پیکرِ صدق و وفا

پیکرِ صدق و وفا
پیکرِ صدق و وفا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خلیفہ اول سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ خوش قسمت ترین انسان ہیں کہ جن کے بارے میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ! مجھے نبوت عطا ہوئی تو سب نے جھٹلایا مگر ابو بکر صدیقؓ نے مانا اور دوسروں سے منوایا ،جب میرے پاس کچھ نہیں رہا تو ابو بکرؓ کا مال راہِ خدا میں کام آیا جب ابو بکر صدیقؓ نے مجھے تکلیف میں دیکھا تو سب لوگوں سے زیادہ میری غم خواری کی۔۔۔ پیکرِ صدق و وفاء سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ جنت کی بشارت و خوشخبری دی اور عشرہ مبشرہ صحابہ کرامؓ میں بھی آپؓ کا نام سرفہرست ہے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی آیات حضرت ابو بکر صدیقؓ کی شان میں نازل فرمائیں، یہ سعادت و خوش نصیبی بھی حضرت ابو بکر صدیقؓ کو حاصل ہے کہ آپؓ کے والدؓ، والدہؓ، اولاد، پوتے اور نواسے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کرتے ہوئے ’’صحابیت‘‘ کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے اور آپؓ کی بیٹی صدیقہ کائنات حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور ام المومنین ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔

تاریخ اسلام کے اوراق حضرت ابوبکر صدیقؓ کی روشن زندگی، فضائل و مناقب ،سیرت و کردار اور سنہرے کارناموں سے بھرے پڑے ہیں جس کی ضو فشانی سے قیامت تک آنے والے مسلمان و حکمران ہدایت و راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔۔۔آپؓ کا نام عبد اللہ، ابوبکر کنیت اور صدیق و عتیق لقب ہے والد کا نام عثمان، کنیت ابو قحافہ اور والدہ کا نام سلمیٰ لیکن اپنی کنیت اُمّ الخیر سے زیادہ پکاری جاتی تھیں، آپؓ کا تعلق قریش خاندان سے ہے اور چھٹی پشت میں آپؓ کا شجرہ نسب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے، حضرت ابو بکر صدیقؓ اسلام قبول کرنے سے قبل ہی پاکیزگی و بلند کردار، اعلیٰ اخلاق، عقل و دانش، فہم و فراست، امانت و دیانت اصابت رائے،حلم و بردباری اور خدا ترسی میں مشہور و بے مثال تھے، قریش میں صاحب ثروت اور سب سے زیادہ با اخلاق تھے جو کچھ کماتے غرباء و مساکین پر خرچ کر دیتے، آپؓ نے مکہ شہر میں ایک مہمان خانہ بنا رکھا تھا جہاں باہر سے آنے والے مسافروں کو کھانا اور رہائش مفت دی جاتی تھی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اسلام لانے سے قبل بھی بے مثال پاکیزہ زندگی گزاری۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اس بارے میں خود فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ اپنی عزت و انسانیت کی حفاظت کرتا تھا اس لیے کہ جس نے شراب پی اس نے اپنی عزت و انسانیت کوضائع کر دیا۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی بت کو سجدہ نہ کیا بلکہ موقعہ پا کر میں بت کو توڑ دیتا تھا۔ سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ فیصلے کرنے اور فصاحت و بلاغت میں کمال رکھتے تھے۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں بھی قتلوں اور دیگر معاملات کے فیصلے آپؓ سے کروائے جاتے اور خون بہا یعنی دیت کی رقم بھی آپؓ کے پاس جمع کروائی جاتی تھی، علم انساب میں بے مثال اور خوابوں کی تعبیر بتانے میں ماہر تھے۔۔۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے جس کسی کو بھی اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی اس نے جھجھک اور ترددّ سے کام لیا لیکن ایک ابو بکر صدیقؓ کی واحد ذات ہے جس کے اندر ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے میں کوئی تردد یا جھجھک نہیں تھا بلکہ فوراً ایمان لائے۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینا شروع کر دی اور آپؓ کی ہی دعوتِ اسلام پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ، حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت عبید بن زیدؓ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ فوراً ایمان لائے۔ ابھی تک دعوت اسلام کو خفیہ رکھا گیا تھا، اعلانیہ کسی کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔۔۔ جب مسلمانوں کی تعداد انتالیس تک پہنچ گئی تو حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اصرار پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر بیت اللہ میں اعلانیہ دعوت اسلام دینے اور اظہار نبوت کیلئے تشریف لے گئے، حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بیت اللہ میں توحید و رسالت ﷺ پر خطبہ شروع کیا یہ تاریخ اسلام میں سب سے پہلا خطبہ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ پہلے خطیب ہیں۔۔۔ اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ اسلام لائے اور اس کے تین دن بعد حضرت سیدنا عمر فاروقؓ ایمان لائے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بیت اللہ میں خطبہ شروع کرتے ہوئے ابھی دعوتِ اسلام دی ہی تھی کہ کفار و مشرکین چاروں طرف سے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی شرافت و عزت اور عظمت کے باوجود ان کو اس قدر مارا کہ آپؓ لہولہان اور بے ہوش ہو گئے۔۔۔ آپؓ کے قبیلہ کے لوگ آپؓ کو اٹھا کر گھر لائے شام تک آپؓ بے ہوش رہے جب ہوش میں آئے تو سب سے پہلے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے حال کے بارے میں دریافت کیا۔۔۔ لوگوں نے کہا کہ اب بھی اس کا نام لیتے ہو جس کی وجہ سے یہ سب کچھ تمہارے ساتھ ہوا، آپؓ کی والدہ ’’ام الخیر‘‘ نے آپؓ سے کھانے پینے پر اصرار کیا۔۔۔ لیکن آپؓ مسلسل انکار کرتے ہوئے یہی اصرار کرتے کہ پہلے مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حال بتاؤ۔

