دس کروڑ

دس کروڑ
دس کروڑ

  

مردم شماری۔۔۔جو ہر چھ سال یا سات سال بعد ہو نا لازمی قرار پائی اور جس میں یہ طے کیا گیاکہ ملک کے طو ل و عرض میں انسانوں کی حقیقی تعداد معلوم کی جائے اور ان اشخا ص کو اہم جانتے ہو ئے ما ل مویشی،خوراک، سبزیاں، دودھ، شہد اور زیبِ تن کر نے کوکپڑوں کا بندوبست کیا جا ئے، آ پ غلط سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمیں میسر آ نے لگا ہے میں ملکِ پاکستان کی بات نہیں کر رہا۔ یہ چھ ہزاربرس پہلے اہلِ بابل نے اپنے سماج کے لئے مر دم شما ری کا معیار طے کیا۔ ہما رے حکمرانوں کی ذہنی سطح سے کس قدر بلند معیار حکمرانی اہلِ با بل کو ہزاروں برس پہلے میسر تھا۔ ہما رے عہد جدید کے وزیرِ اعظم اور ان کے چا روں وزراءاعلیٰ نے طے کیا ہے کہ اٹھارہ برس سے مو خر مردم شماری کو مزید مو خر کر دیا جا ئے۔مجھے اپنے بچپن سے شا عرِ عوام حبیب جالب کے اس مصرعہ ” یہ جو دس کروڑ ہیں“ سے پتہ چلا تھا اہلِ وطن دس کروڑ ہیں، پھر کان با رہ کروڑ آ بادی سے آ شنا ہوئے، پلک جھپکنے میں ہم چو دہ کروڑ سے سولہ کروڑ کا ہندسہ عبور کرتے ہو ئے بیس کروڑ آبادی تک پہنچ گئے۔ آ خری مر دم شما ری میں ہما ری کل آ بادی کا شمار چودہ کروڑ ہوا تھا،پا کستان دنیا کے اُن مما لک میں شامل ہے جہاں آ با دی بے ہنگم انداز میں بڑھ رہی ہے بلکہ منا سب ہو گا کہ ” وہاں منصو بہ بندی کا ہے شور، یہاں کا کے پہ کا کا چل رہا ہے“ مردم شما ری کا صحیح اور بر وقت ہونا اس لیے بھی ضر وری ہو تا ہے کہ ہر سال کے مالی بجٹ کو اس تنا سب سے تشکیل دیا جا ئے،مگر یہاں 1998 کی مردم شماری کو معیار مان کرسترہ بجٹ بن گئے قو می اور صو با ئی اسمبلیوں سے منظوری بھی پا گئے اور ہمیں لفظوں کے گو رکھ دھندوں سے ایشئین ٹا ئیگر (میرا مطلب ہے احمق) بھی بنا یا جا چکا ہے۔جب سرے سے صحیح آ بادی ہی معلوم نہیں پڑ رہی تو اس کی خا طر بننے والا ہر منصوبہ نا قص ہی ہو گا، چونکہ ابتدا میں بنیا د ٹیڑ ھی ہو تی ہے تو ترقیا تی منصو بوں کے لیے مختص رقم ضمنی گرانٹس کے ذریعے تخمینہ کے ابتدائی اندازوں سے کہیں ذیا دہ ہو جا تی ہے۔یوں ہم معا شی اہداف کے سا تھ ساتھ کئی دیگر اہم اہداف جیسے ہیو من ڈویلپمنٹ انڈیکس، فی کس آ مدنی میں بہتری، تعلیم و صحت کے بہتر اہداف (جی ۔ڈی۔پی کا دوفیصد خرچ کر کے خاک ہدف حا صل ہو گا)، بڑے شہروں میں بڑ ھتی آ بادی کو روکنے کا ہدف، بہتر شہری زند گی کا حصول، بھو ک اور افلاس میں کمی کے سا تھ ساتھ اجناس کی پیداوار میں کمی اور اسکی منصفانہ تقسیم کے مسا ئل سے نمٹنے میں نا کام رہتے ہیں۔ورلڈ بینک کی ایک ہو شربا رپورٹ آ پکی آ نکھیں کھو لنے کے لیے کا فی ہے کہ پاکستان کے پچیس بڑے شہروں کی آ با دی میں 73 فیصد اضا فہ محض گزشتہ دس برس میں ہوا ہے۔ملکی پلا ننگ کے اداروں کی اس سے بڑی کیا نا کا می ہو گی کہ اسلام آ باد کی آ با دی سب سے زیا دہ بڑ ھی ہے، مجھے ڈر اور خوف یہ بھی ہے کہ اس رپورٹ میں پندرہ سال میں آ با د ی انتہا ئی تیز ی سے بڑ ھنے کی پیشگوئی بھی ہے۔پو ری دنیا میں urbanisation. کا رجحان 70ءکی دہا ئی سے 2000ءتک رہا ہے مگر اس کے بعد بڑے شہروں کی بڑھتی آ با دی پر جا مع کنٹرول کے منصو بے بنا ئے گئے، لو گوں کی آ گہی بڑ ھا ئی گئی نتیجتاً De-urbanisation. کا رجحان مقبول ہوا۔مگر ہما رے یہاں دنیا کے بر عکس گنگا الٹی بہہ رہی ہے، میں غور و فکر کے میدان میں اپنی سوچ کے گھو ڑے دوڑا رہا ہوں اور وجو ہات کا پتہ لگا نے کی کو شش کر رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟یقیناً یہ بڑے صنعتی اداروں کا بڑے شہروں کے آس پاس بننا، بڑے بڑے میگا سٹر کچرز، اچھے تعلیمی و صحت کے اداروں کی بڑے شہروں میں مو جودگی اور بہتر روز گار کی کشش چھو ٹے شہروں کے لو گوں کو کھینچ کر لا رہی ہے اور یہ کشش ہمیں یہ بھی پتہ دے رہی ہے کہ و سا ئل کی تقسیم پا کستان میں ٹھیک نہیں ہو رہی۔ اب یہ ملک بڑ ھتی ہو ئی آ با دی جیسے با رود کے ڈھیر پر کھڑا ہے،جسکی 60 فیصد آ با دی 2 ڈالر یو میہ سے بھی نیچے بد تر زندگی گزار رہی ہے اور فی کس آ مد نی میں ہمارا شمار دنیا میں 133واں ہے، گو یا۔۔۔

