے میں تفصیلا آگاہ کیا اور کہا کہ سیلانی ٹرسٹ خوراک،تعلیم اور صحت کے شعبوں پر کام کرتا ہے حکومت نے لنگر خانوں کی ذمہ داری ہمیں سونپی ہے ملتان میں بھی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے لنگر خانے کے لیے جگہ فراہم کی اور وہاں سیلانی ٹرسٹ اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے انہوں نے کہا کہ اب ملتان میں آئی ٹی کے حوالہ سے سیلانی ٹرسٹ میگا پراجیکٹ کا خواہاں ہے جبکہ لنگر خانہ سمیت آئی ٹی پراجیکٹ کے لیے ایوان تجارت و صنعت ہماری مدد کرے صدر ایوان خواجہ صلاح الدین نے ایوان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ایوان کی فلاحی امور کی کمیٹی پہلے ہی فلاحی سماجی خدمات کے لیے سرگرم کردار ادا کررہی ہے سید افتخار علی شاہ نے کہا کہ سیلانی ٹرسٹ عظیم سماجی خدمات کا منبع اور شفاف صاف خدمت خلق کا قومی ادارہ ہے ان کی خدمات کو سراہتے ہیں شیخ فیصل سعید نے کہا کہ آئی ٹی کے حوالہ سے سیلانی ٹرسٹ پروگرام شیئر کرے اور ہمارے ساتھ ایم او یو دستخط کرے تاکہ ہم اس منصوبہ کے لیے ہر ممکن سہولیات دینے کی کوشش کریں صدر ایوان خواجہ صلاح الدین نے چیئرمین سیلانی ٹرسٹ کو ایوان کا نشان بھی پیش کیا ۔

 صلاح الدین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -