سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت لائقِ تحسین فیصلہ

سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت لائقِ تحسین فیصلہ

جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز باجوہ نے لاہور ایئرپورٹ پر تعینات افسر کی بیوی کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنے کے جرم کے مرتکب کو 6سال قید، سات لاکھ روپے جرمانہ اور 10 لاکھ روپے ہرجانہ کی سزا کا حکم سنایا، یہ سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت اپنی نوعیت کا بڑا فیصلہ ہے۔ مجرم عثمان نے شادی شدہ خاتون کو بلیک میل کیا اور اس کی نازیبا ایڈٹ کردہ تصاویر اس کی فیملی کو ارسال کیں جس کی وجہ سے خاتون کی جگ ہنسائی ہوئی۔ پراسیکیوشن نے سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت گیارہ گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے، عدالت نے حتمی دلائل سننے کے بعد چار مختلف دفعات کے تحت مجرم کو سزا کا حکم سنایا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ سوشل میڈیا پر بدتمیزی کا طوفان بڑھتا جا رہا ہے، جس شخص کے ہاتھ میں بھی سمارٹ فون ہے وہ کسی پبلک مقام سے گزرنے والے کسی مرد یا کسی خاتون کی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر ڈال دیتا ہے اور پھر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے، فوٹو شاپ میں تصاویر ایڈٹ بھی کر لی جاتی ہیں جن میں کسی کا سر کسی کے دھڑ پر اس طرح لگا دیا جاتا ہے کہ کسی پرانے موقعہ کی کوئی تصویر نئی بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسی تصاویر وہاں سے اُٹھا کر بعض اوقات اخبارات کی ویب سائٹوں پر بھی اصلی تصاویر بنا کر سجا دی جاتی ہیں یا پرنٹ میڈیا پر چھاپ دی جاتی ہیں، پھر ان جعلی تصویروں پر طرح طرح کے بے ہودہ اور اخلاقیات سے گرے ہوئے تبصرے کئے جاتے ہیں، تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یہ تصاویر اصلی ہیں پھر اس بنیاد پر لوگوں کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر نوازشریف کی ایک پرانی تصویر فوٹو شاپ میں ایڈٹ کرکے نئی بنا دی گئی اصلی تصویر میں وہ اپنی والدہ سے جھک کر پیار لے رہے ہیں جو وہیل چیئر پر تھیں، بیٹے اور ماں کے مقدس رشتے پر مبنی اس تصویر میں ایک سعادت مند بیٹے کے جو جذبات ہو سکتے ہیں، وہ ان کے چہرے سے عیاں تھے۔ نوازشریف سعودی عرب کے دورے پر گئے تو اس تصویر کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا گیا کہ جیسے وہ شہزادے کے واری صدقے جا رہے ہوں۔ جن سیاسی مخالفین نے یہ تصویر اپ لوڈ کی، انہوں نے تو یہ موقف اختیار کر لیا کہ انہیں تصویر اس طرح ملی تھی جو اُنہوں نے آگے چلا دی لیکن مخالفین کی شرارت اس تصویر سے عیاں تھی اور وہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے اور اپنے ایک مخالف رہنما کو عوام الناس کی نظروں میں رسوا کرنے کے لئے ایسا کر رہے تھے۔

یہ کوئی واحد مثال نہیں ہے، روزانہ ایسی ہزاروں قابلِ اعتراض حرکتیں سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آتی ہیں، خواتین کو بدقماش اور بیمار ذہنیت کے لوگ خصوصی طور پر نشانہ بناتے ہیں اور ایڈٹ شدہ تصاویر پہلے تو متاثرہ خاتون یا خواتین کو ارسال کرکے انہیں بلیک میل کرتے ہیں اور جب اُن کی اذیت پسند طبیعت اس قبیح حرکت سے مطمئن نہیں ہوتی تو تصاویر کو قابلِ اعتراض زاویوں سے ایڈٹ کرکے اُن کے گھر والوں اور عزیزوں، رشتے داروں کو ارسال کر دیتے ہیں۔ اس طرزِعمل نے نہ جانے کتنی زندگیاں برباد کر دی ہیں اور کتنے ہنستے بستے گھروں کو اُجاڑ دیا ہے، بعض اوقات تو یہ سلسلہ پھیل کر اتنا ہولناک رخ اختیار کر لیتا ہے کہ بیچاری خواتین خودکشی تک کر لیتی ہیں یا بلیک میل ہو کر اپنی زندگی کو اذیت میں مبتلا کر لیتی ہیں، لیکن سائبر کرام کا یہ سلسلہ رکنے میں اس لئے نہیں آ رہا کہ اوّل تو لوگوں پر ان کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے مقدمات نہیں بنتے اور اگر کوئی بن بھی جائے تو سزائیں بھی نہیں ہوتیں۔ اس لحاظ سے عدالت کا یہ فیصلہ خوش آئند، قابلِ تعریف اور لائقِ تقلید ہے۔ امید ہے کہ اس طرح کے جو مقدمات اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان کے فیصلے بھی جلد سنائے جائیں گے اور اس فیصلے کو بطور نظیر استعمال کیا جائے گا۔ فیصلے کا ایک قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ اس میں متاثرہ خاتون کو ہرجانہ بھی دلایا گیا ہے، تاہم ہمارے خیال میں ایسے مقدمات میں ہرجانے کی رقوم زیادہ ہونی چاہئیں تاکہ لوگوں کو عبرت ہو، اگرچہ کوئی بھی بڑی سے بڑی رقم کسی توہین اور بے عزتی کا درست طور پر ازالہ تو نہیں کر سکتی لیکن اگر بھاری ہرجانے مجرموں کو ادا کرنے پڑ جائیں اور ایسی سزائیں سختی سے نافذ العمل ہو جائیں تو عین ممکن ہے سوشل میڈیا پر تصویروں کو قابلِ اعتراض شکل میں ایڈٹ کرنے کے کام کو بازیچہ اطفال سمجھنے والے کوئی عبرت پکڑیں۔

ہمارے معاشرے کو سوشل میڈیا جس انداز میں متاثر کر رہا ہے، اُس میں لوگ بے دھڑک معزز رہنماؤں، قابل احترام اداروں اور ان کے سربراہوں، اعلیٰ عدالتوں کے ججوں، ممتاز اور نمایاں قومی شخصیات اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے اپنے انداز میں بلند مقام رکھنے والوں کو بدنام کرنے والے اقدامات سے نہیں چوکتے، قابلِ اعتراض الفاظ میں بے ہودہ تبصرے پوسٹ کرتے ہیں اور کچھ عرصے سے یہ سلسلہ ایک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ادھر کسی عدالت سے کوئی فیصلہ آتا ہے اور وقت ضائع کئے بغیر اس پر عامیانہ تبصرے شروع ہو جاتے ہیں، غالباً ایسے تبصرہ نگار یہ سمجھ کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ وہ یہ کام چھپ چھپا کر کر رہے ہیں نہ انہیں کوئی دیکھنے والا ہے اور نہ پکڑنے والا، اس لئے وہ اپنے ذہن کی جتنی غلاظت انڈیل سکتے ہیں، وہ انڈیلتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شخصیات اور اداروں کے خلاف ہی مہم نہیں چلائی جاتی بلکہ یہ فرقہ واریت پھیلانے کا بھی ایک بڑا ہتھیار بن کر رہ گیا ہے۔ اپنی پسند کے مسلک کی حمایت اور دوسروں کے مسلک کی مخالفت میں لوگ دور و نزدیک کی کوڑیاں لاتے اور ایسا کرتے وقت مقدس و محترم شخصیات کے احترام کا بھی پاس لحاظ نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا کا یہ پہلو انتہائی خطرناک اور ملک و ملت کے لئے زہر قاتل ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اس جانب توجہ کرنی ہوگی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جس سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرکے جدید دور کی اس ایجاد کو مفید مطلب بنایا جا سکتا تھا وہ تباہی کا ایک ایسا ہتھیار بن کر رہ گیا ہے کہ افراد اور قوم کی زندگیاں اجیرن بن کر رہ گئی ہیں اور معاشرہ بربادی کے راستے پر گامزن ہو گیا ہے۔ اس پس منظر میں متذکرہ فیصلہ امید کی ایک کرن ہے اور اگر ملتے جلتے کیسوں میں ایسے ہی فیصلے آتے رہے تو سوشل میڈیا کے اس طوفان کے راستے میں بند باندھنے میں بڑی مدد ملے گی۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...