شرح سودمیں 1.5فیصدکمی، 1500ارب کا ترقیاتی پلا ن منظور، وزیراعظم نے گلگت بلتستان آزاد کشمیر او ر ضم اضلاع پر اسٹیرنگ کمیٹیاں تشکیل دیدیں 

شرح سودمیں 1.5فیصدکمی، 1500ارب کا ترقیاتی پلا ن منظور، وزیراعظم نے گلگت بلتستان ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے نئی مانیٹری پالیسی کااعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 1.5 فیصد کمی کر دی،جس کے بعد شرح سود 22 فیصد سے کم ہوکر 20.5 فیصد ہوگئی۔ مرکزی بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی سے متعلق جاری اعلامیہ کے مطابق شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹس کمی مہنگائی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کی گئی ہے، مئی میں افراط زر 11.8 فیصد رہی جبکہ سخت زری پالیسی اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی تیزی سے کم ہوئی، مئی کے مہینے کا آؤٹ ٹرن توقعات سے زیادہ بہتر رہا،  اپریل میں 17.3 فیصد پر رہنے والی شرح 11.8 فیصد رہ گئی۔اعلامیہ کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یہ بھی جائزہ لیا کہ بنیادی مہنگائی کے دبا ؤمیں بھی کمی آ رہی ہے، اس کی عکاسی بنیادی مہنگائی میں مسلسل کمی اور صارفین و کاروباری اداروں کی مہنگائی کی توقعات میں نرمی سے ہوتی ہے۔ یہ صورتحال سخت مالیاتی پالیسی اور مالیاتی استحکام کے اقدامات کی وجہ سے ہے،تاہم بجٹ اقدامات، بجلی اور گیس کے نرخوں میں تبدیلی، اسی طرح جولائی 2024ء میں مہنگائی کی موجودہ سطح میں نمایاں اضافے کا خطرہ ہے جبکہ مہنگائی مالی سال 2025 کے دوران بتدریج کم ہوتی جائیگی۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہاہے اہم مثبت حقیقی شرح سود کیساتھ مو جو دہ مانیٹری پالیسی کا تسلسل ضروری ہے تاکہ ستمبر 2025 تک مہنگائی کی شرح کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک کم کیا جائے۔اپنے فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتیں لچکدار عالمی شرح نمو کیساتھ نیچے آ گئیں، جبکہ حالیہ جغرافیائی سیاسی واقعات نے بھی ان کے بارے میں بے یقینی کی صور تحا ل میں اضافہ کیا اور بجٹ سے متعلق آنیوالے اقدامات کے بھی مہنگائی کی صورتحال پر اثر ات ہوسکتے ہیں۔واضح رہے 18 مارچ کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ (شرح سود)کو مسلسل چھٹی بار 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔سٹیٹ بینک سے جاری بیان کے مطابق اپنے اجلاس میں اس فیصلے تک پہنچنے کے حوالے سے کمیٹی نے نوٹ کیا کہ گزشتہ توقعات کے مطابق مہنگائی مالی سال 2024 کی دوسری ششماہی میں واضح طور پر کم ہونا شروع ہوگئی۔واضح رہے کہ شرح سود 25 جون 2023 سے 22 فیصد پر برقرار تھی۔

