6.3 فیصد خسارے کا بجٹ پیش، کل حجم8487 ارب، آمدنی کا تخمینہ 7907 ارب روپے، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ

6.3 فیصد خسارے کا بجٹ پیش، کل حجم8487 ارب، آمدنی کا تخمینہ 7907 ارب روپے، سرکاری ...
6.3 فیصد خسارے کا بجٹ پیش، کل حجم8487 ارب، آمدنی کا تخمینہ 7907 ارب روپے، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر خزانہ شوکت ترین نے  قومی اسمبلی میں بجٹ 2021-22پیش کر دیا ، جس دوران اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے خوب  شور شرابہ کیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ کاحجم آٹھ ہزار 487 ارب روپے ہے  جب کہ آمدنی کا تخمینہ 7909 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا خسارہ 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔بجٹ میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے، دفاع کیلئے 1373 ارب ، سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 60 ارب، تنخواہوں اور پنشن کیلئے 160 ارب، صوبوں کو این ایف سی کے تحت ایک ہزار186 ارب، صحت کیلئے 30 ارب اور ہائیرایجوکیشن کیلئے 44 ارب روپے مختص کیے ہیں۔بجٹ میں امن عامہ کیلئے 178 ارب، ماحولیاتی تحفظ کیلئے 43 کروڑروپے، صحت کیلئے 28 ارب، تفریح ،ثقافت اور مذہبی امورکیلئے 10 ارب مختص کیے ہیں۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جب کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے۔

بجٹ 2021-22 کے نمایاں خدو خال

مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں گروس ریونیو کا تخمینہ 7909 ارب روپے ہے جب کہ اس کے مقابلے میں 2020-21 کے لیے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات 6395 ارب روپے ہیں۔ یہ گزشتہ سال کے نظر ثانی شدہ محاصل کے تخمینہ کے مقابلے میں مجموعی محاصل میں 24 فیصد کا خاطر خواہ اضافہ ہے۔ ایف بی آر محاصل میں 24 فیصد کے اضافے کے ساتھ 4691 ارب روپے سے بڑھ کر 5892 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے جب کہ نان ٹیکس ریونیو میں 22 فیصد اضافے کی توقع ہے۔وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ گزشتہ سال کے 2704 ارب روپے سے بڑھ کر 3411 ارب روپے رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے مقابلے میں 707 ارب روپے یا 25 فیصد اضافی رقم صوبوں کو فراہم کی جائے گی۔ اس کی وجہ سے صوبے ترقی، صحت ، تعلیم، بہود آبادی، نوجوانوں اور خواتین  کی تقری، کھیلوں ، مزدوروں کی فلاح وغیرہ جیسے سماجی شعبوں پر وسائل خرچ کرنے کے قابل ہوں گے۔ صوبوں کو ٹرانسفر کرنے کے بعد نیٹ وفاقی محاصل کا تخمینہ 4497 ارب روپے ہے جب کہ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے مطابق نیٹ فیڈرل ریونیو 1691 ارب روپے تھے۔ اس سے نیٹ وفاقی محاصل میں 22 فیصد اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔وفاقی اخراجات 8487 ارب روپے رہیں گے جب کہ اس کے مقابلے میں 2020-21 کے نظر ثانی شدہ اخراجات 7341 ارب روپے تھے۔ ان اعداد و شمار سے وفاقی اخراجات میں 15 فیصد کا اضافہ ظاہر ہورہا ہے۔ رواں برس اخراجات کا تخمینہ 6561 ارب روپے سے بڑھ کر 7523 ارب روپے رہنے کی توقع ہے جس سے رواں اخراجات میں 14 فیصد کا اضافہ ظاہر ہو رہا ہے۔ رواں اخراجات میں سے سود کی ادائیگی کی اور کووڈ 19 پر ایک بار اخراجات کو نکال کر رواں اخراجات میں 12 فیصد کا اضافہ متوقع ہے۔وفاقی بجٹ 2021-22 میں سبسڈیز کا تخمینہ 682 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں احساس پروگرام اور بیت المال کیلئے 260 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔وفاقی ترقیاتی بجٹ 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ مالی سال 2021-22 کا مجموعی بجٹ خسارہ 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے جب کہ اس کے مقابلے میں رواں مالی سال کے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے مطابق بجٹ خسارہ 7.1 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ پرائمری خسارے کا ہدف 0.7 فیصد ہے جو کہ رواں سال کے نظر ثانی شدہ تخمینہ کے مطابق 1.2 فیصد لگایا گیا ہے۔ 

کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال

وزیر خزانہ نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تھی تو ملک انتہائی مسائل کا شکار تھا ، سابق حکومتیں نہ صرف خزانہ خالی کر کے گئی تھیں بلکہ  ہمیں 20 ارب ڈالرز کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا ، الحمد اللہ ہم اب کرنٹ اکاؤنٹ کو 8 ملین ڈالرز کے سرپلس میں لے آئے ہیں ۔ ہر طرح کے اشاریے مثبت ہیں ، مسلم لیگ ن کے دور میں شرح سود کو بھی مشروط طور پر کم رکھا گیا ، سٹیٹ بینک کی بجائے کمرشل بینک سے قرض لئے گئے جس کے باعث شدید عدم توازن پیدا ہوا ، ن لیگ کے دور میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد تھا جو گزشتہ 5 سال میں سب سے زیادہ تھا ۔ زر مبادلہ  کے ذخائر قرض لیکر بحال کئے گئے جو جون 2013 میں 6 ارب ڈالر تھے ۔ مسلم لیگ ن کے آخری دور میں یہ بڑھ کر 10 بلین ڈالرز ہو گئے ۔ یہ سارا قرض اور خسارہ ہمارے اوپر لادا گیا۔

ملازمین کیلئے خوشخبری 

بجٹ 2021-22 میں وفاقی سرکار ی ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف فراہم کیا جائے گا ، تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا ، اردلی الاﺅنس 14 ہزار سے بڑھا کر ساڑھے 17 ہزار کیا جارہاہے ۔ حکومت کی جانب سے مزدور کی کم از کم تنخواہ بڑھا کر 20 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے۔

دفاع

 سال2021 / 22کا دِفاعی بجٹ مجموعی قومی بجٹ کا 16%ہے، پاک آرمی کا دِفاعی بجٹ ملکی بجٹ کا7% ہے،موجودہ دِفاعی بجٹ GDPکا 2.8% ہے،2019 / 20میں ملکی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر دِفاعی بجٹ منجمد رہا،2020 / 21میں بھی پاک افواج کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو ا،ان سالوں میں روپے کی قدرمیں کمی اور افراطِ زر کے باوجود دِفاعی ضروریات کو دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے پورا کیا گیا،2018ءکے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور سیکورٹی کی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا ،ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر سیکورٹی اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے بھرپور کردار ادا کیا مگر سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی الاؤنس نہیں لیا گیا،کرونا وَبا کے خلاف قومی جنگ میں دِفاعی بجٹ سے ہی 2.56ارب روپے صَرف کئے گئے۔لیکن اضافی ڈیمانڈ نہیں کی گئی۔ ٹِڈی دَل کے خلاف مہم میں بھی دِفاعی بجٹ سے ہی297ملین روپے خرچ ہوئے،چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر گذشتہ سالوں میں دِفاعی آلات و مصنوعات کی مقامی تیاری (indigenisation)پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ملکی زرِ مبادلہ میں کمی واقع نہ ہو،پاک افواج نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس کی مَد میں سال2019-20 میں 190 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی،25.8ارب روپے انکم ٹیکس، کسٹم سرچارج اور سیلز ٹیکس کی مَد میں جمع ہوئے،پاک افواج کے رِفاعی اداروں نے 164.239ارب روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مَد میں ادا کئے،ان اداروں میں آرمی ویلفئیر ٹرسٹ، فوجی فاونڈیشن، نیشنل لاجسٹکس سیل اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن شامل ہیں۔ بھارت پاکستان کی نسبت اپنے ایک فوجی پر سالانہ 4گنا زیادہ خرچ کر تا ہے،پاکستان اپنے ایک فوجی پر سالانہ12500ڈالر خرچ کر تا ہے جبکہ انڈیا 42000ڈالر خرچ کرتا ہے،امریکہ اپنے ایک فوجی پر سالانہ 392,000ڈالر جبکہ سعودی عرب371,000ڈالر خرچ کرتا ہے،سالانہ دِفاعی اخراجات کے حوالے سے بھارت دُنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے،2014سے2019ءتک بھارت کا دِفاعی بجٹ 51سے71بلین ڈالر تک بڑھ گیا مگر پاکستان کا دِفاعی بجٹ جوں کا توں رہا ،بھارت کا دِفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت 6سے7گُنا زیادہ ہے،بھارت2016ءسے2020ءکے دوران دُنیا کا دوسرا بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک رہا،بھارت صرف نئے اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ لگ بھگ18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان بجٹ کا تقریباََ دوگُنا ہے۔