آپؓ نے اس موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت میں قسم کھا کر کہا کہ میں اس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں پیوؤں گا جب تک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کر لوں۔۔۔ آپؓ کی والدہ ام الخیر سے آپؓ کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی اور وہ اس بات کا انتظار کرنے لگیں اندھیرا بڑھ جائے اور لوگوں کی آمدورفت بھی بندہو جائے تو میں آپؓ کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر حاضر ہوجاؤں کہیں لوگ آپ کو دوبارہ نہ ماریں۔۔۔ اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ’’دار ارقم‘‘ میں تشریف فرما تھے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی والدہ آپؓ کو سہارا دیتے ہوئے وہاں پہنچیں تو حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ’’فرطِ محبت‘‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے، آپؓ کی حالت دیکھ کر رحمتِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔۔۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی یہ میری والدہ ہیں ان کی ہدایت و ایمان کیلئے دعا کریں۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور اسلام کی ترغیب دی تو آپؓ کی والدہ ام الخیر اسی وقت اسلام قبول کرتے ہوئے دولتِ ایمان سے مالا مال ہو گئیں۔۔۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے والد عثمان ابو قحافہؓ مکہ کے باعزت لوگوں میں سے تھے شروع میں اسلام نہ لائے۔۔۔ ایک روز حضرت ابو بکر صدیقؓ اپنے والد ابو قحافہ ؓ کو لیکر بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے ان پر نگاہ پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کمزوری و مجبوری میں ان کو کیوں تکلیف دی مجھے کہا ہوتا۔۔۔ ابو قحافہؓ کے پاس مجھے خود جانا چاہئے تھا ۔۔۔ جب ابو قحافہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم احتراماً کھڑے ہو گئے اور اپنے پہلو میں بٹھا کر بڑی محبت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمہ پڑھا کر مسلمان کرتے ہوئے نورِ ایمان سے منور کر دیا۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے مال و دولت کو اسلام کیلئے وقف کر دیا، حضرت بلال حبشیؓ، عامر بن فہیرہؓ، نذیر بنت نہدیہؓ، زنیرہؓ وغیرہ مسلمان تھے لیکن کافروں کے غلام ہونے کی وجہ سے ظلم و تشدد اور مصائب و مشکلات کا سامنا کرتے تھے، حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ان سب کو بھاری قیمت کے بدلے آزاد کروا کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے آئے۔

اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات آسمانوں کی سیر کروائی جنت و دوزخ کو دکھایا، واپس آنے کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عجیب سفر بیان فرمایا تو لوگ اس کو جھٹلاتے ہوئے مختلف سوالات کے ذریعہ مذاق کرنے لگے۔۔۔ لیکن ابو بکر صدیقؓ نے اس واقعہ کو سنتے ہی اس کی تصدیق کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے آپؓ کو ’’صدیق‘‘ کا لافانی لقب عطاء ہوا، اور آسمانوں سے خدا نے قرآن کی صورت میں وحی نازل کر کے اس کی تائید کی،ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے بھی ہم پر احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ اسے دے دیا سوائے ابو بکرؓ کے کہ اس کے احسانات کا بدلہ قیامت کے دِن اسے اللہ دے گا، کسی کے مال نے مجھے اتنا نفع نہیں دیا جتنا نفع مجھے ابو بکرؓ کے مال نے دیا ہے۔

