”جاﺅ یہ تعویز لڑکی کے کچن میں چھپا دو، وہ لڑکی بدھ والے دن تمہیں۔۔۔“ پاکستان میں ”عشق بابا“ منظرعام پر آ گیا

”جاﺅ یہ تعویز لڑکی کے کچن میں چھپا دو، وہ لڑکی بدھ والے دن تمہیں۔۔۔“ ...
”جاﺅ یہ تعویز لڑکی کے کچن میں چھپا دو، وہ لڑکی بدھ والے دن تمہیں۔۔۔“ پاکستان میں ”عشق بابا“ منظرعام پر آ گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں جعلی عاملوں کی کوئی کمی نہیں، گھریلو جھگڑے ہوں، یا شادی کا مسئلہ، امتحانات میں پاس ہونے کی فکر ہو یا آمدن میں کمی، جعلی عامل ہر کام راتوں رات کر دینے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کئی معصوم افراد ان کی بھینٹ چڑھ کر پیسوں سے محروم ہوتے ہیں۔

معروف برانڈز کے گرمیوں کے ملبوسات کیلئے شاندار سہولت متعارف، خواتین کیلئے خوشخبری آگئی

ان سب کے بعد اب ایک ایسا عامل بھی سامنے آیا ہے جو ایک تعویز دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لڑکی چند ہی دن میں ”آئی لو یو“ کہہ دے گی۔ یہ عامل اپنا نام ”پیر دکھن شاہ“ بتاتا ہے لیکن آپ اسے ”عشق بابا“ بھی کہہ سکتے ہیں جو مرض عشق کا علاج دو چاہنے والوں کو ملا کر کرنے کا دعویدار ہے۔

اس عامل کی جو ویڈیو منظرعام پر آئی ہے اس میں ہی شخص اسے آپ بیتی سناتے ہوئے کہتا ہے کہ ” لڑکی کے ساتھ پہلے میں باتیں وغیرہ کرتا تھا لیکن پھر وہ ایک مہینے کیلئے یہاں رہنے آئی جس کے بعد میں نے اسے کہا کہ تم مجھے خوبصورت لگتی ہو اور میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔“

”عشق بابا“ نے بغور سننے کے بعد سوال کیا کہ ” کیا تم 99 فیصد پیار کرتے ہو اس کے ساتھ؟“ جواب ہاں ملنے پر دوبارہ پوچھا کہ ”لڑکی کتنا پیار کرتی ہے تمہارے ساتھ۔“ تو جواب ملا کہ اس کا مجھے نہیں پتہ۔ اتنا سننے ’باباجی‘ مکمل جلال میں آ کر اپنے سامنے رکھے ڈیسک پر تین مرتبہ زور زور سے مکا مارتا ہے اور ساتھ ہی یہ الفاظ بھی دہراتا ہے ’حق، حق، حق۔‘

عامل ایک خالی کاغذ کے ٹکڑے پر چند آڑھی ترچھی لائنیں مارنے کے ساتھ حق، حق کے الفاظ بھی دہراتا ہے اور پھر یا اللہ، یا اللہ بھی کہتا ہے، اس کے بعد عشق کے متلاشی شخص سے دوبارہ سوال کرتا ہے کہ ” لڑکی کے کچن تک پہنچ سکتے ہو، اس میں ایک چاٹی (مٹی کا برتن) ہو گا، یا پھر آٹے کی پیٹی کے نیچے یہ دبا دینا، وہ لڑکی بدھ کی رات کو تمہیں ’آئی لو یو‘ کہ دے گی۔“ اس موقع پر بابا کو یہ بتایا جاتا ہے کہ لڑکی ’منڈی‘ کی ہے (منڈی بہاﺅ الدین)، جس پر بابا بڑے اعتماد سے کہتا ہے کہ ”اوئے کڑی جتھوں دی وی ہووے(اوئے لڑکی جہاں بھی رہتی ہو)، وہ تمہیں آئی لو یو کہہ دے گی۔“ 

بابا مزید ’فرماتا‘ ہے کہ جب وہ تمہیں آئی لو یو کہہ دے تو کام ہو گیا، پھر تم میرے دربار پر آ جانا، میرا نام پیر دکھن شاہ میرا نام ہے اور جہاں کھجوریں لگی ہیں وہاں میرا دربار ہے۔ میں نے اب تک جن لوگوں کو بھی تعویز دیا ہے ان سب کا کام ہو گیا ہے۔ اور یہاں یہ تعویز بھی تم نے ایسے نہیں پکڑنا بلکہ جھک کر تعویز پکڑنا ہے۔

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

دلچسپ امر یہ ہے کہ ’بابا جی‘ اس تعویز کی تہہ لگانے کے بعد اسے ہونٹوں پر لگا کر ’حق ‘ کا نعرہ لگاتا ہے اور پھر ساتھ ہی خود کو ایک بار دائیں اور ایک بار بائیں کی جانب ایک جھٹکا دیتا ہے اور پھر ہر تہہ لگانے کے بعدیہی عمل بار بار دہراتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بابا جی تعویز کو ’پراثر‘ بنانے کیلئے اسے ایک بار دائیں اور ایک بار بائیں بغل میں بھی دباتا ہے اور پھر چومنے کے بعد اسے ڈیسک پر رکھ کر ایک زوردار مکا رسید کرتا ہے تاکہ تعویز اور بھی ’پکا‘ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی وہ تعویز ”مریض عشق“ کے حوالے کرتے ہوئے یہ ہدایت کرتا ہے کہ اس تعویز کی بے حرمتی نہیں کرنا اور اسے رکھنے سے پہلے وضو کر لینا اور اس کے ساتھ ہی وہ اسے خدا حافظ کہہ دیتا ہے۔

اب یہ تو معلوم نہیں کہ بدھ کے روز لڑکی نے ’آئی لو یو‘ کہہ دیا یا نہیں، البتہ ہر باشعور شخص یہ ضرور جانتا ہے کہ اس طرح کے شعبدہ بازوں کی پاکستان میں کوئی کمی نہیں جو معصوم افراد کو لوٹنے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -