2016ء کیسا ہو گا؟

2016ء کیسا ہو گا؟
 2016ء کیسا ہو گا؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ سال بھی سیاسی و عسکری ہر لحاظ سے مدو جذر کا شکار رہے گا۔ دہشت گردی ، مشرق وسطیٰ کا بحران، ایشیا میں کشیدگی، چین کی معیشت پر اثرات امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج، جو لازمی طور پر عالمی سیاست پر اثر انداز ہوں گے، یورپ میں یورپی یونین کا مستقبل۔۔۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سال بھی2015ء سے زیادہ مختلف نہیں ہو گا۔ وہی مسائل، وہی مشکلات، بلکہ زیادہ ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے حالات کے پیش نظر وہاں سے لوگوں کی نقل مکانی، امریکہ اور یورپ کا ردعمل۔۔۔ کون پناہ دیتا ہے، کون سرحدیں بند کرتا ہے؟ کچھ تو اپنے داخلی معاملات کی وجہ سے اور کچھ اس خدشے کے پیش نظر کہ مہاجرین کی شکل میں دہشت گرد، داعش اور آئی ایس آئی ایس کے کارکن بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے اور یورپی ممالک میں اختلاف کی وجہ بھی۔ ایک تو اُن کی معیشت پر بوجھ، دوسرا دہشت گردی کا خطرہ۔۔۔ کیسے رکھا جائے؟ کہاں رکھا جائے؟قبول کیا بھی جائے یا نہیں؟ آئی ایس آئی ایس کے نام پر یہ لوگ مسلم ممالک اور مسلمانوں کے لئے ہی پریشانی کا باعث اور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ابھی تک اُن کے ’’اسلامی نظریات‘‘ نہ فقہی اعتبار سے اور نہ سیاسی اعتبار سے واضح ہیں۔ وہ مساجد پر بھی حملے کرتے ہیں، امام بارگاہوں پر بھی، ایرانی مفادات اور سعودی مفادات بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔ بحیثیت اُمت اسلامیہ کا ایک حصہ ہونے کے ہمیں سب سے پہلے(میرے خیال میں) آئی ایس آئی ایس کے بارے میں اندازہ کرنا ہو گا کہ اس کے مقاصد کیا ہیں؟۔۔۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بڑے منظم طور پر شام اور عراق میں اِن کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں پر بے تحاشہ فضائی حملے کر رہے ہیں۔۔۔ مقصد ان کو محدود کرنا اور پھر ہوسکے تو ختم کرنا ہے۔

مصر کی سرحد کے اندر روسی جہاز کو نشانہ بنانا: نومبر2015ء میں پیرس میں بڑی مہارت سے بم دھماکے اور دسمبر میں سان برنارڈینو(امریکہ) میں حملے اِس بات کاثبوت ہیں کہ مشرق وسطیٰ سے نکل کر آئی ایس آئی ایس، جو ان کی جائے پیدائش ہے، عالمی سطح پر آپریٹ کر رہی ہے۔وسط ایشیا، افغانستان اور روس کے پڑوس میں بھی ان کی موجودگی کے ثبوت ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں ان کا منظم وجود نہیں، لیکن وہ مائنڈ سیٹ موجود ہے جو ان کا معاون اور سہولت کار بن سکتا ہے۔ اس جارحانہ حکمت عملی کی وجہ سے مغرب کا رویہ بھی ظالمانہ حد تک جارحانہ ہو گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ان کے مضبوط وجود کے باوجود بہت سے ممالک وہاں اپنی فوج بھیجنے سے پہلو تہی کر رہے ہیں، لیکن فضائی حملوں میں معاون ہیں، اسلحہ بھی مہیا کرتے ہیں، لیکن اپنے ٹروپس افغانستان کی طرح نہیں بھیجنا چاہتے۔ کردوں کو ہر قسم کی عسکری امداد مہیا کر رہے ہیں، لیکن ایسے کرنا مفید ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ افغانستان میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان آج بھی موثر طاقت ہیں اور افغانستان کا بیشتر علاقہ ان کے قبضے میں ہے، لیکن یہ خوش آئند بات ہے کہ وہ ’’مذاکرات پر آمادہ ہیں‘‘۔ ان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فضائی حملے کافی نہیں ہیں۔

اکتوبر2015ء میں شام میں روس کی عسکری مداخلت نے معاملات سلجھانے کی بجائے اُلجھا دیئے ہیں۔ ترکی کی جانب سے ایک روسی جہاز پر حملے اور تباہی سے روس اور ترکی آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ آئی ایس آئی ایس کے خلاف کُرد ایک موثر طاقت ہیں، لیکن کُردوں کا مضبوط ہونا ترکی کے مفاد میں نہیں ہے۔ روس کی فضائیہ کا اصل ہدف آئی ایس آئی ایس نہیں، بلکہ صدر اسد کے خلاف برسر پیکار باغی ہیں جنہیں مغرب اور سعودی عرب کی امداد حاصل ہے ، جو صدر اسد کو ہر قیمت پر اقتدار سے محروم کرنا چاہتے ہیں، لیکن روس اور ایران انہیں ہر قیمت پر اقتدار میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ وہ پاور شیئرنگ کے فارمولے پر شاید متفق ہو جائیں، چنانچہ وہاں جنگ بندی بھی ہو گئی ہے، لیکن خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔۔۔ سرکاری فوج کی طرف سے بھی اور باغیوں کی طرف سے بھی۔ ادھر امریکہ کے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران شام میں زمینی فوج بھیجنی چاہئے یا نہیں؟ ایک اہم سوال ہے۔ سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی بظاہر کم ہوئی ہے، لیکن ان کی پراکسی وار یمن اور عراق میں جاری ہے۔امریکہ اور فرانس میں آئی ایس آئی ایس کی کارروائیوں سے بظاہر امریکی عوام کی خواہش ہے کہ افغانستان کی طرح شام میں بھی فوج بھیجنی چاہئے، لیکن ٹرمپ جو عراق، افغانستان میں فوج بھیجنے کے شروع سے ہی مخالف تھے ، ان کا کہنا ہے کہ پندرہ کھرب ڈالر خرچ کرنے اور بے شمار فوجیوں کو مروانے کے بعد بھی ہم کچھ حاصل نہیں کر پائے، اُن کی بات کو بھی امریکیوں کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔

صدر اوباما نے محدود تعداد میں فوجی دستے عراق اور شام کے لئے بھیجے ہیں جو آئی ایس آئی ایس کے خلاف کارروائیوں کا حصہ ہیں، لیکن بڑی تعداد میں فوج بھیجنے سے وہ بھی گریزاں ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جن ملکوں کا یہ مسئلہ ہے، اُن کی زمینی افواج کو یہ بوجھ برداشت کرنا ہو گا اور ہم ان کی فضائی حملوں اور دیگر ضروریات کے لئے اسلحہ وغیرہ مہیا کرنے میں مدد دیتے رہیں گے۔ آئی ایس آئی ایس کو تباہ کرنا ضروری تو سمجھتا جاتا ہے، لیکن مغرب، امریکہ، سعودی عرب اور حالیہ اتحاد اگر اس میں مکمل اور پورے طور پر کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو کیا اس کے بعد بہتری آئے گی یا یہ مائنڈ سیٹ کسی اور شکل میں پھر سے سر اٹھائے گا اور ایک نیا مسئلہ بن جائے گا؟۔۔۔ روس اور امریکہ کے تعلقات پچھلے سال اچھے نہیں رہے۔ اس سال بھی بہتری کی امید نہیں ہے، لیکن کبھی کبھی روشنی کی کرن بھی نظر آ جاتی ہے، لیکن کیا تعلقات معمول کے مطابق اور بہتر ہو سکیں گے؟ نظر تو نہیں آتا کہ مغرب اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی، لیکن بعض معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون ہو سکتا ہے۔ ’’دونوں کے درمیان مفادات مختلف ہو سکتے ہیں اور ہیں، لیکن مخالف بھی نہیں ہیں‘‘۔ شام کا مسئلہ ایک مثال ہے۔ روس بھی آئی ایس آئی ایس کو ختم کرنا چاہتا ہے، اسی طرح مغرب اور امریکہ بھی آئی ایس آئی ایس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں کہ شام میں خانہ جنگی کس طرح ختم کی جا سکتی ہے یا کم از کم روکی جا سکتی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔ اللہ کرے ہو جائیں۔۔۔ تو پھر پوری توجہ آئی ایس آئی ایس کی طرف ہو جائے گی۔

مشرق وسطیٰ کی حد تک تو یہ ٹھیک ہے،لیکن یوکرائن میں صورت حال مختلف ہے۔اس مسئلے پر یورپ اورروس۔ امریکہ اور روس ایک دوسرے کے مخالف صف آرا ہیں۔ ایک خوش آئند تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ پچھلے سال تک محسوس ہوتا تھا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر اختلاف، تنازعہ، پابندیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی، لیکن مذاکرات کے تسلسل سے یہ معاہدہ بھی طے پا گیا، لیکن اسرائیل اور اس کے ہم نوا ، جو یورپ میں بھی ہیں اور امریکہ میں بھی مسلسل شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ ایران کبھی معاہدے کا پابند نہیں رہے گا اور خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کے پروگرام کو جاری رکھے گا، لیکن یہ بات بھی اہم ضرور ہے کہ پندرہ سال تک ایران پروگرام روک دے گا اس کے بعد؟۔۔۔ ایران پر کوئی قدغن نہیں رہے گی۔ اس وقت بھی ایران میں ایک بڑا حلقہ اس معاہدے کے خلاف ہے، لیکن بہر حال معاہدہ تو ہو گیا ہے۔ اس سے ایران پر عائد پابندیاں ختم ہیں، اس کے بعد منجمد اثاثے بھی اسے حاصل ہو جائیں گے اور ایران ایک بڑی معاشی طاقت بن جائے گا، چونکہ یہ دُنیا معیشت کی دُنیا ہے، لہٰذا ایران عالمی سطح پرسیاسی کردار بھی ادا کرے گا۔ واشنگٹن اور یورپ، ایران پر گہری نظر رکھیں گے، لیکن اس معاہدے کے باوجود ایسے کئی معاملات ہیں جو اس معاہدے کے زیر اثر نہیں ہیں۔ مثلاً پندرہ سال کے بعد بھی کوشش رہے گی کہ ایران ایٹمی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔

پچھلے سال امریکہ اور چین کی کوشش رہی ہے کہ ان کے اختلافات ایک حد تک رہیں اور گاہے بگاہے مذاکرات بھی ہوتے رہے۔ خصوصاً ماحولیاتی، موسم کی تبدیلی کے منفی اثرات کو روکنے کے لئے ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، لیکن چین کا جنوبی سمندروں پر دعویٰ وجہ تنازعہ بنا رہا اور ہے۔ چین نے اس میں کئی مصنوعی جزیرے بھی بنائے ہیں جہاں اس کی فوج تعینات ہے اور ان کے اطراف بارہ بارہ میل تک کا علاقہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے، امریکہ نے اپنا جنگی سمندری بیڑا اس علاقے میں بھیجا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے، بلکہ کھلا سمندر ہے۔ چین کا دعویٰ نہیں مانا جا سکتا۔ جواب میں چین نے اپنے لڑاکا فضائی جہاز اس علاقے میں پٹرولنگ کے لئے بھیج دیئے۔امریکہ کے طیارہ بردار جہازوں سے بھی اکثر لڑاکا طیارے چکر لگاتے ہیں ۔ دونوں طرف کے جہازجدید ترین اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں، کبھی بھی کچھ ہو سکتا ہے، پوری احتیاط کے باوجود کہ کوئی حادثہ جنم نہ لے۔

ایک اور قابل ذکر مسئلہ امریکہ کے صدر اوباما اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ناخوشگوار تعلقات ہیں۔ ایران کے ساتھ معاہدہ بھی اس کی وجہ ہے۔ اوباما کے باقی صدارتی عرصے میں کسی مثبت تبدیلی کی امید نہیں ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کا اونٹ بھی کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا، بلکہ یروشلم اور مغربی پٹی میں تشدد کے واقعات بڑھتے نظر آتے ہیں۔ بہرحال امریکہ اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات بدستورمضبوط رہیں گے۔لبنان میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں لبنان سے خوش نہیں اور کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ سعودی عرب نے لبنان کے لئے چار ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا اسے بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔جنوبی ایشیا میں قدرے خاموشی رہے گی، افغانستان میں سیاسی استحکام کے ساتھ اپنے لئے ’’سافٹ کارنر‘‘ افغانستان کی حکومت سے بہتر تعلقات، بھارت اور پاکستان دونوں کی کوشش رہے گی، جس کی وجہ سے قدرے کشیدگی کا ماحول بھی رہے گا۔ افغانستان میں طالبان کی سرگرمیاں اور کامیابیاں جاری ہیں، لیکن ساتھ ہی مذاکرات پر آمادگی خوش آئند ہے۔ ان تمام عناصرو عوامل کو دیکھتے ہوئے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ2016ء کا سال پچھلے سال سے مختلف اور بہتر ہو گا، کہیں بھی ایک چنگاری بھڑک کر آگ بن سکتی ہے اور اس’’گلوبل ولیج‘‘ میں ہم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

مزید : کالم