زندگی کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑ ی درد کے پیوند لگے جا تے ہیں

ایک طرف ہما رے وسا ئل خطر ناک حد تک کم ہو تے جا رہے ہیں دو سری جا نب منصو بہ بند ی کی دھجیاں ”کا کے پہ کا کہ چل رہا ہے“ کے مصداق اڑا ئی جا رہی ہیں، اگر معا ملہ یہ در پیش ہو تو خاک ہیو من ڈویلپمنٹ ہو گی؟ جی ہاں انسانی ترقی میں ہما را شمار 147ویں نمبر پر ہے، اچھے سی اچھی قیا دت ہمیں میسر آ بھی جا ئے تو پھر بھی کم ہو تے وسائل اور بڑ ھتی ہو ئی آ با دی کے ساتھ انسانی ترقی ہو ہی نہیں سکتی ، میں آ پکو مثا ل پیش کئے دیتا ہوں کہ 2000سے 2008 تک مشرف کے آ مرا نہ دور میں صو با ئی سطح پر ہیو من ڈویلپمنٹ رفتا ر بہت بہتر تھی مگر جو نہی سیا سی حکومتوں نے کا روبار سنبھا لاتو2008سے 2014تک اس میں سست روی دیکھی گئی،ہمارا عمو می تا ثر یہی ہے کہ اس تنزلی کے ذمہ دار بھی سیا ستدان ہیں، شا ید کسی حد تک ہونگے مگر کو ئی اصل مسئلہ کی بھی نشا ندھی کر دے ، حقیقی مسئلہ بڑھتی ہو ئی آ با دی ہے کیو نکہ اس دوران آٹھا رویں آ ئینی تر میم کے ذریعے صو بوں کو خود مختا ری بھی ملی اور نیشنل فنانس کمیشن کے ذ ریعے وسا ئل میں اضا فہ بھی ہوا۔ آ با دی کے اس بڑ ھتے ہو ئے دو زخ میں ہم جتنے مر ضی وسا ئل کیوں نہ جھو نک دیں مگر نتیجہ صفر رہے گا۔ہم شا ید ایک مسئلہ حل بھی کر لیں تو ہمیں کو ئی نہ کو ئی اور مسئلہ گھیر لے گا، جیسے اس بڑ ھتی ہو ئی آ با دی کو آ یندہ بڑا چیلنج پینے کے صاف پانی کا ہے،اس ملک میں دستیاب 82فیصد پانی پینے کے قا بل نہیں رہا،اس کے تدارک کے لئے کو ئی قا نوں سا زی، کو ئی ہنگا می پلان آ پکی نظر سے بھی گذرا ہو تو براہِ کرم میری بھی اصلاح فر ما دیجئے۔دنیا بھر میں آ جکل حقیقی اہداف یہی ہیں، ان میں بہتری لانے کے منصو بے اور پلا ننگ بن رہی ہیں، 1990سے 2015تک ترقی پذیر ممالک (میں ترقی یا فتہ مما لک کی بات نہیں کر رہا ) میں بھو ک کی شرح 24فیصدسے کم ہو کر 13فیصد رہ گئی ہے اور پا کستان میں ان 25برسوں کے عر صے میں خوراک کی کمی کے شکار افراد میں 38فیصد اضا فہ ہو ا ہے،اگر اب بھی کم بچے خو شحال گھرانے والی منطق ہم نہ سمجھے تو خوراک کے حصول اور تقسیم کا مسئلہ مزید بڑ ھتا جا ئے گا، کیو نکہ پاکستان اُن مما لک میں شا مل ہو چکا ہے جہاں زمین کی ذر خیزی میں میں کمی کے ساتھ ساتھ زیر زمین اور آ بپا شی کے لئے دستیاب پانی کی کمی کا سامنا ہے۔دنیا بھر کی معیشت میں زراعت کا حصہ 40فیصد ہے پاکستان میں ہما ری معیشت کا برہِ راست تعلق زر عی آ مدنی سے ہے، اگر اس شعبہ میں مزید خرابی در آ ئی تو اسکا دبا ﺅ لازمی طور پر معیشت پر اثر انداز ہو گا، بھوک اور غربت و افلاس میں مزید اضا فہ ہو گا جو پا کستان میں گزشتہ 25بر سوں میں 38فیصد بڑھ چکی ہے۔اس صور تحال میں کیا عجب ہے جب اعلیٰ عدالت کے ججز یہ کہتے ہیں کہ ملک میں بیما ریوں سے 98فیصد لو گ مر تے ہیں،بڑھتی ہو ئی آ با دی ، صاف پینے کے پانی میں کمی، زیرِ زمین پانی کی سطح کم، بھوک کی شرح میں ہو شربا اضا فہ اور بیما ریوں سے اموات ! ان سب کا آپس میں میں گہرا تعلق نہیں ہے؟ کیا ہم بطور معا شرہ اسے سمجھنے کو تیار ہیں؟ مان لیا ہمارے بہت سے مسا ئل کا تعلق قیا دت سے ہے ، حکمرانوں نے ہمیں بہت دکھ اور آ زار دیے ہو نگے ،مگر مجھے یہ سو چنے کی اجازت دیجیئے کہ ہم خود بطور عوام اس کے ذمہ دار نہیں؟کیا اہلِ مذ ہب نے اس پر ہماری رہنما ئی کر تے ہو ئے اجتہاد کا دروازہ کھو لا؟ کیا ہم بحیثیتِ مجموعی اپنے لیے وحشت کا سا مان کرنے میں خو د کفیل نہیں؟

احمدابوبکر:مصنف دنیا ٹی وی کے پرو گرام”آن د ی فرنٹ“ کے پرو ڈیو سر ہیں اورپا کستان میں سیاست،معیشت اور معاشرت کو بہت گہری نظرسے دیکھنے کا تجر بہ رکھتے ہیں

مزید :

بلاگ -