ہندو کمیونٹی کی شادی کا بل، نئے قانون کے نفاذ سے قبل آگاہی کیلئے سیمینار کا انعقاد

ہندو کمیونٹی کی شادی کا بل، نئے قانون کے نفاذ سے قبل آگاہی کیلئے سیمینار کا ...
ہندو کمیونٹی کی شادی کا بل، نئے قانون کے نفاذ سے قبل آگاہی کیلئے سیمینار کا انعقاد

  

عمرکوٹ (سید ریحان شبیر ) حکومت  نے ہندو کمیونٹی  کی شادی اور معاشرتی تحفظ کے لئے  2016 میں ایک قانون پاس کیا تاکہ وہ قانونی طور پر اپنی شادیوں کو پروف کرسکیں تاکہ بنیادی حقوق و تحفظ حاصل کرسکیں . سال 2018 میں اس میں قانون میں بہتری کےلیے لانے کے لیے اس ایکٹ میں  ترمیم کی گئی۔  اس سلسلے میں محکمہ سوشل ویلفیئر نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے  کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا نے اقلیتی برادری میں شعور بیدار کرنے اور نئے قانون کو نافذ کرنے کے لئے غوثیہ گیسٹ ہاؤس میں ایک سیمینار منعقد کیاگیا۔

اس سیمینار سے مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر امیت کمار نے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ ہمارے معاشرے میں کچھ غیر مناسب رسومات اور روایات موجود ہیں جن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں قانون پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نےکہا کہ شادی ہمارے معاشرے میں ایسا ازدواجی تعلقات ہے جس سے معاشرہ جڑتا ہے، اس سے قبل  اقلیتی برادری میں ازدواجی  رشتےکی کوئی قانونی شکل نہیں تھی لیکن اب  اس قانون میں ترمیم کی گئی تاکہ اقلیتی طبقہ کو معاشی اور معاشرتی حقوق حاصل ہو ۔

اس سے قبل محکمہ سوشل ویلفئیر و سماجی بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر سروپ چند مالہی  نے کہا کہ عمرکوٹ ضلع میں اقلیتی کمیونٹی بڑی تعداد میں ہے  اور وہ غربت کی وجہ سے بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کر رہی ہے ، ہندو کمیونٹی کو 2016 سے قبل ازدواجی حقوق اور تحفظ کےحوالے سے     قانون  اور معاشرتی تحفظ حاصل نہیں تھا  لیکن اب قانون موجود ہے ۔

اس موقع پر کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا کی میڈم کرن بشیر نے  کہا کہ ہمارا پروگرام اقلیتی کمیونٹی اور معاشرے کےلوگوں میں شعور پیدا کرنے کے ساتھ اس قانون پرعملدرآمد کراناہے ، انہوں نےکہا کہ اب اس قانون کےبعد اقلیتی برادری کو معاشرتی تحفظ حاصل ہو رہا ہے اور اقلیتی شادی شدہ جوڑے کو اب  میرج سرٹیفیکیٹ مل سکیں گے ۔ میڈم کرن بشیر نے بتایا کہ اس وقت ضلع کے "22"مختلف دیہاتوں میں ہماری آگاہی مہم اور ٹریننگ ورکشاپ شروع کررہے ہیں اور نئے قوانین کو نافذ کرنا ہے۔ اقلیتی برادریوں کو معاشی اور معاشرتی تحفظ حاصل ہواور انہیں بھی دوسرے بنیادی حقوق جیسے حقوق حاصل ہوں گے۔  انہوں نے کہا کہ اس قانون کےپاس ہونے کےبعد اقلیتی خواتین اور مرد طلاق لے سکتے ہیں اور دوسری شادی بھی کرسکتے ہیں ۔

اس موقع پر ڈی اے او پرائمری ڈوارکو مل ایڈیشنل ڈی ایچ او ڈاکٹر ہیمجی ایڈیشنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ میاں محمد گائو ڈاکٹر محبوب علی سمیجو غلام مصفی سمیت مختلف سماجی تنظیموں کے رہنما جس میں  غلام مصطفی کوسو ، محمد بخش ، سریش کمار ، امتیاز علی کوسو ، پروین کوسر ، سمیرا میر چند سبانی ارشاد علی عباسی اور عبدالطیف سولنگی نے خطاب کیا ، اس موقع پر  وکلاء اور پولیس سمیت اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -