مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے تقاضے

  مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے تقاضے

  

 مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی بظاہر تو دو مختلف اصطلاحات ہیں، لیکن ان کا آپس میں بہت قریبی تعلق ہے۔کسی معاشرے میں مختلف رنگ و نسل اور مذاہب کا ہونا غیر فطری نہیں۔قومی ریاست بننے کے بعدایک ریاست میں عام طور پر بڑی اکثریت ایک ہی نسل اور مذہب پر مبنی ہوتی ہے، لیکن پھر بھی خدا کی اس رنگ بھری دنیا میں مکمل طور پر یکسانیت کیسے ممکن ہے؟ دنیا کی بڑی بڑی جمہوریتیں  مذہبی اقلیتوں کو آئین کے مطابق آزادی تو دیتی ہیں لیکن عملی طور پران معاشروں میں مذہبی تفاوت اور امتیازی سلوک نظرآتا ہے۔ انقلاب ایران اور افغان جہاد  سے پہلے یہ صورت حال قدرے بہتر تھی، لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت اور عدم برداشت،  خاص طور پر امریکہ اور یورپ کی لبرل  جمہوریتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے۔جس کی وجہ سے ان کی اپنی سیکولر و لبرل اقدار بھی متاثر ہونے لگی ہیں اور یہ تصور کہ مغربی معاشرے ارتقاء کی منازل سے کامیابی سے گزر کر قومی یکجہتی کی منازل میں داخل ہوگئے ہیں، اب چیلنج ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔مابعد گلوبلائزیشن کے دور میں ابھرتے ہوئے پاپولزم کے زیر اثر نسلی اور مذہبی بنیادوں پرامتیاذی سلوک میں تکلیف دہ حد تک اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف اسلاموفوبیا ایک منظم مہم کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ سے مغربی لبرلزم اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگیا ہے، چنانچہ مغربی معاشروں کو اس وقت شدید نوعیت کے اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ترقی پذیر معاشروں میں بھی یہ صورت حال  کافی چیلنجنگ ہے لیکن الحمدللہ پاکستان میں صورت حال اتنی مایوس کن نہیں ہے۔ کچھ انتہائی تکلیف دہ واقعات کے باوجود، پاکستانی معاشرہ اپنی روایتی رواداری قائم رکھنے میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے خاص طور پر اپنے مشرقی ہمسائے بھارت کے مقابلے میں،جہاں اقلیتوں کو بنیادی حق شہریت سے ہی محروم کیا جارہا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی سے اپنے پہلے پالیسی خطاب میں واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو بلا امتیاز مذہب، رنگ اور نسل یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔ پاکستان کا موجودہ آئین غیر مسلموں کے علیحدہ تشخص کو تحفظ دیتے ہوئے انہیں ہر شعبہ زندگی میں برابر کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی تمام ملازمتوں میں  انہیں کھلے مقابلے کے ساتھ  ساتھ کوٹہ بھی فراہم کیا جاتا ہے ہے۔ اعلیٰ ترین فیصلہ ساز جمہوری اداروں میں بھی اقلیتوں کا کوٹہ مقرر ہے،  تاکہ اعلیٰ سطح کے فیصلہ ساز اداروں میں ان کی نمائندگی ہو سکے۔اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقلیتی کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے سربراہ جناب چیلا رام ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی صورت حال کچھ آئیڈیل نہیں ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہیں جن پر پاکستان کی اقلیتوں کو تحفظات ہیں۔ ان تحفظات کی داد رسی نہ صرف حکومت پاکستان کی ذمہ داری، بلکہ بحیثیت اکثریت ہم سب کا سماجی فریضہ بھی ہے۔اسلام میں ریاست مدینہ کے زمانے سے ہی  مسلمانوں کو  اپنی غیر مسلم آبادی کی حفاظت کی ذمہ داری لینے کا حکم دیا گیا  ہے اور اس کے بدلے جزیہ نامی ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔

آج پاکستان میں ہم اپنی اقلیتوں کو برابر کا شہری مانتے ہیں اور ان کو اپنے مذہب  پر کاربند رہنے اور اپنے مذہبی قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ آئین پاکستان اس کی ضمانت دیتا ہے، لیکن ٹھہریے یہ آئیڈیل پوزیشن اپنی جگہ،لیکن کیا ہم  معاشرتی تعصبات کو ختم کر پائے؟ کیا ہم دوسرے مذاہب کو ان کی الگ مذہبی حیثیت کے ساتھ اپنے معاشرے میں جذب کر سکے ہیں۔کیا کہیں پر ہماری اقلیتوں کو ہم سے شکایت تو نہیں ہے؟ان سوالوں کے جواب آسان نہیں ہیں۔ ابھی بھی جبری تبدیلی مذہب، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی بچیوں کی شادی اور اس طرح کے دوسرے مسائل سننے میں آتے ہیں۔ اگرچہ اس بات کی کوئی منظم دلیل نہیں ہے کہ  مسلمان اکثریتی معاشرہ کسی منظم منصوبے کے تحت یہ کر رہا ہے،لیکن ایسے کچھ واقعات بھی پاکستان اور ہمارے روادار اسلامی معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ جن پر نہ صرف حکومت پاکستان بلکہ ہماری تمام مذہبی اور سماجی قیادت کو کو غور کرنا چاہیے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ صورت حال صرف اقلیتوں تک محدود نہیں، اکثریتی جماعت، یعنی مسلمانوں میں بھی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہاں تک کہ ہر فرقہ صرف اپنے نظریہ فکر کو اصلی اسلام قرار دے رہا ہے اور دوسرے مسالک پر کفر کا فتویٰ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ مسلمانوں کے لیے قرآن کا حکم  ہے کہ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ کرو،“اس کی عملی تفسیر ہمیں اپنے معاشرے میں نظر نہیں آتی۔ اب آتی ہے بات مذہبی ہم آہنگی کا تعلق کیا ہے قومی یکجہتی کے ساتھ تو عرض یہ ہے کہ ففتھ جنریشن وار کے اس دور میں کوئی بھی قوم صرف سرحدوں کی حفاظت کا بندوبست کر کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ جہاں سرحدوں کی حفاظت کے چیلنج پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں،وہاں پر اندرونی تحفظ کی ضرورت بھی پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

دہشت گردی کا خطرہ جو پچھلی دہائی کے آخر میں  آپریشن ضرب عضب کے کے اثرات سے کم ہو گیا تھا، پھرسے سر اٹھانے لگا ہے۔ دنیا میں نئے نئے الائنس بن رہے ہیں اور پرانے حلیف اب حلیف نہیں رہے ہیں۔ ان حالات میں قومی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ جو قومیں اندر سے مضبوط نہیں ہوں گی  وہ ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ نہیں کر پائیں گی۔ اپنے گھر کو مضبوط کرنے کے لیے ہمیں مذہبی وفر قہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مزید کوششیں کرنا ہوں گی اور اپنے ہم وطنوں کے گلے شکوے دور کرکے قومی یکجہتی کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔لیڈرشپ کا کردار اس وقت بہت اہم ہے۔ ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں، جو باتیں  باہمی دل آزاری کا باعث بنتی ہیں ان سے گریز کریں۔ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور گفتگو کریں تو احساس ہوگا کہ تمام تر مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کے باوجود ہماری ثقافت،اقدار اور مفادات مشترکہ ہیں۔ پاکستان کی مضبوطی اور بقا  ایک ہم آہنگ معاشرے کے قیام میں ہے جہاں سب اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی اور فکری روایات کو لے کے چل سکیں۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کے زبان زد عام چند اشعار کاحوالہ دینا چاہتی ہوں:

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء  زوال نہ ہو

ان کے یہ اشعار بھی توجہ طلب ہیں:

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال

 کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لیے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

یہ وہ قومی یکجہتی ہے، یہ وہ قومی روح ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو اپنے ہم وطنوں کے لئے ایسی جگہ بنا دیں جہاں اس کی زندگی اس کے لئے باعث عزت اور سکون ہو۔ وہ پاکستان سے محبت کرے، اس لئے کہ پاکستان سے اس کی ہر خوشی وابستہ ہو۔ پھر وہ کسی دشمن کا ایجنٹ نہ بن سکے۔ نفرتوں کا شکار نہ ہو۔ دعا ہے کہ میرا پاکستان ایسے پھلے پھولے اور ہم اس کی آنے والی نسلوں کو محفوظ اور اچھی زندگی دے کر جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -