گوادر پورٹ: معاشی گیم چینجر

گوادر پورٹ: معاشی گیم چینجر
گوادر پورٹ: معاشی گیم چینجر

  



گوادر پورٹ اور پاک چین معاشی کا ریڈور خطے کی خوشحالی کا عظیم منصوبہ ہے۔ ملک کی تیسری بڑی بندرگاہ، گوادر پورٹ قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ بلوچستان کے ساحل پر کراچی سے 533کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ بندرگاہ اہم ترین مقام پر واقع ہے ویسے ایران کے بارڈر سے 120کلومیٹر اور عمان سے تقریباً 380 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس منصوبے پر 1954ء میں غور کیا گیا، جب ’’یونائیٹڈ اسٹیٹ جیولوجیکل سروے‘‘ نے ’’ورتھ کانڈرک‘‘ نامی شخص کو یہاں پر نمائندہ مقرر کیا، جس نے گوادر پورٹ کو سب سے مناسب ترین پورٹ قرار دیا۔ چار سال تک غور کرنے کے بعد اس منصوبے کا 1958ء میں باقاعدہ آغاز کیا گیا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب گوادر مچھیروں کا چھوٹا سا گاؤں تھا،جس کی آبادی ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔بین الاقوامی تجارتی تعلقات کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل یہ منصوبہ امریکہ کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے تجارتی ملک چین کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات کی مضبوطی کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔یہ منصوبہ چین کی ترقی کے لئے بھی انتہائی خوش آئند ہے، چین کو خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کرنے کے لئے ایک آسان راستہ مل جائے گا۔

امید ہے کہ یہ منصوبہ اپریل 2015ء کے وسط تک آپریشنل ہو جائے گا، جس سے نہ صرف پاکستان اور چین، بلکہ خطے کے دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔ گوادر پورٹ کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیا کی ریاستوں کی تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔موجودہ حکومت ملکی معیشت کی بہتری پر شروع دن سے خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اسے درست سمت پر ڈال دیا ہے، جسے غیر جانبدار ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے بھی سراہا ہے۔ وزیراعظم کا وژن حوصلہ افزا ہے کہ ایڈکی بجائے ٹریڈ پر خصوصی توجہ دی جائے، لہٰذا تجارتی سرگرمیوں کو ترقی دینے کے لئے گوادر بندرگاہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ صنعتوں کو ترقی دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لئے گوادر کی بندرگاہ میں فری ٹریڈ زون کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے اور یہاں پر قائم ہونے والی مقامی اور غیر ملکی صنعتوں کو ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔

حکومت نے چین کے توسط سے گوادر کاشغر ریڈور کا جو منصوبہ بنایا ہے ،اس سے پورے پاکستان ،خاص طور پر قبائلی علاقوں سمیت خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا اور ان علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدل جائے گی۔ حکومت اس بندرگاہ کے ذریعے وسیع پیمانے پر کمرشل سرگرمیاں جلد سے جلد شروع کرنے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے، جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے ذریعے معاشی استحکام میں بڑی مدد ملے گی۔ بحیرۂ عرب پر واقع بندرگاہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سمیت پورے خطے میں ایک معاشی انقلاب کی نوید ہے۔ بلوچستان پاکستان کا ایک پسماندہ صوبہ ہے، لیکن قدرت نے اسے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے ۔گوادر بھی محل وقوع کے اعتبار سے قدرت کا انمول عطیہ ہے۔ گوادر پورٹ کی تکمیل سے جہاں پورا پاکستان مستفید ہوگا، وہاں بلوچستان میں بھی خوشحالی آئے گی۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار ملے گا ،عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا اور بلوچستان کے عوام بھی ایک مثبت سوچ کے ساتھ ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوں گے۔ بین الاقوامی تجارت کے لئے اس گزرگاہ کے ذریعے ملکی معیشت کی بہتری پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام محب وطن قوتیں پورے ملک ،بالخصوص بلوچستان میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے موثر اور بھرپور کردار ادا کریں۔سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس منصوبے کو کالاباغ ڈیم کی طرح متنازعہ نہ بنائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر سیاسی جماعتوں کا ابہام دور کرتے ہوئے ایک جامع پلان ترتیب دے۔ ملک کے تمام حصوں میں معاشی سرگرمیاں یکساں بنیاد پر ہونی چاہئیں، تاکہ ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے والے محب وطن پاکستانی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ وطن دشمن قوتوں، خاص طور پر بھارت کی آنکھوں میں گوادر بندرگاہ کھٹک رہی ہے اور وہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، لہٰذا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دشمن کے گھٹیا عزائم کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔

پاک چین اکنامک کا ریڈور محض ایک سڑک نہیں ہے،بلکہ یہاں پر مقامی وغیر مقامی صنعتوں کے قیام کے لئے معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے ، ریلوے لائن، تیل اور گیس کی فراہمی، جدید مواصلاتی نظام، توانائی کے ذرائع ، صنعتی شعبہ جات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی بنایا جائے گا۔ یہاں پر 2000 صنعتی یونٹ لگائے جائیں گے، جس کے لئے وفاقی حکومت نے سات سو ملین روپے مختص کئے ہیں۔ ان یونٹس کے ذریعے تیس ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔ گوادر پورٹ کے ذریعے پاکستان نیوی کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا اور دفاعی نقطہ ء نگار سے بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ گوادر، کاشغر کا ریڈور کے عظیم منصوبے کی تکمیل سے جہاں بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، وہاں بیروزگاری ختم کرنے اور دہشت گردی کو قابو کرنے میں مدد ملے گی، وطن عزیز کی افرادی قوت کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا موقع ملے گا، اس لئے یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ منصوبہ وطن عزیز کی خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

اقتصادی اور معاشی اعتبار سے گوادر کاشغر راہداری منصوبے کی تکمیل سے پاکستان خطے کا مرکز بن جائے گا۔چین پاکستان کے ساتھ مل کر گوادر کو انرجی ٹرانسپورٹ حب بنانا چاہتا ہے اور اپنے مغربی صوبوں تک گوادر کے راستے تیل کی پائپ لائن بھی بچھانا چاہتا ہے۔ خلیجی ریاستوں اور ایران سے تیل اور گیس کی درآمد کے لئے گوادر انتہائی آئیڈیل ٹرانزٹ کا ریڈور ہوگا۔گوادر کی بندرگاہ کے پوری طرح فعال ہونے اور مواصلاتی نیٹ ورک کی تکمیل کے بعد پاکستان کی بحری تجارت میں تین گنا اضافہ ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈر اور میڈیا اس منصوبے کی کامیابی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ وزیراعظم نوازشریف کے عزم اور ذاتی دلچسپی کی بدولت گوادر پورٹ عنقریب آپریشنل ہو جائے گا اور ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

مزید : کالم