ہمارے بینکوں کا جدید انداز

ہمارے بینکوں کا جدید انداز

پنشن کا المیہ یہی ہے کہ چند سال میں سمٹ کر بڑی مختصر رہ جاتی ہے۔آپ ملازم تھے تو سب ساتھیوں کی تنخواہ تقریباً برابر تھی۔بہت سی مراعات بھی تھیں جو بالکل ایک جیسی تھیں۔ ریٹائر ہوئے تو مراعات کا باب بند۔

کوئی سواری الاؤنس نہیں، کوئی کرایہ مکان نہیں، نہ کوئی دوسرا الاؤنس، بس خالص تنخواہ کا تقریباً پچاس فیصدملنا شروع۔ دوستوں کی تنخواہ میں سالانہ اضافہ، بجٹ میں بیس فیصد اضافہ، مراعات میں ہر سال بڑھوتی، مگر پنشن میں اضافہ فقط بجٹ میں دس فیصد۔ بس تنخواہوں کے مقابلے میں اضافہ کیا ہوتا ہے۔

کچھوے اور خرگوش کی ریس ہوتی ہے ۔ دس سال بعد مہنگائی اور دوستوں کی تنخواہ کے مقابلے میں آپ بینک سے شرمندگی اٹھائے واپس آ رہے ہوتے ہیں ۔

کوئی زور تو نہیں ،لیکن اگر حکومت ہر سال یہ اضافہ تنخواہوں میں اضافے کے برابر ہی کر دے تو پنشن یافتہ لوگوں کی تسلی بھی ہو جائے گی اور میرے جیسے بہتوں کا بھلا بھی ہو جائے گا۔

قبل از وقت ریٹائر منٹ لینے کی وجہ سے مجھے ریٹائر ہوئے سترہ سال ہو گئے۔ جو ساتھی پچھلے چند برسوں میں ریٹائر ہوئے، ان کی پنشن کے مقابلے میں میری پنشن آدھی سے بھی کم ہے۔

چھوٹے چھوٹے اخراجات ، دوا ؤں کی طلب ، کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ جو تھوڑے سے پیسے ہیں، خود پرخرچ کیسے کردیں؟لیکن زندہ رہنے کے لئے میرے جیسے سارے لوگ خرچ کرتے ہیں،مگر ذرہ پھونک پھونک کر۔

میری پنشن نیشنل بینک میں آتی ہے، مگر سہولت کے لئے میں نے گھر کے نزدیک ایک بینک میں اکاؤنٹ کھولا ہوا ہے۔ اپنے ماہانہ خرچ کے لئے پیسے اس اکاؤنٹ میں منتقل کر لیتا ہوں اورہر ہفتے چند ہزار اپنے ہفتہ بھر کے اخراجات کے لئے اس بینک سے اے ٹی ایم کے ذریعے وصول کر لیتا ہوں۔

ایک ماہ قبل میں نے کچھ رقم لینے کے لئے اپنے بینک کا اے ٹی ایم استعمال کیا تو مشین نے کارڈ ضبط کر لیا۔اگلے روز بینک والوں سے رابطہ کیا کہ بھائی یہ ضبطی کیوں ؟

میرے اکاؤنٹ یا مجھ سے کیا خطا ہو گئی؟ پتہ چلا کہ کارڈ کی مدت استعمال ختم ہو چکی، اب نیا کارڈ حاصل کرنا ہو گا۔ اسی اکاؤنٹ کے کارڈ کی مدت ایک دفعہ پہلے بھی ختم ہوئی تھی، مگر اس وقت مدت ختم ہونے سے پہلے مجھے نیا کارڈ مل گیا تھا۔ اس بار بغیر اطلاع میرا کارڈ مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔

مجبوری تھی اس لئے نئے کارڈ کے لئے درخواست دے دی۔ایک ہفتے کے بعدچند دن پہلے مجھے کارڈ مل گیا۔اگلا مرحلہ کارڈ کو فعال بنانا تھا۔ہمارے بینک اب جدید ہو گئے ہیں ۔

کارڈ فعال کرنے والے بینک آفیسر سے بات بھی صرف بذریعہ فون ہی ہو سکتی ہے۔ بینک کے دئیے ہوئے فون نمبر پر اس مقصد کے لئے رابطہ کیا۔آٹومیشن کا دور ہے۔

بینک آفیسر تک پہنچنے کے لئے کئی نمبروں سے کھیلنا پڑا۔ یونیورسل اکسس نمبر کا کال ریٹ بھی عام نمبر کی نسبت کافی زیادہ ہوتا ہے۔ایک آدھ بار کال بھی منقطع ہوئی۔ ہولڈ بھی کئی کئی منٹ کیا اور بالآخرفون کرنے پر معقول رقم خرچ کرنے کے بعد وہ مرحلہ آ ہی گیا۔

میری تصدیق کے لئے مجھے چند سوالوں کے جواب دینے کا کہا گیا۔گھر کا موجودہ پتہ، تاریخ پیدائش، نادرہ کا کارڈ نمبر اور چند دوسرے سوالوں کے بعد انہوں نے والدہ کا نام پوچھا۔

میرے جواب پر انہوں نے بتایا کہ آپ کی تصدیق نہیں ہو سکتی، کیونکہ مسمی تنویر صادق کی والدہ وہ نہیں جن کا نام آپ لے رہے ہیں۔

میں نے ہنس کر تصدیق کرنے والے نوجوان کو کہا کہ بھائی میں ایک بوڑھا آدمی ہوں ۔ عمر بھر ایک ہی عورت میری ماں رہی ہے۔ ویسے بھی ماں کبھی بدل نہیں سکتی۔ آپ کے کھاتے میں میری ماں کیسے بدل گئی؟

جواب ملا کہ ہم مجبور ہیں، ہمارے کھاتے میں تنویر صادق کی ماں وہ نہیں جو آپ بتا رہے ہیں ۔ اب میں پچھلے دو ہفتے سے بنک میں ماں کے نام کی تبدیلی ختم کرانے کے لئے کوشاں ہوں،مگر ابھی تک بینکوں کی جدیدیت کے ہاتھوں ناکام ہوں ۔ بہر حال کوشاں بھی ہوں اور دعاگو بھی کہ میری مشکل آسان ہوجائے۔

حکومتوں نے پچھلے دس بارہ سال میں پوری کوشش کی ہے کہ لوگ اپنی بچتوں کو بینکوں میں نہ رکھیں۔اس کے لئے بینکوں نے بہت سے اضافی ٹیکس بھی نافذ کئے ہوئے ہیں۔

ان ٹیکسوں میں کچھ حکومت کی طرف سے عائد ہیں اور کچھ بینکوں کی اپنی صوابدید ہے۔یہ عوامی لحاظ سے نا پسندیدہ ٹیکس لوگوں کی بچت کی عادت کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

ایک چھوٹی سی مثال کہ میری بیگم کا ماڈل ٹاؤن کے ایک بینک میں سیونگ اکاؤنٹ تھا۔اکاؤنٹ میں کچھ چار ہزار کے قریب بیلنس تھا۔ہم کوئی چار سال پہلے ماڈل ٹاؤن سے رائے ونڈ روڈ شفٹ ہوئے تو وہ اکاؤنٹ غیر فعال ہو گیا۔

نئے گھر کے مسائل میں بچت کی کچھ ہوش نہ رہی۔ اب کوئی چار ساڑھے چار سا ل بعد میری بیگم کو بچت کا خیال آیا۔ سوچا چار پانچ ہزار پہلے سے ہیں ۔ اسی اکاؤنٹ کو فعال کیا جائے۔

بینک پہنچے تو پتہ چلا کہ چونکہ آپ کا اکاؤنٹ غیر فعال تھا اور اس میں بینک کے کم سے کم مطلوبہ پچاس ہزار روپے سے کم پیسے تھے، اس لئے بینک تقریباً ڈھائی سو روپے ماہانہ کاٹتا رہا ہے، اس لئے اپنے چار پانچ ہزار کی بات نہ کریں، بلکہ کوئی تین ہزار جرمانہ مزید دیں تب آپ کا اکاؤنٹ فعال ہو سکتا ہے۔

کم از کم مطلوبہ رقم کے بارے بینکوں کی اس شرط کامجھے اس سے پہلے پتہ نہیں تھا ،مگر اب پتہ چلا کہ یہ شرط بہت سے بینکوں نے رکھی ہوئی ہے ۔

اس شرط سے لگتا ہے کہ بینکوں کی کوشش ہے میرے جیسے درمیانے طبقے کے لوگ بچت نہ کریں یا اگر کریں تو گھروں میں رکھیں ،تاکہ ڈاکوؤں کے لئے دعوت عام ہو۔ درمیانے طبقے کے لوگ مزید غیر محفوظ ہوں۔

اچھے کاروباری یہ بات جانتے ہیں کہ چھوٹے گاہک ان کا بہترین سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ چھوٹے گاہک اگر دو کم ہو گئے تو دو نئے آ گئے ،مگر مجموعی صورت حال تبدیل نہیں ہوتی، اس طرح کاروبار بخوبی چلتا ہے۔

اگر آپ کا کاروبار چند بڑے گاہکوں کا محتاج ہے تو ان میں سے ایک کی آ پ سے علیحدگی آپ کے کاروبار کے بگاڑ کا باعث ہو جاتی ہے۔

حکومت کو چائیے کہ بینکوں کو کم از کم کی شرظ ختم کرنے کا کہے اور بینکوں کو مجبور کرے کہ وہ ایسے بینک اکاؤنٹ متعارف کروائیں، جن میں عام آدمی اپنی چھوٹی سی چھوٹی بچت بھی محفوظ رکھ سکے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...