تعلیم.... وقت کی ضرورت

تعلیم.... وقت کی ضرورت
تعلیم.... وقت کی ضرورت
کیپشن: hakeem tehseen

  

تنقید کرنا ہر کسی کا حق ہے لیکن تنقید برائے اصلاح ہو تو کیا ہی بات ہے، لیکن کڑواہٹ ہی نکالنا فرض سمجھتے ہیں تو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، مٹھاس اور پیار بھری باتیں بڑا اثر رکھتی ہیں، تھوک تو سبھی لیتے ہیں لیکن شہد کی مکھی کا تھوک سب چاٹ لیتے ہیں مٹھاس بھرا جو ہوتا ہے۔ یہی مٹھاس بھری زبان تخت پر بٹھاتی ہے اور کڑواہٹ بھری تختہ پر۔ چھوڑیں صاحب وہ بات کرتے ہیں جس میں کوئی مثبت پہلو بھی ہو، معلوماتی بھی ہو اور فائدہ مند بھی ہو۔ سر سید کی بات کو نظر انداز کیا گیا بلکہ فتویٰ بھی لگا نتیجہ پاکستان کے قیام کے بعد چند آئی سی ایس افسران تھے جو انگلی پر گنے جا سکتے ہیں۔ ان میں پاکستان کے سابق صدر مرحوم غلام اسحاق خان اور سیکرٹری جناب روئیداد خان بھی شامل ہیں۔ اگر یہ قوم سر سید کی بات مان لیتی، دینی علوم کے سا تھ انگریزی بھی پڑھ لیتی تو آج یہ عالم نہ ہوتا بلکہ چند سول سرونٹ کے بجائے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ضرور ہوتے۔ پھر یہ لیپ ٹاپ پر تنقید کیوں، کہیں ہماری نسل جدید علوم نہ سیکھ لے۔ بھائی صاحب یہ وہ زمانہ نہیں ہے، ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اور بہت رفتار سے دوڑ رہا ہے کہیں اس سفر میں ہم پیچھے نہ رہ جائیں۔ سفر سے یاد آیا کبھی پنڈی سے لاہور اور لاہور سے پنڈی جانے کے لئے چھ سات گھنٹے درکار ہوتے تھے اور دوران سفر ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ ایک الگ مسئلہ تھا، لیکن آج ہم اِدھر موٹروے پر آئے، ابھی اُونگھ آئی تھی کہ لاہور سے پنڈی پہنچ گئے، سفر کٹنے کا پتا ہی نہ چلا کوئی ہچکولے بھی نہ لگے۔

موٹروے کی بات الگ رکھیں آج پشاور سے کراچی کی سڑکیں موٹروے سے کیا کم ہیں۔ بائی روڈ بھی ایسی ایسی سہولیات میسر ہیں جو ہماری سوچ سے ہی باہر ہیں، خوشگوار حیرت بھی ہوتی ہے اور مسرت بھی۔ سنا تو یہ بھی ہے کہ بلٹ ٹرین بھی انشاءاللہ عنقریب ہماری خدمت کے لئے آنے والی ہے تو دنوں کے سفر گھنٹوں میں کٹ جائیں گے۔ پچھلے دور میں وزیر ریلوے کی کارکردگی تو سب پر عیاں ہے ، روز نئی خبر اخبار کی زینت بنتی تھی، انجن فیل ہو گیا، گاڑی رکی ہوئی ہے، ڈیزل ختم ہو گیا۔ بوگیوں کی حالت زار کے کیا ہی کہنے۔ صفائی ناپید، کھڑکیوں کے شیشے ندارد، مسافر سردیوں میں بھی ایئر کنڈیشن سے لطف اندوز ہوتے جاتے تھے، منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی نزلہ زکام یا بخار آ گھیرتا تھا اور پھر حکیموں اور ڈاکٹروں کی موجیں لگ جا تی تھیں۔ اللہ کا شکر ہے اب ریل کے ڈبے میں سفر کریں تو معلوم ہوتا ہے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں۔ صفائی پانی کا مکمل اور مناسب انتظام ہے، کسی کی نظر نہ لگ جائے ہماری ریلوے کو جو نئی نئی اصلاح کر رہے ہیں۔ نئی مال گاڑیاں بھی لائن اَپ ہو رہی ہیں اور لیٹ بھی دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہے۔

پچھلے دنوں جب بجلی اپنا کھیل (آنکھ مچولی) کھیل رہی تھی، تو ہر زبان پر ایک ہی جملہ تھا، بتی آ گئی، بتی چلی گئی، بھائی لوگوں نے بھی ایک لطیفہ سنایا گھڑ گھڑا کر کہ ایک انگریز ہمارے ملک آیا اردو زبان سیکھنے جب وہ واپس اپنے وطن گیا تو سب نے پوچھا اردو سیکھ آئے، ہمیں بھی سناﺅ تو موصوف نے جواباً کہا بتی آ گئی۔ بتی چلی گئی۔ کہنے کو تو لطیفہ ہی سہی لیکن سوچا جائے تو ایک ایٹمی طاقت ہونے والے ملک کی یہ عزت تو نہیں ہونی چاہئے۔

بہرحال میرے دوست گاﺅں سے آئے ہوئے تھے، پوچھتے ہیں یار یہ بجلی کا کیا ہو گا اندھیروں میں ڈوب یہ ملک، لیکن ہمارے ملازم کے گھر میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی۔ بعد ازاں پتا چلا کہ اُن کی بیٹی نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور خادم اعلیٰ صاحب نے ایسے ہونہار طالب علموں کو سولر انرجی سسٹم (محدود پیمانے والا) بطور انعام دیا تاکہ قوم کے یہ ہونہار فرزند اپنی تعلیم کو آگے بڑھا سکیں۔ ماشاءاللہ

مزید :

کالم -