مانیٹری پالیسی

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)قومی اقتصادی کونسل نے 15 سو ارب روپے کے آئندہ مالی سال ترقیاتی پلان اوراہداف کی منظوری دیدی، وفاق 14 سو ارب اور 100 ارب رو پے سرکاری ونجی شراکت داری ہو گی، وزیر اعظم نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر،اور ضم اضلاع پراسٹیرنگ کمیٹیز تشکیل دی ہیں، اسٹیرنگ کمیٹی بجٹ پر اتفاق رائے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز اور کمیٹی پی ایس ڈی پروگرام پر اتفاق رائے کیلئے متعلقہ حکام سے بات چیت کریں گی۔ اسٹیرنگ کمیٹیز کی صدارت وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ کرینگے،آزاد جموں و کشمیر کمیٹی میں امیر مقام، راجہ اشرف، خورشید شاہ، نوید قمر اور حنیف عباسی شامل ہونگے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا خواجہ آصف، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، احد خان چیمہ، وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز، وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور، وزیرِ اعلی بلوچستان سرفراز خان بگٹی، صوبائی وزیرِ پنجاب منصوبہ بندی و ترقی مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جان خان شورو، مشیرِ وزیر اعلی خیبر پختونخوا مزمل اسلم، صوبائی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی بلوچستان ظہور احمد بولیدی، گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد اور متعلقہ اعلی وفاقی و صوبائی حکام نے شر کت کی،اجلاس ساڑھے تین گھنٹے جاری رہا،اجلاس نے سالانہ پلان برائے مالی سال 24-2023 کا جائزہ لیا، کونسل نے اجلاس میں تیرہویں پانچ سالہ منصوبے پر تفصیلی غور کے بعد سالانہ ترقیا تی پلان برائے 25-2024 کی تمام صوبوں کے اتفاق سے منظوری دیدی۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال 3.6 فیصد، پانچ سالہ پلان کے تحت مالی سال 2029 تک 6 فیصد گروتھ ہوگی، آئندہ پانچ سال میں معاشی ترقی کا ہدف اوسطاً 5.1 فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کی گروتھ کا ہدف 2 فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی۔ آئندہ بجٹ میں صنعتی گروتھ کا ہدف 4.4 فیصد، خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.1 فیصد اور اگلے مالی سال برآمدات کا ہدف 40.5 ارب ڈالر رکھنے کی منظوری دی گئی۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال درآمدات کا ہدف 68.1 ارب ڈالر رکھنے کی منظوری دی گئی، آئندہ مالی سال سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا ہدف 30.2 ارب ڈالر مقرر کیا گیا۔ بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کا ہدف 3.7 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں مالی سال 25-2024 کی پبلک انویسٹمنٹ پر بھی غور کیا گیا، اجلاس میں ایکنک کی پیشرفت اور سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی اب تک پیشرفت رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، تمام صوبوں کی جانب سے متفقہ طور پر ایجنڈے کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس کے جاری اعلامیہ کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 15سو ارب روپے کاقومی ترقیاتی بجٹ منظور کیا۔ اعلامیہ کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے ایجنڈا کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا، قومی اقتصادی کونسل نے 5سالہ منصوبے کی منظوری دیدی۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ملک کی ترقی، معیشت کی بحالی اور عوامی کی خوشحالی کیلئے حکومت موجودہ وسائل کے بہترین استعما ل یقینی بنائیگی،قومی اقتصادی ملکی معیشت کے حوالے سے اہم فیصلوں کا سب سے بڑا فورم ہے جس کو معیشت کی بحالی کیلئے اہم فیصلوں کیلئے استعمال کرینگے۔ معیشت کے حوالے سے تمام اہم فیصلوں میں وفاق صوبوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنائیں گے تاکہ ملکی ترقی کیلئے اجتماعی بصیرت کے نتیجے میں ایسے فیصلے کئے جائیں جو مثبت ہوں اور سب کی رضامندی شامل ہو۔اجلاس میں کونسل نے گزشتہ روز لکی مروت میں دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونیوالے کیپٹن محمد فراز الیاس اور دیگر فوجی جوانوں کیلئے مغفرت اور انکے اہلِ خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔اجلاس میں وزیرِ اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت بھی کی،کمیٹی صوبوں و دیگر اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت سے نہ صرف قومی اقتصادی کونسل کو مزید فعال بنانے بلکہ اسے ہم عصر تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تجاویز مرتب کریگی۔کونسل کو 2023-24 کے سالانہ ترقیاتی منصوبے و کارکر د گی اور 2024-25 کے مجوزہ ترقیاتی منصوبے کے بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا آئندہ برس کیلئے شرح نمو کے ہدف میں واضح اضافہ کیا گیا ہے،وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،زراعت کی ترقی کیلئے صوبوں سے مشاورت انتہائی کلیدی اہمیت کی حامل ہے، یقینی بنایا جائے کہ زراعت اور دیگر شعبوں کے حوالے سے صوبوں کی تجاویز کو پلان میں شامل کیا جائے۔کونسل کو تیرہویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا منصوبے کے اہداف میں ملک کے ہر خطے بالخصوص پسماندہ علاقوں کی ترقی، برآمدت میں اضافے، چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعت کے فروغ، سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت، افرادی قوت کی استعداد میں اضا فے، نالج اکانومی کی سمت میں ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کیلئے لائحہ عمل شامل ہیں۔کونسل نے تیرہویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کی اصولی منظوری دیدی۔کونسل کو 2023-24 کے ترقیاتی بجٹ کا جائزہ اور 2024-25 کے ترقیاتی بجٹ کے مجوزہ اعشاریے بھی پیش کئے گئے۔کونسل کو بتایا گیا آئندہ ترقیاتی بجٹ میں سی پیک کے منصبوں، بین الاقوامی سرمایہ کاری کے منصوبوں، تکمیل کے قریب جاری منصوبوں کو ترجیح دی جائیگی،اسکے علاوہ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کو ترقیاتی بجٹ میں شامل کرنے اور پسماندہ علاقوں کو ترقیاتی بجٹ میں ترجیح دی جائے گی،کونسل نے مزکورہ اقدامات کی منظوری دیدی،کونسل کو سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) اور ایگریکٹیو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC) کے یکم اپریل 2023 سے یکم مئی 2024 کی کارکردگی پر رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

پلان منظور

مزید :

صفحہ اول -