ترقیاتی فنڈز

وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کو 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کردیا ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 40 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال پی ایس ڈی پی میں صحت کے شعبے کو تقویت دینے اور کورونا کی وسیع پیمانے پر تباہی کے اثرات کا الزالہ کرنے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ آئندہ سال کے لیے ہماری ترقیاتی ترجیحات میںخوراک اور پانی کی دستیابی،توانائی کا تحفظ،روڈ انفرا اسٹرکچر میں بہتری،سی پیک پر عملدرآمد میں پیش رفت،اسپیشل اکنامک زونز کی تعمیر اورآپریشنز،پائیدار ترقیاتی اہداف،موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، ٹیکنالوجی کی مدد سے علوم میں پیش رفت اورعلاقوں کے مابین پانے جانے والے فرق کا تدارکوزیر خزانہ نے کہا کہ اس مرتبہ قومی اقتصادی کونسل نے دوہزار 135 ارب روپے کے تاریخی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے، یہ بجٹ این ای سی کی جانب سے گزشتہ سال کے لیے منظور کردہ بجٹ سے 33 فیصد زیادہ ہے۔

ٹیکس چھوٹ

بجٹ میں کورونا کے حوالے سے میڈیکل کی مختلف اشیا پر ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے۔ آٹو ڈس ایبل سرنچ اورآکسیجن سلنڈر پر ٹیکس میں چھوٹ دے دی گئی ہے۔ قرآن پاک میں استعمال ہونے والے کاغذ کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے خوردنی تیل اور گھی پر اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی واپس لینے کا اعلان کیا ہے جبکہ  آئی ٹی اور آئی ٹی سروسز کو زیرو ریٹنگ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

گاڑیوں پر مختلف  ٹیکسز  میں کمی کی تجویز

وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں گاڑیوں پر کئی اقسام کے ٹیکسوں میں چھوٹ دے دی گئی۔وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کے مطابق مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈل بنانے والوں کو ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کیلئے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے۔ بجٹ میں مقامی طور پر تیار ہیوی موٹرسائیکل ، ٹرک اور ٹریکٹر کی مخصوص اقسام پر ٹیکسوں کی کمی کی تجویز دی گئی ہے۔بجٹ 2021-22 میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فیصد سے ایک فیصد تک کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 850 سی سی گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی  جب کہ درآمد شدہ 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی پر چھوٹ دی جا رہی ہے۔

حکومت کی آٹو پالیسی اور میری گاڑی سکیم

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آٹو سیکٹر ملکی ترقی اور قومی خزانے میں بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے، اس شعبے سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، پاکستان کی آٹو مارکیٹ بہت چھوٹی ہے مگر اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے 850 سی سی تک کی کاروں کے سی بی یو کو کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈل بنانے والوں کو ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے اور ٹیرف سٹرکچر کو مناسب بنایا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے متوسط طبقے کو اپنی ذاتی گاڑی خریدنے کا موقع ملے گا جس سے حکومت کی میری گاڑی سکیم کو کامیابی ملے گی۔ اس طرح چھوٹی گاڑیوں کی قیمت کم ہوگی اور بہت سے اہل وطن موٹرسائیکل کی بجائے کار کی سواری کے قابل ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کیلئے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی جارہی ہے جس سے ان ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح عالمی سطح پر موٹرسائیکل کے بدلتے رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی سطح پر تیار ہونے والی ہیوی موٹرسائیکلز اور ٹرک اور ٹریکٹر کی مخصوص اقسام پر عائد محصولات میں بھی مناسب کمی کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے آٹو سیکٹر میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی امید ہے جو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن اور وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کی انتھک محنت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

مقامی موبائل سستے، کالز مہنگی

بجٹ 2021-22 میں ود ہولڈنگ ٹیکس رجیم میں 40 فیصد کمی کی تجویز ہے۔ مقامی موبائل فونز پر موجودہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔  موبائل سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس آٹھ فیصد تک بتدریج کم کیا جائے گا۔ باہر سے آنے والے موبائل فون مہنگے کردیے گئے ہیں، درآمدی موبائل فونز کی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دوسری جانب بجٹ میں کالز مہنگی کردی گئی ہیں۔ تین منٹ سے زائد جاری رہنے والی فون کالز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔

جعلی سگریٹ اب نہیں ملیں گے 

شوکت ترین نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو در پیش ایک بڑا مسئلہ مارکیٹ میں جعلی اشیاءبالخصوص جعلی سگریٹس کی دستیابی ہے ، گوکہ اس سلسلے میں ہم نے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو متعارف کروا دیاہے ، جس پر عملدرآمد کو حتمی شکل دی جارہی ہے تاہم قانونی تقاضوں کو پوا کرنے کیلئے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے مختلف برانڈز کو لائسنس حاصل کرنے کیلئے رجسٹریشن کا پابند کیا جائے گا ، اس اقدام کی بدولت مخصوص اشیاءکے مینو فیکچررزکو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے برانڈزکو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کروائیں ، اس طرح غیر رجسٹرڈ برانڈز جعلی اشیاءتصور کی جائیں گی جن کو ضبط اور ضائع کر دیا جائے گا ۔

 احساس پروگرا م کیلئے 260 ارب روپے مختص 

شوکت ترین کا کہناتھا کہ احساس پروگرام کیلئے بجٹ میں 260ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ لنگر خانے کا نظام جاری رکھا جائے گا ، تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی کے باعث غریب افراد کی زندگی مثاتر ہوئی ہے ، مقامی حکومت کے انتخابات کیلئے 5 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔کورونا کے متاثرین طبقات کو سمیت کم آمدن والے افراد کو مدد کی ، احساس پروگرام کے ذریعے پچھلے سال سے ماضی کے مقابلے میں  40 فیصد زیادہ افراد کی مدد کی جا رہی ہے ۔ اب تک 15 ملین گھرانوں کو مالی امداد فراہم کی گئی ہے ۔

 پاک ہاؤسنگ پراجیکٹ کیلئے 33 ارب روپے مختص

بجٹ 22-2021 میں پاک ہاؤسنگ پراجیکٹ کیلئے 33 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہاؤسنگ سکیموں کیلئے بجٹ میں رعایت کا پیکیج رکھا گیا ہے ، بینکوں کو مکانات کی تعمیر کیلئے 100 ارب روپے قرض کی درخواست ملی ہے ۔

ٹڈی دل اور ایمرجنسی سکیورٹی فوڈ کیلئے 123 ارب روپے مختص 

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ 22-2021 میں ٹڈی دل اور ایمرجنسی سکیورٹی فوڈ کیلئے 123 ارب روپے مختص کئے گئے ، زیتون کی کاشت بڑھانے کیلئے ایک ارب روپے رکھے گئے  حکومت نے بلین ٹرین سونامی کے نام سے منصوبہ شروع کیا جس کیلئے  بجٹ میں  14 ارب روپے مختص کر رہے ہیں ۔ٹڈی دل کے حملے کے باوجود زراعت کے شعبے میں تاریخی کر کردگی دکھائی گئی ، کپاس کے علاوہ تمام فصلوں کی پیدوار میں اضافہ ہوا ، زراعت کے شعبے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ، اس سال ، گندم ،چنے اور مکئی میں شاندار اضافہ ہوا ، زراعت کے شعبے میں نو فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا ، کورونا کی وجہ سے معیشت کو مستحکم کرنے میں وقت لگا ، ہمارے دور میں برآمدات میں اضافہ ہوا ، ماضی میں 5.35 نمو کا ڈھول پیٹا گیا ۔

کراچی ٹرانسفارمیشن لائن کیلئے 739 ارب روپے مختص

بجٹ میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کیلئے 739 ارب روپے مختص کئے گئے ،  وفاقی حکومت کراچی ٹرانسفارمیشن لائن کیلئے 98 ارب روپے رکھے گی ، سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے 509 ارب روپے شامل ہوں گے ۔

ترسیلات زر میں قابل رشک اضافہ 

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سال ترسیلات زر میں قابل رشک اضافہ ہوا ، اوور سیز پاکستانیوں نے  عمران خان  سے محبت کے نتیجے میں ترسیلات زر میں 29 بلین ڈالرز تک پہنچے گی ۔

سی پیک کیلئے 13 ارب ڈالرز مختص

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت 13 ارب ڈالر مالیت سے 17 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ 21 ارب ڈالر سے 21 منصوبے جاری ہیں۔ اس کے علاوہ سٹریٹیجک نوعیت کے 26 منصوبے زیر غور ہیں جن کی مالیت 28 ارب ڈالر ہے۔ایم ایل ون ایک اہم منصوبہ ہے جس کی لاگت 9.3 ارب ڈالر ہے جسے تین مراحلے میں مکمل کیا جائے گا، پیکج ون کا آغاز مارچ 2020 شروع ہوچکا جبکہ پیکج ٹو جولائی 2021 اور پیکج تھری جولائی 2022 میں شروع ہوگا۔

 اینٹی ریپ فنڈ

بجٹ 2021-22 میں وزیر اعظم کی طرف سے خصوصی ہدایات پر اینٹی ریپ فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ اینٹی ریپ فنڈ میں ابتدائی طور پر 100 ملین روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس میں بعد میں اضافہ کیا جائے گا۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -بجٹ -بزنس -