بجلی مہنگی نہ نیا ٹیکس، امریکہ سے پیسے نہیں تجارت چاہتے ہیں، مہنگائی روکیں گے، شوکت ترین، 8ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ آج پیش کیاجائیگا

    بجلی مہنگی نہ نیا ٹیکس، امریکہ سے پیسے نہیں تجارت چاہتے ہیں، مہنگائی ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے جوبائیڈن انتظامیہ کو پاکستان کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکا سے پیسے نہیں بلکہ تجارت چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے، ہم اور اپنے ذرائع سے ریونیو بڑھائیں گے۔ بجلی کی قیمت بحائیں گے نہ ہی کوئی نیا ٹیکس لگایا جائیگا  ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں، دونوں کی منزل ایک ہے، ہم غریب طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے، عالمی مالیاتی ادارے کو ریونیو بڑھانے کیلئے متبادل پلان پیش کر دیا ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت مستحکم ہوئی، بیشتر اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ایک بلین ڈالر سے زائد ہو چکے ہیں۔ گیس بجلی، تعمیراتی اور زرعی شعبے میں مراعات دیں۔ اب مہنگائی کو روکنے کی کرکوشش کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مالی سال 21-2020 کا قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت بہتراور ہم استحکام کی طرف بڑ ھ رہے ہیں،گندم، چینی، دالیں، گھی درآمد کررہے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہیں،بچ نہیں سکتے،عالمی منڈی میں گندم کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ ہوا تو ہمیں بھی 29 فیصد ہی بڑھانی پڑی اس میں فرق نہیں،ہم قیمتیں کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں،یہ ابھی بھی زیادہ ہیں جس کا اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے،بجٹ میں غریب پر توجہ دی گئی ہے،،زرعی شعبے اشیائے خورونوش کے گودام اور کولڈ اسٹوریج لارہے ہیں جس سے آڑھتیوں سے جان چھوٹے گی، ہم 4 سے 5 اہم چیزوں، گندم، چینی، دالیں میں اسٹریٹجک ریزرو بنا رہے ہیں،کووڈ میں 2 کروڑ افراد بے روزگار ہوئے،احساس پروگرام کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک کروڑ 50 لاکھ گھرانوں تک پہنچایا،ایمرجنسی کیش اور دیگر مراعات دی گئیں،وزیراعظم کے کامیاب جواب پروگرام سے ساڑھے 8 سے 9 ہزار افراد مستفید ہوچکے ہیں،رواں مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی،ترسیلات زر 26 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں، ہمارے اندازے کے مطابق 29 ارب ڈالر تک جائیں گی،قرضوں میں اضافہ گزشتہ برس کے مقابلے نصف سے بھی کم ہے،مارچ کے بعد سے ماہانہ بنیاد پر ٹیکس کلیکشن کی نمو 50 سے 60 فیصد زیادہ ہے، ٹیکس کلیکشن تخمینے سے بڑھنے کا امکان ہے،ہم 47 کھرب روپے کے تخمینے سے بھی آگے نکل جائیں گے، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اچھی کارکردگی ہے،آئندہ جائزاتی اجلاس میں ہمیں ریلیف مل جائیگا، میں اس وقت پیش گوئی نہیں کرسکتا ہم گرے سے وائٹ لسٹ پر آجائیں گے،کب تک ہم معیشت مستحکم کرنے میں لگے رہیں گے معیشت کا پہیہ تیز چلا کر جب شرح نمو 7 سے 8 فیصد پر لے جائیں گے اسی وقت نوجوان نسل کو درکار روزگار فراہم کرسکیں گے،۔ وہ جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار، احساس پروگرام کی چیئرپرسن و سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد  اور معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ مالی سال 2021 کا آغاز عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے مؤثر پالیسی کی بدولت کووِڈ کے اثرات کو زائل کیا اور گزشتہ برس جولائی میں معاشی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوگئیں۔شوکت ترین نے بتایا کہ جب کووِڈ 19 شروع ہوا اس وقت تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ افراد برسرِ روزگار تھے جن کی تعداد گر کر 3 کروڑ 50 لاکھ پر آگئی یعنی 2 کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ کووڈ سے متعلق وزیراعظم کی بڑی محتاط قسم کی پالیسیاں تھیں جس پر بہت سے ممالک نے عمل نہیں کیا بلکہ خود ہمارے ملک میں ابتدا میں اس پر شک و شبہ ظاہر کیا جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کی بدولت اکتوبر 2020 میں برسر روزگار افراد کی تعداد دوبارہ 5 تقریباً کروڑ 30 لاکھ ہوگئی اس کا مطلب ساڑھے 5 کروڑ میں سے 25 لاکھ کے قریب لوگ باقی رہ گئے اور معیشت بھی بحالی کی جانب گامزن ہونا شروع ہوگئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں حکومت کا اپنا اندازہ 2.1 فیصد شرح نمو کا تھا جبکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا تخمینہ تو اس سے بھی کم تھا لیکن حکومت نے جو فیصلے لیے مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، زراعت اور تعمیراتی شعبے کو گیس، بجلی اور دیگر مد میں مراعات دی گئیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ نے مثبت نمو کا مظاہرہ کیا جو تقریباً 9 فیصد تھی۔انہوں نے کہاکہ زراعت نے 2.77 فیصد نمو کی حالانکہ کپاس خراب ہونے کی وجہ سے ہمیں نمو منفی ہونے کا اندیشہ تھا لیکن باقی 4 فصلوں، گندم، چاول، گنا اور مکئی نے بہتر کارکردگی دکھائی۔انہوں نے کہا کہ ترسیلات زرِ نے ریکارڈ قائم کردیا اور اس وقت ترسیلات زر 26 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں اور ہمارے اندازے کے مطابق 29 ارب ڈالر تک جائیں گی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم آچکی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر جو 19-2018 میں 7 ارب ڈالر پر چلے گئے تھے اب 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے اچھی کارکردگی ہے اور ہمارا خیال ہے کہ آئندہ جائزاتی اجلاس میں ہمیں ریلیف مل جائے گا، میں اس وقت یہ پیش گوئی نہیں کرسکتا کہ ہم گرے سے وائٹ لسٹ پر آجائیں گے لیکن ان کی کمیٹیوں سے ملنے والا فیڈ بیک خاصہ تسلی بخش ہے۔انہوں نے کہاکہ  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس کلیکشن بھی بہت بہتر ہے اور 11 ماہ کے دوران ہم 42 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں جو گزشتہ برس سے 18 فیصد زائد ہے حالانکہ مالی سال کے آغاز میں کسی کو اتنا بہتر ہونے کا اندازہ نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ مارچ کے بعد سے ماہانہ بنیاد پر ٹیکس کلیکشن کی نمو 50 سے 60 فیصد زیادہ ہے اس لیے ہمارا اندازہ ہے کہ ہم 47 کھرب روپے کے تخمینے سے بھی آگے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا اسی اندازے کی بنیاد پر اگلے سال کے بجٹ میں یہ تخمینہ 58 کھرب روپے رکھا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہول سیل مارکیٹ میں لوگ بہت زیادہ مارجن بنا رہے ہیں جسے ہم ختم کرنا چاہتے ہیں ہم زرعی شعبے اشیائے خورونوش کے گودام اور کولڈ اسٹوریج لارہے ہیں جس سے آڑھتیوں سے جان چھوٹے گی اور ہم 4 سے 5 اہم چیزوں، گندم، چینی، دالیں میں اسٹریٹجک ریزرو بنا رہے ہیں تا کہ ذخیرہ اندوزی نہ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہماری اسٹاک مارکیٹ ایشیا میں سب سے بہترین ہے، شرح سود میں اضافہ، ایکسچینج ریٹ بڑھنے سے قرضوں کی ادائیگیاں 15 سو ارب سے بڑھ کر 3 ہزار ارب روپے تک جا پہنچیں۔۔وزیر خزانہ نے کہا کہ احساس پروگرام کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک کروڑ 50 لاکھ گھرانوں تک پہنچایا اور اس میں ایمرجنسی کیش اور دیگر مراعات دی گئیں۔اسی طرح وزیراعظم نے کامیاب جواب پروگرام کا اجرا کیا جس سے ساڑھے 8 سے 9 ہزار افراد مستفید ہوچکے ہیں،۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جو ممالک پائیدار ترقی کرتے ہیں انہوں نے ہی 20 سے 30 سال تک مستحکم نمو کی ہے جبکہ ہماری نمو پیسے ادھار لے کر، کریڈٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور 4 سے 5 سال بعد ہم دوبارہ وہیں کھڑے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے غریب شخص کے لیے گھر، کاروبار، صحت سہولیات، اسکل ڈیویلپمنٹ صرف خواب ہی رہ جاتا ہے لیکن اس مرتبہ آپ بجٹ میں دیکھیں گے کہ ہم نے اس پر توجہ دی ہے، جو پہلے اس لیے نہیں ہوا کہ انہیں طریقہ نہیں آتا تھا لیکن ہم اب طریقہ سکھائیں گے۔۔

اقتصادی سروے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)مالی سال 22-2021 کا 8ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے سلسلہ میں تمام انتظامات کوحتمی شکل دیدی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بجٹ میں سود کی مد میں ادائیگیوں کے لیے 3 ہزار 105 ارب روپے اور دفاع کے لیے 1330 ارب روپے مختص کرنے اورایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 829 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال برآمدات کا ہدف 26 ارب 80 کروڑ ڈالر اور درآمدات کا ہدف 55 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھا جائے گا۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ترسیلات زر کا ہدف 31 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر ہو سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گرانٹس کی مد میں 994 ارب روپے اور سبسڈیز کی مد میں 501 ارب روپے مختص کرنے اور جی ڈی پی کا ہدف 4.8 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔رواں سال بجٹ میں افراط زر کا ہدف 8 فیصد، صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 6.8 فیصد اور مینو فیکچرنگ شعبے کی ترقی کا ہدف 6.2 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔بجٹ میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 16 فیصد اور نیشنل سیونگز کا ہدف 15.3 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ

مزید :

صفحہ اول -