قاتل ڈور، ایک اور جان لے گئی!

قاتل ڈور، ایک اور جان لے گئی!

حکومت کی پوری کوشش کے باوجود نہ صرف پتنگ بازی نہیں رکی بلکہ اس کھیل میں در آنے والی قاتل ڈور کی تیاری اور استعمال بھی ختم نہیں ہوا، یہ درست کہ پولیس مختلف اوقات میں بعض علاقوں میں چھاپے مارکر پتنگیں اور ڈور برآمد کرلیتی ہے لیکن چھتوں پر پتنگ بازی والے مسلسل عمل میں مصروف ہیں اور ملک الموت بن کر جانیں لے رہے ہیں، گزشتہ سے پیوستہ روز سبزہ زار میں موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے 37سالہ شخص قاتل ڈور کا شکار ہوگئے ان کے گلے پر پھرنے والی ڈور نے نرخرہ تک کاٹ کی اور خون تیزی سے بہہ جانے کی وجہ سے وہ زندگی کی بازی ہار گیا، گھروالوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹا اہل خانہ، محلہ داروں اور رشتہ داروں نے نعش کو سڑک پر رکھ کر زبردست احتجاج کیا، ٹریفک بند کی، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے نوٹس لیا اور متعلقہ علاقے کے ایس، ایچ، او اور ڈی، ایس، پی ان کی ہدائت پر معطل کر دیئے گئے، غفلت کے الزام میں ان کے خلاف تحقیقات اور محکمانہ کارروائی ہوگی۔ اس حادثے سے پھر یہ سوال پیدا ہوا کہ جب حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے قانونی ضابطوں کے تحت کوئی پابندی عائد کی جاتی ہے تو پھر اس پر پوری طرح عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا، اس سلسلے میں پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ بعض احکام عارضی قانون یا ضابطہ کے تحت دیئے جاتے ہیں جو صرف مخصوص مدت کے لئے ہوتے ہیں اور اس میں بار بار اضافہ کرنا پڑتا ہے ، یہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144ہے جو انتظامیہ کے لئے امرت دھارا ہے،جب کوئی مسئلہ درپیش ہو، ممانعت کرنا ہو تو اس کا سہارا لیا جاتا ہے، اس کی خلاف ورزی پر کوئی سخت سزا نہیں ہوتی، خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور یہ قابل ضمانت ہے، پھر اس کی سزا بھی چھ ماہ سے 3سال تک ہے اور جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے تاہم آج تک کسی کو یہ سزا ملنے کی خبر سامنے نہیں آئی، مختلف قانونی وجوہ کی بنیاد پر ضمانت ہوجاتی اور پھر مقدمہ کہاں چلا جاتا ہے کسی کو علم نہیں ہوتا۔ پتنگ بازی عنوان ہے بسنت کا اور یہاں ایک بڑا طبقہ بسنت منانے کا حامی اور ہر سال آواز اٹھاتا ہے، ان کے جواب میں قاتل ڈور کا شکار متاثرین خاندان میدان میں آکر احتجاج کرتے ہیں اور یوں یہ پابندی بڑھادی جاتی ہے، صوبے میں پتنگ بازی، پتنگ سازی، ڈور تیار اور استعمال کرنے پر پابندی ہے، اس کے باوجود یہ سب ہورہا ہے کہ معاشرے میں آمدنی اور شوق کی تکمیل میں قانون کی خلاف ورزی کو معیوب نہیں جانا جاتا، اس بحث میں جائے بغیر کہ بسنت کا تہوار کیا ہے اور اسے منایا جانا چاہئے یا نہیں، ہمارا خیال ہے کہ جب تک قاتل ڈور کی تیاری اور حالات حاضرہ میں استعمال پر پابندی کے لئے قانون سازی کرکے سزا نہیں بڑھائی جاتی، یہ عمل جاری رہے گا اور لوگ مرتے رہیں گے، اس لئے متعلقہ قانون اگر ہے تو اس میں مناسب ترامیم کرکے اسے سخت بنایا جائے اور اس کا نفاذ بھی موثر ہوتا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی عبرت ہو۔ جہاں تک بسنت کی حمائت اور مخالفت والی بحث کا تعلق ہے تو یہ بہت ہوچکی، اچھائی، برائی پر بھی بات کرلی گئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا،حامی جس دور کی مثال دیتے ہیں اس میں آبادی کم، موٹر سائیکل خال خال تھی اور ڈور بھی نائیلون کے دھاگے اور خطر ناک کیمیکل والے مانجھے سے تیار نہیں ہوتی تھی، پتنگ بازی کھیل تھا، جو محتاط طریقے سے کھیلا جاتا آج کے حالات میں ممکن نہیں کہ پتنگ بازی ہو اور نقصان نہ ہو، اس لئے حالات اجازت نہیں دیتے پابندی برقرار رکھنا ہوگی۔

مزید : رائے /اداریہ