جی ڈی پی کا 4 فیصد تعلیم کو دیا جائے،اظہار کلیم اللہ 

     جی ڈی پی کا 4 فیصد تعلیم کو دیا جائے،اظہار کلیم اللہ 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)اسلامی جمعیت طلبہ خیبر پختونخوا نے مطالبہ کیا ہے کہ جی ڈی پی کا 4 فیصد تعلیم کو دیا جائے، صوبہ بھر میں نئے کالجز تعمیر کئے جائے جبکہ طلبہ کو درپیش دیگر مسائل فوری حل کیے جائیں بصورت دیگر احتجاج پر مجبور ہونگے پشاور پریس کلب میں اسلامیہ جمعیت طلبہ خیبر پختونخوا کے ناظم اظہار کلیم اللہ، صوبائی جنرل سیکرٹری اعجازالحق سورانی،ناظم پشاور کاشف حسن زئی اور ترجمان محمد حسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اپنے جی ڈی پی کا 4 فیصد تعلیم پر خرچ کررہی ہیں جنوبی ایشیاء اور ہمارے پڑوس کے ممالک بھی ہم سے زیادہ تعلیم پر خرچ کررہی ہیں لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ اس سال کے بحٹ میں تعلیم کیلئے 4 فیصد مختص کیا جائے انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں بالحصوص اور نئے ضم شدہ اضلاع میں بالعموم نئے کالجز کی تعمیر کی جائے کیونکہ موجود کالجز کی تعداد بہت کم ہے جبکہ طلبہ کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے  لہذا صوبائی حکومت اس سال کے بحٹ میں نہ صرف نئے کالجز کی تعمیر کیلئے فنڈ مختص کریں بلکہ نئے کالجز کی تعمیر کو بھی یقینی بنایئے۔۔انہوں مطالبہ کیا کہ حکومت ایچ ای سی کو انکے ڈیمانڈ کے مطابق فنڈ دیں کیونکہ کم فنڈ دینے کی وجہ سے یونیورسٹیز مالی بحران کا شکار ہے اور اسکی وجہ سے آئے روز فیسوں میں اضافہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے تعلیم غریب طلبہ علم کے استطاعت سے باہر ہونے لگا ہے اور فیسوں میں اضافہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کے فیسیں ایک دوسرے کے برابر پہنچ چکی ہیں تاہم حکومت پرائیویٹ یونیورسٹیز کی معیار تعلیم اور مالی معاملات سمت دیگر چیزوں کی نگرانی کیلئے صوبائی سطح پر ایک کونسل کا قیام عمل میں لائے تاکہ وہ انکے معیار تعلیم اور فیسوں سمت تمام معملات کی نگرانی کریں انہوں پچھلے سال کوویڈ کے دوران طلبہ سے لیے گئے فیسوں کو اس سال کے فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے اور وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم اور فیس ریمبسمنٹ کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کیا بھی کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -