دنیا کی شرمناک ترین یونیورسٹیوں کی فہرست منظر عام پر۔۔۔

دنیا کی شرمناک ترین یونیورسٹیوں کی فہرست منظر عام پر۔۔۔
دنیا کی شرمناک ترین یونیورسٹیوں کی فہرست منظر عام پر۔۔۔

  

لندن (نیوز ڈیسک) مغرب کی بڑی یونیورسٹیاں کئی صدیوں سے اپنے علمی و تحقیقی مرتبے کی وجہ سے مشہور چلی آ رہی تھیں، مگر اب یہی یونیورسٹیاں ایک انتہائی شرمناک حوالے سے دنیا بھر میں شہرت پارہی ہیں۔ اخبار ”دی انڈیپینڈنٹ“ کے مطابق مغربی یونیورسٹیوں کے سٹوڈنٹس، خصوصاً طالبات، کی بھاری تعداد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اپنی عزت بیچنے کا مشغلہ اختیار کر چکی ہے۔

ویب سائٹ SeekingArrangement.comنے انکشاف کیا ہے کہ صرف برطانوی یونیورسٹیوں کی تقریباً سوا دو لاکھ طالبات مالدار اور صاحب حیثیت مردوں کی تلاش کے لئے اس ویب سائٹ کی رجسٹرڈ رکن ہیں۔ ویب سائٹ کے سی ای او برینڈن ویڈ کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا کہ طلبا و طالبات اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض لیا کرتے تھے یا پارٹ ٹائم ملازمت کرتے تھے مگر اب اس مقصد کے لئے کسی مالدار شخص کے ساتھ وقت گزارنا اور اس کے بدلے رقم حاصل کرنا کہیں زیادہ مقبول ہوچکا ہے۔

برینڈن کا کہنا ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ہونے والے کل طلبا وطالبات کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے، جس میں اکثریت طالبات کی ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خود کو بیچ کر رقم کمانے والی اکثر طالبات ضرورت مند طبقے سے تعلق نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا تھا صرف 24 فیصد کا تعلق کم آمدنی والے گھرانوں سے ہے، جبکہ 56 فیصد مڈل کلاس اور 20فیصد کا تعلق اپر کلاس سے ہے۔ ان طالبات کو ”شوگر بے بی“ کا نام دیا جاتا ہے اور انہیں رقم دے کر ان کے ساتھ وقت گزارنے والے مرد ”شوگر ڈیڈی“ کہلاتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بلند ترین معیار کی حامل یونیورسٹیوں کی طالبات بھی یہ کام کررہی ہیں۔ صرف ایک شرمناک ویب سائٹ کی طرف سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق ان کے پاس رجسٹرڈ طالبات کی تعداد اور ان کی یونیورسٹیوں کے نام کچھ یوں ہیں:

-1 یونیورسٹی آف پورٹس ماﺅتھ (216طالبات)

-2 یونیورسٹی آف کینٹ (212 طالبات)

-3 یونیورسٹی آف ساﺅتھ ویلز (208 طالبات)

-4 یونیورسٹی آف کیمبرج (207طالبات)

-5 یونیورسٹی آف نوٹنگم (195 طالبات)

-6 یونویرسٹی آف آرٹس لندن (186 طالبات)

-7 یونیورسٹی آف سنٹرل لنکا شائر (173 طالبات)

-8 یونیورسٹی آف مانچسٹر (172 طالبات)

-9 یونیورسٹی آف برسٹل (171طالبات)

-10 یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز (165 طالبات)

اس ویب سائٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”شوگر بے بی“ کے طور پر خدمات فراہم کرنے والی طالبات میں سے تقریباً 70 فیصد سفید فام اور تقریباً 8 فیصد سیاہ فام ہیں۔ ایشیائی اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی تقریباً دو فیصد ہیں، جبکہ باقی کا تعلق دیگر نسلوں اور خطوں سے ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -