’’ اک زرداری سب پر بھاری‘‘

’’ اک زرداری سب پر بھاری‘‘
’’ اک زرداری سب پر بھاری‘‘

سینٹ کی سنگلاخ چٹان سے پیپلز پارٹی کا تراشا ہوا مجسمہ آخر کیسے نکل آیا؟دریا کی مہیب وسعت میں منہ زور موجیں تو اکثر بپھری رہتی ہیں،یہ کیا کہ یکایک سورج سوا نیزے پر نکل آیا۔یہ سینٹ میں تخم کاموسم ہے اور کوئی دن آتا ہے کہ تغیر کا شجرلہلہا اٹھے گا۔

یار لوگ ایوان بالا کی ترتیبی و عددی لہروں کے ساتھ بہتے رہے اور زرداری صاحب؟وہ مخالف سمت تیرتے چلے گئے۔آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ ان کی ژرف نگاہی زمینی حقیقت پر رہی اور وہ ارض پر چلنے میں بھی کامیاب ٹھہرے۔

حیات کی انتہا موت ہے اور ناممکن کو ممکن کر دکھانا سیاست کی انتہا ٹھہری۔سیاست محض بصیرت و فراست یا حکمت واہلیت ہی نہیں مانگتی،یہ جرات بھی چاہتی ہے۔

وقت آیا چاہتا ہے کہ نواز شریف بھی اب تمام دیواروں ،رکاوٹوں ،مخالفوں اور مزاحمتوں کوریت کا گھروندا سمجھ کر پھلانگ جائیں گے۔پیچھے جادوگروں اور جنوں کی سازشوں ،چالاکیوں اور ناچار یوں کی کہانیاں رہ جائیں گی۔جنتروں منتروں اور تشریحوں تعبیروں کوکامل شکست کے بعد پھر دائم سیاست بھی سرخرو اور سرفراز رہے گی۔

سینٹ کے انتخابی آرٹ اور نتائجی سائنس میں پیپلز پارٹی اپنے حصے سے 4یا 5نشستیں زائد لے اڑی۔یقیناًیہ معجزہ زرداری صاحب کے دست ہنر کا شہکار ہی قرار پائے گا۔تسلیم و تائید کہ کراچی کی متحدہ میں وہ دم خم نہیں رہا،اس کا جاہ و حشم چشم زدن میں منہدم ہو چکا۔

کہا جا سکتا ہے کہ بدلی صو رتحال کی بدولت یہاں سے دو نشستیں پی پی کی جیب اور جھولی میں چلی گئیں۔چلی گئیں لیکن اس کے لئے تگ و تاز اور دھوپ دوڑ بھی تو کی گئی ہو گی۔

متحدہ کی اندرونی تقسیم اور انتشار یا محض ٹیسوری کی مجبوری نے ہی توان کے ایم پی ایزکے ووٹ پی پی کے بکسوں میں نہ ڈالے ہوں گے۔پختونخوا کو لیجئے!یہاں ن لیگ بھی 16ایم پی اے نما ووٹ رکھتی ہے۔سینٹ فارمولا کے مطابق ایک سینٹر کے لئے یہاں سے ساڑھے 17ووٹ درکار ہیں۔یہاں سے ایک نشست ن لیگ کی تھی جو وہ بوجوہ لے نہ سکی۔کیا یہ سائنس نہیں ایک چھوڑ دو نشستیں یہاں سے بھی پیپلز پارٹی چھین لے گئی۔

شہباز شریف کی عین ناک کے نیچے چودھری سرور کو سب سے زیادہ ووٹ کیسے ملے؟بقول شخصے کہ چودھری سرور کی جیت کی قیمت پختونخوا سے دونشستیں دے کر چکائی گئی۔جو بھی ہو اور جیسے بھی ہو۔۔۔کیا یہ ن لیگ کی ناکامی نہیں کہ وہ یہی داؤ پیچ آزمانے یا جرات دکھانے میں ناکام و نامراد رہی؟

اچھے وقتوں میں بلوچی دھرتی پر ن لیگ کے 21ایم پی اے تھے۔گو آگے چل کر سامریوں کے سحر پھونکنے کے بعدثنا ء اللہ زہری کو استعفے کا زہر پینا پڑا۔سینٹ فارمولاکے مطابق یہاں سے ایک نشست کے لئے 9ووٹ لینا ہوتے ہیں۔

زوال کے اس پر آشوب عہد اور دباؤ کے جبرکے باوجودبھی کھینچ تان کریا سیاسی حکمت عملی کے تحت،یہاں سے ن لیگ دو نہ سہی ایک نشست توحاصل کر ہی سکتی تھی ۔

