”روشن خیالی“ سستی شہرت کے لئے ماڈلز اخلاقی حدود پارکرگئیں

”روشن خیالی“ سستی شہرت کے لئے ماڈلز اخلاقی حدود پارکرگئیں
”روشن خیالی“ سستی شہرت کے لئے ماڈلز اخلاقی حدود پارکرگئیں

  

لاہور (ویب ڈیسک) بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کرنے کے لئے پاکستانی ماڈلز تمام اخلاقی حدود پارکرگئیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کی ”روشن خیالی“ کے چرچے، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں پاکستانی لڑکیوں کے ”مقابلہ حسن“ تسلسل سے منعقد ہونے لگے، دولت اور شہرت کے حصول نے پاکستانی لڑکیوں کو اندھا کردیا،نئے ”مقابلہ حسن“ کی تیاریاں جاریں۔

روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق دنیابھر کے مختلف ممالک میں ہر سطح پر ”مقابلہ حسن“ منعقد کئے جاتے ہیں جس میں تمام ممالک سے تعلق رکھنے والی ماڈلز شرکت کرتی ہیں لیکن پاکستان کے اسلامی اور مذہبی تشخص کی وجہ سے نہ تو ملک میں ایسے مقابلوں کی اجازت ہے اور نہ ہی بیرون ملک لیکن چند سالوں سے دنیا کے کئی ممالک میں پاکستانی ماڈلز کے ”مقابلہ حسن“ منعقد کئے جاتے ہیں جن میں نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں مقیم لڑکیاں بھی شرکت کرتی ہیں۔ پاکستانی لڑکیوں کو مختلف ویب سائٹوں کے ذریعے بھاری رقوم اور شہرت کا لالچ دے کر ان مقابلوں میں شرکت کے لئے کہا جاتا ہے جس کے لئے ہر سال پاکستان اور اس کے علاوہ دیگر ممالک میں مقیم لڑکیاں ان مقابلوں میں شرکت کی درخواست دیتی ہیں جنہیں مختلف مراحل سے گزر کر شرکت کی اجازت مل جاتی ہے۔ ایسے مقابلے زیادہ تر امریکہ اور کینیڈا میں ہوتے ہیں۔ مقامی اخبار کے مطابق کینیڈا اور امریکہ میںمقیم کئی پاکستانی افراد نے ایسی ویب سائٹس بنائی ہیں جہاں لڑکیوں کو ان مقابلوں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں فیشن انڈسٹری سے وابستہ کئی افراد اس سلسلے میں معاونت کرتے ہیں۔

حال ہی میں ایک پاکستانی ماڈل دیا علی نے فلپائن میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کرکے ایک ٹائٹل جیتا تھا۔ اس مقابلے میں شرکت کے دوران جب ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں تو انہیں بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن دیا علی نے کسی بات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بین الاقوامی سطح پر کام کیا جاتا ہے تو وہان کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا پڑتا ہے، مٰں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر مجھے شرمندگی ہو۔ دیا علی ”مس ورلڈ“ کے لئے بھی کوالیفائی کرچکی ہیں جبکہ ان دنوں وہ دبئی میں ہونے والے ایک اور مقابلے میں شریک ہیں جہاں کئی اور پاکستانی ماڈلز شریک ہیں۔ دیا علی سے پہلے ایک اور پاکستانی ماڈل اسما زرناب نے بھی دو مقابلوں میں شرکت کرکے ٹائٹل حاصل کیا تھا۔

فلم ”شعلے“ کا ایک سین مکمل کرنے میں 3 سال لگے تھے، امیتابھ بچن کا انکشاف

چند سال پہلے کینیڈا میں کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون سونیا نے ایک کمپنی بنائی تھی جو گزشتہ کئی سالوں سے وہاں ”مقابلہ حسن“ منعقد کرارہی ہیں۔ ان مقابلوں میں ”مس پاکستان ورلڈ“ کا ٹائٹل کئی لڑکیاں جیت چکی ہیں جنہیں اس کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ ان میں سے بیشتر لڑکیوں کے انتہائی بولڈ فوٹوشوٹ اور تصاویر مختلف ویب سائٹس پر موجود ہیں جس پر مذہبی اور سماجی حلقوں نے کئی بار ردعمل کا اظہار بھی کیا لیکن ان لڑکیوں کا کہنا ہے کہ وہ دنیا میں پاکستان کو ”روشن خیال“ ملک کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہیں کیونکہ دنیا بھر کے لوگ پاکستان کو قدامت پسند تصور کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ کینیڈا میں ہونے والے ”مس پاکستان ورلڈ 2016ئ“ کا ٹائٹل رمینہ اشفاق، 2015ءکا ٹائٹل عنزلیکا طاہر، 2014ءکا ٹائٹل عاتکہ فیروز اور 2013 کا ٹائٹل شانزے حیات نے حاصل کیا تھا۔ ان مقابلوں کے شرکت اور ٹائٹل جیتنے کے بعد پاکستانی ماڈلز کو دیگر ممالک میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کی اجازت مل گئی جہاں انہوں نے کئی اور ٹائٹل جیتے۔

مزید :

تفریح -