دنیا میں آئندہ جنگیں صرف روبوٹس ہی لڑ سکتے ہیں، لیبیا میں تجربہ ہو چکا، اقوام متحدہ رپورٹ میں انکشاف

دنیا میں آئندہ جنگیں صرف روبوٹس ہی لڑ سکتے ہیں، لیبیا میں تجربہ ہو چکا، اقوام ...

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) دنیا میں آئندہ جنگیں صرف رولوٹس بھی لڑ سکتے ہیں اور اس قسم کی ”خود مختار ڈرونز“ کے ذریعے ایک لڑا ئی پہلے ہی لیبا میں لڑی جا چکی ہے۔ اس نمائندے نے اقوام متحدہ کی ابھی تک برسرعام نہ آنیوالی رپورٹ حاصل کی ہے جس میں اس کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔ امریکہ نے زیادہ تر افغان جنگ اور کچھ حد تک عراق اور شام میں ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کئے تھے،یہ ڈرونز سائنسی زبان میں روبوٹس ہی تھے، جنہیں انسان اپنا ٹارگٹ مقرر کرکے روانہ کرتے تھے،لیکن اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انسانوں کی طرف سے آغاز کرنے کے بعد جو ”خود مختارڈرونز“ حرکت میں آئے ان کو پھر انسانوں نے کنٹرول نہیں کیا اور اپنی انٹیلی جنس استعمال کرکے اپنے حملوں کی تفصیلات کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرتے رہے، مارچ 2020ء میں جب پوری دنیا ”کووڈ 19“ کے نرغے میں آ چکی تھی،لیبیا کے میدان جنگ میں محدود پیمانے پر روبوٹس نے خود مختاری کیساتھ یہ ٹرائی لڑی تھی جس کا بیرونی دنیانے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اسوقت سرکاری وفادار فوج نے ترکی کے بنے ہوئے ”ایس ٹی ایم کارگو2“ کہلانے والے ڈرونز کے ذریعے لیبیا کے سابق فیلڈ مارشل خلیفہ ہفتار سے وفادار فوجی قافلے کی گاڑیوں اور سازو سامان کو تباہ کیا تھا۔ لیبیا کی فوجی پابندیوں کی خلاف ورزی کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ نے ایک پینل تشکیل دیا تھا جس نے آزاد مبصرین کے ذریعے معلومات حاصل کیں اور اس کا تجزیہ بھی کرایا۔ مبصرین کی تفتیش میں پتہ چلا کہ چار روٹر والے ڈرونز کو ”خود مختار موڈ“ پر پروگرام کیا گیا کہ وہ مزید انسانی مداخلت کے بغیر فرار ہونیوالی فوجی گاڑیوں اورسامان کے قافلے کو نشانہ بنا کر تباہ کرے۔ اس طرح پہلی مرتبہ انسانوں کے آغاز کرنے کے بعد روبوٹس نے خود مختار لڑائی لڑ کر انسانوں کے مزید عمل دخل کے بغیر سائنسی دنیا میں ایک نئی مثال رقم کر دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی اور انسانی حقوق کے ماہرین کو برابرکا خوف پیدا ہو گیا ہے کہ کس طرح آئندہ روبوٹس کو ایک دفعہ متحرک کرکے انسانی مداخلت کے بغیر ان کے ذریعے لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔ ماہرین کیلئے تشویشناک بات یہ ہے  کہ صرف امریکہ، روس یا چین جیسی بڑی فوجی طاقتیں روبوٹس کے ذریعے جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں یا رکھ سکتے ہیں ”خود مختار ڈرون ٹیکنالوجی“ دیگرکم فوجی طاقت والے ممالک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے پینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈرونز کی اس سستی اور موثر ٹیکنالوجی استعمال میں مہارت حاصل کرنیوالے ممالک میں ترکی پیش پیش ہے جو صدر اردگان کی خارجہ پالیسی سے عین مطابقت رکھتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور مغربی اثر رسوخ کم ہونے کے بعد لیبیا، شام، ویسٹ افریقہ کیساتھ افغانستان میں یہ خلاء ترکی پر کررہاہے۔ اسکا ایک ثبوت افغانستان میں قیام امن کی ایک عالمی کانفرنس کی ترکی کی طرف سے میزبانی ہے۔

روبوٹس جنگ 

مزید :

صفحہ اول -