فلک کج رفتار نے چال لیکن الٹ چلی کہ جو زرداری یہاں صفر تھے،وہ کسی ایک عدد کے ساتھ جا لگے تو دونوں کی طاقت کئی گنا بڑھ بڑھ گئی۔کیا یہ ن لیگ کے قائدین و عمائدین اور پالیسی سازوں کی ناکامی نہیں؟

حقیقت کے اندرجھانک کربھی ذرا حقیقت دیکھئے۔پورا ہاتھی متشکل یا منقح ہوئے بغیرپوری حقیقت بھلا کب سامنے آیا کئے۔پیپلز پارٹی واحد جماعت رہی جس کے سینٹرزسب سے زیادہ ریٹائر ہوئے۔تحریک انصاف کو چھوڑیئے کہ اس کی پارلیمانی طاقت تو کم کم ہی رہی۔محض شعلہ بیانیاں ،الزام تراشیاں،خو ش گپیاں اور خالی خولی نعرے بازیاں ہیں اور بس۔

ن لیگ کے 27میں سے 9سینٹرریٹائر ہوئے اور پیپلز پارٹی کے 26 میں سے 18سینٹر ساحل پراترے۔اس لحاظ اور اطوار سے پیپلز پارٹی کا سفر کڑا،کٹھن اور گنجلک تھا کہ عددی قوت کی قلت کے باوصف اسے پتے اپنے ہاتھ میں رکھنا تھے۔عددی لحاظ سے اس کے 7یا زیادہ سے زیادہ 8سینٹر بننا تھے مگروہ 12بنانے میں کامیاب رہی۔ ن لیگ کا معاملہ الٹ اور الگ رہا کہ عددی لحاظ سے وہ اپنی 5نشستیں کھو یا گنوا بیٹھی۔

ہر مثبت بات سچی نہیں ہوتی اورہر منفی بات جھوٹی بھی نہیں ہوتی۔یہ الگ بات کہ مثبت اور منفی کا تعین کرنے میں لوگ مات کھا جائیں۔

اک زرداری سب پر بھاری یونہی نہیں ہوا،اس نے ثابت کر دکھایاکہ کب پیچھے ہٹنا اور کیسے آگے بڑھنا ہے۔ہرگز ہرگز کوئی کلام نہیں کہ ن لیگ کی سیاسی زندگی بھی گہما گہمی اور ہما ہمی سے مملو ہے لیکن پیپلز پارٹی تو برے حالا ت میں بھی غریب سخت جاں کی طرح جیتی آئی ہے۔کہا جا تا ہے کہ زندگانی جی کے جینے سے ہی عبارت رہی ہے۔

دھوپ کبھی کبھی واقعی اچھی لگتی ہے مگر سبک اور خنک ہوائیں ہر سمے سہانی لگتی ہیں۔پھول ،پیڑ اور پودے سب کو اچھے لگتے ہیں۔شب کی تاریک ساعت میں چاندنی کا علیحدہ اور الگ ہی لطف ہو اکئے۔

سینٹ کے حالیہ نتائج پی پی کے دکھی دل پر اک پنکھی سی جل گئے اور ان کے ارمان بھی جل تھل کر گئے۔بلاول بھٹوسر اٹھا اور سینہ تان کریونہی نہیں کہتے کہ ن لیگ سینٹ کا چیئرمین بنا کر تو دکھائے!گماں گزرتا ہے کہ بلوچستان کے آزاد پنچھیوں سے بھی کوئی راہ ورسم نکل چکی :

پیتا بغیر اذن کب تھی یہ مری مجال

درپردہ چشم یار کی شہہ پا کے پی گیا

ہر پرندہ اپنی مرضی کا گھونسلہ بناتا ہے اور گھونسلے کے لئے اپنی پسند کا پیڑ انتخاب کرتا ہے ۔کیا عجب آرٹ رہا کہ پختونخوا میں پی ٹی آئی نے پی پی کا ہاتھ تھام لیا اور پنجاب میں پیپلز پارٹی نے اس کا ہاتھ تھامے رکھا۔شاعر کے اسلوب میں بھلا یوں کہئے:

د ل کو تھاما ان کا دامن تھام کے

اپنے دونوں ہاتھ نکلے کام کے

دونوں ہاتھ تو خیراول روز سے ہی آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن مد ظلہ العالی کے کام کے رہے ہیں۔ہاتھوں پر ہی کیا موقوف کہ زندگی کی آخری ہچکی تک ان کی زبان نے بھی ہمت نہیں ہارنی ۔کیا عجب ساعت آخریں ہی سیاسی فتح کا مفہوم کھلے۔یہ دونوں تو مخالفوں اورغیروں پر بھی اتنی دیر میں کھل جاتے رہے جتنی دیر میں غالب خستہ جاں کا لپٹا بستر کھلا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...