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو جنت کی بشارت و خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے ابو بکرؓ تو غار میں بھی میرے ساتھ تھا اور حوض کوثر پر بھی میرے ساتھ ہو گا‘‘

۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ کس سے محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ عائشہؓ سے، سوال ہوا کہ مردوں میں سے سب سے زیادہ کون محبوب ہے تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ عائشہؓ کا باب یعنی سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار چاندانی رات تھی آسمان پر ستارے خوب روشن تھے۔۔۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول (ﷺ) کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں عمرؓ کی، میں نے عرض کیا ابو بکرؓ کی نیکیوں کی کیا کیفیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرؓ کی تمام نیکیاں ابو بکرؓ کی ایک (ہجرت کی) رات کی نیکی کے برابر ہیں۔ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروقؓکے سامنے جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کا ذکر آتا تو فرماتے کہ ابو بکرؓ کی ایک رات اور ایک دن عمرؓ کی تمام زندگی کی عبادت سے کہیں بہتر ہے، رات غارِ ثور کی اور دن وہ کہ جس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ اس روز ابو بکر صدیقؓ نے جرأت ایمانی، استقامت اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام فتنوں کی سرکوبی کی اور اسلام کی بقاء کیلئے مثالی اقدامات کر کے نائبِ رسول (ﷺ) ہونے کا حق ادا کر دیا۔

ترمذی شریف میں حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے دو وزیر اہلِ آسمان (فرشتوں) سے ہوتے ہیں اور دو وزیر اہلِ زمین سے ہوتے ہیں میرے دو وزیر اہلِ آسمان سے جبرائیل اور میکائیل ہیں اور اہلِ زمین سے ابو بکرؓ و عمرؓ ہیں۔

غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرامؓ کو راہِ خدا میں مال جمع کرانے کا حکم فرمایا! حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس وقت میرے پاس بھی مال تھا میں نے سوچا کہ آج میں حضرت ابو بکر صدیقؓ پر سبقت لے جاؤں گا اور میں نے نصف مال لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا، حضور صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اتنا ہی، اس موقعہ پر حضرت عثمان غنیؓ اور دیگر صحابہ کرامؓنے بھی راہ خدا میں بڑھ چڑھ کر مال دیا۔۔۔لیکن سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے گھر کا تمام مال و اسباب لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں نچھاور کر دیا۔۔۔اور آپؓ نے گھر سے آتے ہوئے گھر کی دیواروں تک ٹٹول لیا کہ کہیں گھر میں سوئی بھی نہ رہ جائے اس سے کوئی مجاہد اپنا جہادی لباس ہی درست کر لیگا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر حضرت ابو بکر صدیقؓ سے دریافت فرمایا کہ ابو بکرؓ تم نے اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا ہے؟حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جواب میں عرض کیا کہ ’’خدا اور خدا کا رسول‘‘، سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کہتے ہیں کہ میں نے جواب سن کر دل میں کہا کہ اب میں کبھی ابو بکر صدیقؓ سے آگے نہیں بڑھ سکتا،۔۔۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ ایک روزحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیقؓ سے فرمایا کہ تم دوزخ سے خدا کے آزاد کردہ ہو اسی روز سے آپؓ کا لقب ’’عتیق‘‘ ہو گیا، ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں سے سب سے پہلے ابو بکر صدیقؓ جنت میں داخل ہونگے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’مرضِ وفات‘‘ میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسجد نبویؐمیں ’’مصلّٰیٰ رسولؐ‘‘پر (17) سترہ نمازیں پڑھائیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ کو متفقہ طور پر خلیفۃ الرسول اور جانشین بنایا گیا، حضرت ابو بکر صدیقؓ خلیفہ بلافصل بننے کے بعد اپنے پہلے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ ’’اے لوگو! میں تمہارا حاکم بنایا گیا ہوں لیکن تم سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں نیک کام کروں تو اس میں میری مدد کرو اور اگر میں برا کروں تو مجھے ٹو کو! صدق امانت ہے اور کذب خیانت، تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں اسے اپنا حق نہ دلا دوں اور تمہارا قوی آدمی میرے نزدیک کمزور ہے جب اس کے ذمہ جو حق ہے وہ اس سے نہ لے لوں! جو قوم اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد ترک کر دیتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ ذلت و خواری مسلط کر دیتا ہے اور اگر کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر بلائیں اور عذاب عام کر دیتا ہے۔۔۔۔تم میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو! لیکن اگر مجھے سے کوئی ایسا کام سرزد ہو جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا پہلو نکلتا ہو تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں ہے‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم! میں امارت اور خلافت کا ایک لمحہ کیلئے بھی خواہش مند نہ تھا اور نہ مجھے خلافت سے کوئی دلچسپی تھی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا نہیں کی، نہ زبان سے کھل کر درخواست کی اور نہ دل میں ہی اس کی خواہش پیدا ہوئی، ہاں میں فتنہ سے ڈر گیا اور سوچو تو سہی کہ امارت و خلافت میں کوئی آرام ہے؟

