کینیڈا ہجرت کرناآسان، زندگی گذارنا مشکل، مہنگائی بہت زیاد ہ ہے: شازیہ حسین 

کینیڈا ہجرت کرناآسان، زندگی گذارنا مشکل، مہنگائی بہت زیاد ہ ہے: شازیہ حسین 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                                                کراچی (خصوصی رپورٹ) کینیڈا میں مقیم معروف شخصیت کینیڈین ٹی وی اینکر، اداکارہ و ماڈل شازیہ حسین نے کہا ہے کہ کینیڈا ہجرت کرنا بہت آسان ہے، لیکن وہاں زندگی گذارنا ہر ایک کام نہیں ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ وہاں کا ٹمپریچر اور مشین کی طرح انسان کی زندگی کے علاوہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ وہاں مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ ویلفیئر اسٹیٹ ہونے کی وجہ سے عام آدمی کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں یکساں میسر ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ شازیہ حسین نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کینیڈا میں کافی عرصہ سے مقیم ہیں، سوشل ورک بھی کرتی ہیں اور ان کی سماجی اور ثقافتی مصروفیات بھی رہتی ہیں۔ وہ ٹورنٹو میں مقیم ہیں اور پاکستانی کمیونٹی کیلئے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کیلئے بھی ان کی مصروفیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں شدید ترین سردی ہوتی ہے پاکستان میں اس کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے، لیکن اتفاق کی بات ہے کہ مجھے ایک شوٹنگ کے سلسلے میں گرمی میں پاکستان آنا پڑا جو کہ ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن چونکہ اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے یہاں کا سرد اور گرم موسم میں برداشت کرسکتی ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں شازیہ حسین نے بتایا کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران کینیڈا میں پاکستانی اور انڈین کمیونٹی میں بہت اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مقابلہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اس زمانے میں اگر ہمیں حلال گوشت چاہیے ہوتا تھا تو ٹورنٹو سے کہیں دور میلہ لگتا تھا جہاں سے ہم حلال گوشت خرید لاتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے، گھر سے نکلتے ہی مختلف اسٹورز پر حلال گوشت دستیاب ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور کینیڈا کے میڈیا میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہاں محنت بہت زیادہ کرنا پڑتی ہے، پاکستان میں اچھا اور آسان کام ہے میڈیا۔کورونا کے بعد کینیڈا میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، اس وقت کورونا سے پہلے بچت بہت زیادہ تھی اور ہم انجوائے بہت زیادہ کرلیتے تھے، لیکن اب مہنگائی اتنی زیادہ ہوگئی ہے۔ دیکھا جائے تو کینیڈا میں مہنگائی دوسرے نمبر پر ہے اور پہلے نمبر پر پاکستان ہے۔ اب کینیڈا میں رہنا اتنا آسانا نہیں رہا بلکہ مشکل ہوگیا ہے، ہاں ایک بات میں یہ کہوں گی کہ مہنگائی اتنی زیادہ محسوس نہیں ہے، ان کی نسبت نئے آنے والے لوگوں کے لیے ہے۔ موجودہ صورتحال میں لوگ کینیڈا جانے کا فیصلہ فوری نہ لیں صبر کرلیں۔ یہ بات میں ان کے لیے کہہ رہی ہوں جو نئے جانے والے ہیں، نوجوان اگر اسٹیڈی کیلئے جارہے ہیں تو وہ جانے فیصلہ لے سکتے ہیں۔ وہاں ویزے کے لیے عمر کے بھی پوائنٹ ہوتے ہیں۔ ان کو نوجوان لوگ چاہئے ہیں تاکہ وہ وہاں محنت سے کام کرسکیں، اگر آپ کے پاس زیادہ پیسہ ہے تو آپ دوسال تک مشکلات سے گذر سکتے ہیں تو بے شک آپ جائیں۔ اب دیکھیں یہاں سے بہت پڑھے لکھے لوگ وہاں جاتے ہیں تو ایک دوسال دھکے کھاتے ہیں پھر کہیں جا کر وائٹ کالر جاب ملتی ہے، پھر انہیں وہاں مزید پڑھنا بھی پڑتا ہے اور میں تو یہ بھی مشورہ دونگی کہ آپ وہاں جا کر مزید پڑھیں ضرور یہ آپ کے لیے بہت ضروری ہے، ورنہ آپ چھوٹی موٹی جاب کرتے رہیں گے۔ کینیڈا کی سیاسی صورتحال کے بارے میں انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انڈیا پاکستان کی ٹینشن کے باوجود کینیڈا میں انڈیا اور پاکستان سے آئے ہوئے لوگ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ ہمارے اور ان کے درمیان بحث و مباحثے بھی ہوتے ہیں لیکن وہ healthy ہوتے ہیں، وہاں انڈیا اور پاکستانی سیاست میں کافی متحرک ہیں ابھی جیسے لبرل کی حکومت ہے اس کے بعد کنزرویٹو انکے الیکشن بھی ہونے والے ہیں، وہاں ہمارے پاکستانی بھی بڑی تعداد میں پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور میں آپ کو یہ بات بتادوں کہ وہاں الیکشن ایمانداری سے ہوتے ہیں، بے ایمانی نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہاں فارم 45 اور47 کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ انہوں نے کینیڈا میں میڈیا پالیسی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہاں آزادی ہے کسی قسم کی پابندی نہیں ہے، لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ وہاں کے لوگ بولنے میں بہت محتاط ہوتے ہیں۔ دراصل لوگ حکومت کے خلاف اختلاف کی فضاء قائم کرنا نہیں چاہتے۔ لیبرل کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے لوگوں نے اس وقت ووٹ اس لیے زیادہ دیے تھے کہ انہوں نے امیگریشن قوانین میں کچھ نرمی کی ہوئی تھی، لیکن اب دوسری جماعت بھی نرم امیگریشن پالیسی کے حق میں ہے لیکن اس وقت وہاں مقیم عوام نرم پالیسی سے اختلاف بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کینیڈا میں انگلش، فرنچ اور یگر زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن پنجابی زبان کا بھی وہاں کافی زور سمجھا جاتا ہے، دوسرے یہ کہ وہاں سکھ برادری بھی بہت تعداد میں ہے، وہاں پرانے لوگ اب بھی اخبار نکالتے ہیں، لیکن عوام کا وہاں رحجان اسقدر نہیں ہے۔ لوگ سوشل میڈا کی طرف زیادہ رحجان رکھتے ہیں، اس وقت ڈیجیٹل میڈیا نے زیادہ جگہ بنائی ہے۔ کینیڈا کے لوگ بھی سوشل میڈیا کو اس ہی طرح آزادی سے استعمال کرتے ہیں بالکل پاکستان کی طرح۔ پاکستان میں اگر کوئی پریشانی آتی ہے تو ہم لوگ ہل جاتے ہیں جیسے کہ پاکستان میں زلزلہ آیا تھا ہم بری طرح سے پریشان ہوگئے تھے، میری کینیڈا میں پاکستانی نیوز پر خاص نظر رہتی ہے، پاکستان کی خبریں یہاں سے زیادہ بیرون ملک جلدی پہنچ جاتی ہیں، ہم دراصل جب پاکستان میں رہتے ہیں تو چیزوں کو نارمل لیتے ہیں لیکن جب بیرون ملک ہوتے ہیں ہر چیز کو زیادہ دلچسپی سے سنتے ہیں۔ میں یہ بھی بتادوں جو بچے کینیڈا میں پیدا ہوتے ہیں ان کے جذبات یہاں جیسے نہیں ہوتے اور نہ ہی ہمارے جیسے ہوتے ہیں ان کی اپنی ایک الگ سوچ ہوتی ہے وہ اس قدر deep نہیں جاتے۔ اس بات کا تو اظہار کرتے ہیں کہ ان کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے، دراصل والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پاکستانی کلچر سے روشناس کرائیں، انہیں پاکستان لے کر آئیں، اس وقت کینیڈا میں شادیاں بہت ناکام ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت کچھ کمرشل اور فلموں کیلئے کام کررہی ہوں، ایک ڈرامہ بھی آن ایئر ہورہا ہے، میرے مستقبل میں بھی کچھ پلان ہیں۔