خواتین ورکرز کو کم سے کم اجرت سرکاری اعلان کے مطابق کی جائے، وویمن ورکرز الائنس

خواتین ورکرز کو کم سے کم اجرت سرکاری اعلان کے مطابق کی جائے، وویمن ورکرز ...

لاہور(لیڈی رپورٹر) لاہور چیمبر میں سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام وویمن ورکرز کنو نشن منعقد کیا گیا۔ جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کنونشن میں فائزہ امجدسینئر وائس صدر وویمن چیمبر آف کامرس ، تحریک انصاف کی نمائندگی سعدیہ سہیل رانا ایم پی اے،مسلم لیگ ن سے فرح ناز ایم پی اے ، پیپلزپارٹی سے بیلم حسین ایم این اے، کاشف عباس ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ جبکہ مہمان خصوصی صوبائی وزیر ذکیہ شاہ نواز تھیں۔وویمن ورکرز الائنس کی طرف سے سمیرا عابد نے چارٹر آف ڈیمانڈپیش کیاجس میں خواتین ورکرز کو کم سے کم اجرت سرکاری اعلان کے مطابق کی جائے، متعلقہ ادارہ /لیبر ڈیپارٹمنٹ خواتین ورکرز کے تقرری نامہ کو یقینی بنائے، دس سے زائد خواتین ملازم کیلئے علیحدہ واش روم ، ڈے کیئر سنٹربنوائے جائیں، کام کی جگہ پر جنسی ہراسمیگی کے خلاف قانون کے مطابق ایک کمیٹی بنائی جائے، جنسی ہراسمیگی کے خلاف قانون کو ہر ادارے میں نمایاں جگہوں پر آویزاں کروایا جائے، سیاسی جماعتوں سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے آئندہ انتخابی منشوروں میں ورکرز خواتین کے مسائل پر اپنی اپنی جماعت کی پالیسی واضح کریں۔کنونش کے آغاز میں شریک خواتین نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے عا صمہ جہانگیر کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صوبائی وزیر ذکیہ شاہ نواز نے کہا خواتین ورکرز جہاں بھی چھوٹے بڑے کام کر رہی ہیں اپنے حقوق کے حصول کے لئے

خود جدوجہد کرے۔ سعدیہ سہیل رانا نے کہا ہمارے نصاب کا سسٹم بہت خراب ہے اس میں حقوق سے متعلقہ آگاہی بھی شامل ہونی چاہئے۔ آگاہی نہ ہونے وجہ سے کام کرنے کی جگہ پر استحصال کا شکار ہوتی ہے۔فرخ منظور نے کہاکہ وویمن ورکرز الائنس نے خواتین کو کافی آگاہی دی ہے۔ وویمن ورکرز کے لئے پنجاب حکومت نے مختلف اضلاع میں ورکنگ وویمن ہاسٹل بنا کر اُنھیں دوسرے شہروں میں ملازمت کے دوران رہائش کی سہولت دی ۔ اظہار خیال کرتے ہوئے کاشف عباس نے کہا لیبر قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

لیبر قانون میں ترمیم کے بارے میں بتایا مزید کہا کہ اگر کسی خاتون ورکر کو کوئی شکایت ہے تو وہ انفرادی طوریا وویمن ورکرز الائنس کے ذریعے بھی اپنا مسئلہ لیبر ڈیپارٹمنٹ بھجوا سکتی ہے ۔فائزہ امجد نے وویمن ورکرز الائنس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا گورننگ سسٹم ٹھیک ہو جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں ہمیں اپنی سماجی روایات کو بھی بدلنا ہو گا۔بیلم حسنین نے خواتین ورکرز سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اور وہ خود بھی خواتین ورکرز کے حقوق کی جدوجہد میں خواتین وویمن ورکرز الائنس کے ساتھ ہیں۔ روبینہ جمیل چیئرپرسن نے کہا کہ خواتین ہر شعبے میں استحصال کا شکار ہیں جب آئین ٹریڈ یونین بنانے کا حق دیتا ہے تو خواتین ورکرز کو اس کا حصہ بننا ہو گا ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کامرس