میں نے ایک عظیم ذمہ داری کا ’’قلادہ‘‘ اپنی گردن میں ڈال لیا ہے، جس کے اٹھانے کی مجھ میں سکت نہیں اور اللہ تعالیٰ کے سہارے کے سوا اسے نبھانے کی کوئی صورت نہیں۔‘‘

خلیفہ بلا فصل سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے انتہائی مشکل حالات میں نظامِ خلافت کو سنبھالا۔ اس وقت مصائب و مشکلات نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا، ’’فتنہ ارتداد، جھوٹے مدعیان نبوت، مانعین و منکرین زکوٰۃ کے فتنہ نے طوفان کی صورت اختیار کر لی تھی، اسلام اور مرکز اسلام خطرہ میں دکھائی دینے لگے ان حالات میں خلیفہ بلا فصل سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بڑی جرأت و بہادری کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے ان تمام فتنوں کا خاتمہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس وقت کفر کی دو بڑی طاقتیں روم اور فارس کو بھی شکست فاش دی، اسلام کی حدود پھیلتی چلی گئیں، ہر طرف امن و سکون اور خلافت راشدہ کے مقدس نظام کے ثمرات و برکات نظر آنے لگے، جنگ یمامہ میں کثیر تعداد میں حفاظِ قرآن کی شہادت کے بعد آپؓ نے سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے مشورہ سے قرآن کی جمع و تدوین کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔

حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں لاغر و کمزور ہوتے چلے گئے، حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ در حقیقت حضرت ابو بکر صدیقؓ کی موت کا سبب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہی ہوا، یہ صدمہ آپؓ کو ایسا لگا کہ اپؓ برابر کمزور و نحیف ہوتے جاتے تھے یہاں تک کہ سفر آخرت کو اختیار فرمایا، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے غسل کیا تو سردی کی وجہ سے آپؓ کو سخت بخار ہو گیا، اس دوران نماز پڑھانے کیلئے مسجد تشریف لے جاتے۔۔۔ جب طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو حضرت عمر فاروق کو نماز پڑھانے کیلئے حکم دیا، اسی بیماری کے دوران آپؓ نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ سے سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کو خلیفہ و جانشین مقرر کیا اور پھر بیماری کی حالت میں سہارا لیکر لوگوں سے خطاب کیا جس میں لوگوں نے حضرت عمر فاروقؓ کے خلیفہ و جانشین مقرر کرنے کی تائید کی، اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو نصیحتیں فرمائیں۔۔۔

سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو وصیت فرمائی کہ مجھے میری دو زیر استعمال پرانی چادروں کو دھو کر اس میں کفنا دینا، مانا کہ میں تمہارا باپ ہوں، اگر عمدہ کپڑوں میں کفنایا گیا تو کچھ بڑھ نہ جاؤں گا اور اگر پرانے کپڑے میں کفنایا گیا تو گھٹ نہ جاؤں گا۔۔۔اس کے ساتھ آپؓ نے یہ وصیت بھی کی کہ میرے مال میں سے پانچواں حصہ اللہ کے راستہ میں خیرات کر دیا جائے۔۔۔ اور فرمایا کہ دورانِ خلافت جس قدر میں نے رقم بیت المال سے لی ہے اس قدر جمع کروا دی جائے۔۔۔

خلیفہ بلا فصل سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے دو سال تین ماہ گیارہ دن نظامِ خلافت کو چلانے کے بعد 63سال کی عمر میں وفات پائی، خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔۔۔ اور ’’روضہ رسولؐ‘‘ میں اپنے محبوب امام الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آج بھی آپ ؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں لیٹے جنت کے مزے لے رہے ہیں ۔۔۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مزید : رائے /کالم