بار اور بینچ کا کام انصاف فراہم کرنا ہے، جسٹس شاہد جمیل

بار اور بینچ کا کام انصاف فراہم کرنا ہے، جسٹس شاہد جمیل

  

 ملتان (خصو صی رپورٹر)سینئر جج لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ مسٹر جسٹس شاہد جمیل نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی طرف سے ججز کے اعزاز میں دی گئی چائے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بار کی نو منتخب ایگزیکٹیو کمیٹی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ملتان کی مٹی اور ملتان کے لوگوں کی خوش اخلاقی،خلوص اور بالخصوص بنچ سے مکمل تعاون خوش آئند ہے قانون کی عملداری (بقیہ نمبر48صفحہ6پر)

میں ملتان بار پاکستان میں سر فہرست ہے۔ پاکستان میں جس طرح ملتان کا ایک الگ مقام ہے اسی طرح لاہور ہائیکورٹ کے علاقائی بینچز میں ملتان بینچ کی اہمیت بھی الگ ہے۔ وکلا سمجھتے ہیں کہ وہ جوڈیشری سے علیحدہ ہیں بینچ بار سے ہی نکل کر آتا ہے دونوں نے ملکر سائلین کو فوری انصاف فراہم کرنا ہے ہمیں ملکر اس ادارے کی بھی حفاظت کرنی ہے، آئین کے مطابق جو ڈیوٹی مقرر ہے وہ پوری کرنی ہے، وکلا کہتے ہیں کہ ہمیں سڑکوں پر نکلنا ہے میرے خیال میں سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت تب ہوتی ہے جب الفاظ ختم ہوجائیں یہ کالا کوٹ پہن کر ہم قانون کے مطابق بہتر دلائل دے سکتے ہیں۔ عدلیہ بحالی کی لڑائی سڑکوں پر نکل کر لڑی لیکن اب معاملات سڑکوں کی بجائے دلائل سے حل کرنے چاہیں، وکلا کی طاقت کتاب اور جگہ لائبریری اور عدالتی کمرہ ہے۔ فیصلہ انصاف کے مطابق ہونا چاہیے۔ بطور وکیل ایک قانونی حد مقرر ہے جس کے اندر رہ کر کام کرنا ہے،بطور جج خواہش ہے کہ کوئی غلط بیانی سے فیصلہ حاصل نہ کرے، جتنا بھی بڑا آفیسر ہو وکیل سے دو قدم پیچھے کھڑا ہوتا ہے جو عدالت کی اجازت سے بولتا ہے۔ یہ قانون کی طاقت ہے۔ پیٹیشن سے متعلق وکیل کو نشاندہی کرنی چاہیے اور اس متعلق قانون بھی پڑھ کر آنا چاہیے کہ عدالت کیا حکم دے سکتی ہے، صدر اور جنرل سیکرٹری کو درخواست کی تھی کہ ججز کی تعریف یا ان پر تنقید کرنی ہو تو انفرادیت کی بجائے بینچز پر بات کریں۔ فیصلے سناتے وقت ججز کو اللہ کی طرف سے عطا بھی ہوتا ہے اور انکے سامنے متاثرہ کے ظلم واضح ہوتے ہیں پھر وہ قانون میں رہتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں، وکیل نے کہا ریلیف دو میں نے کہا کیا تم فقیر ہو جو مانگ رہے ہو تم وکیل ہو تمھیں ریلیف حاصل کرنا ہے مانگنا نہیں ہے۔ قبل ازیں صدر ہائیکورٹ بار سید ریاض الحسن گیلانی نے کہا ہے کہ وہ آئین و قانون کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، وکلا اداروں کے خلاف کاروائی کرنے والے وکلا تحریکوں کی تاریخ کو اچھی طرح یاد رکھیں،ملتان بینچ کے ججز نے گزشتہ تین روز میں چھ سو سے زائد کیسز کی سماعت کرکے فیصلے کیے۔ پہلی ترجیح نوجوان وکلا ہیں۔ انکی غلطی پر انہیں تنبیہ کیا جائے نہ کہ سزا دی جائے کیونکہ مقصد انکی اصلاح ہے۔ وکلا اور ججز نے ملکر انصاف کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے ہیں۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار سجاد حیدر میتلا نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کی ملتان کے لیے کاوشیں قابل تحسین ہیں انکی خدمات کو ہمیشہ یار رکھا جائے۔ ہائیکورٹ بار انکے شایان شان جلد تقریب کا انعقاد بھی کرے گی۔ اس موقع پر گرمی کی شدت اور ائیر کنڈیشنر کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے تقریب کو مختصر کردیا گیا آخر میں ججز اور وکلا کے لیے چائے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب میں ملتان بینچ کے ججز مسٹر جسٹس مرزا وقاص رف، مسٹر جسٹس سردار احمد ندیم، مسٹر جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر،مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ،  مسٹر جسٹس رسال حسن سید، مسٹر جسٹس شکیل احمد،مسٹر جسٹس احمد ندیم ارشد اور مسٹر جسٹس محمد رضا قریشی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد رمضان خالد جوئیہ، اے اے جی احمد ندیم گھیلا، سینئر قانون دان حبیب اللہ شاکر، ممبر پاکستان بار کونسل مرزا عزیز اکبر بیگ، ممبر پنجاب بار کونسل خواجہ قیصر بٹ اور وکلا کی کثیر تعداد موجود تھی۔

شاہد جمیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -