حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

اللہ تعالیٰ نے جن شخصیات کو منفرد خصوصیات سے سرفراز کیا ہے، ان میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی شخصیت گوناں گوں صلاحیتوں سے متصف اور امتیازی شان کا پیکر جمیل نظر آتی ہے، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام سنتے ہی وجد آفریں تلاوت قرآن کریم، سحر بیانی اور ولولہ انگیز خطابت کے نقوش ذہن میں اجاگر ہو جاتے ہیں اور مکہ کے پہاڑوں، مدینہ کی وادیوں اور طائف کے باغوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے بڑی شعلہ بیان، قادر الکلام خطیب اور ایمان افروز تلاوت قرآن کریم کرنے والی کوئی دوسری شخصیت تاہنوز سامنے نہیں آ سکی ہے، شاہ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے مقناطیسی جذب و کشش سے خوب خوب نوازا تھا، آپ کی مجلس آرائی بھی مثالی تھی، مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے لوگ شاہ صاحب کے گرد اس طرح جمع ہوتے اور کشاں کشاں دیوانہ وار آتے جیسے شمع کے گرد پروانے، آپ کی محفل چند ذاتی احباب اور جماعتی رہنماؤں تک محدود نہ ہوتی بلکہ واقف، ناواقف، موافق اور مخالف ہر طرح کے لوگ ذوق و شوق اور عقیدت و محبت بھرے جذبات کے ساتھ شریک محفل ہوتے تھے۔ شاہ صاحب کی ذات ایک انجمن تھی، رنگا رنگ پھولوں سے مزین ایک گلشن تھا۔ بقول حضرت شاہ صاحب! مولانا ابوالکلام آزاد تو ایسے خلوت پسند اور جلوت گریز تھے کہ:

فراغتے و کتابے و گوشہ چمنے

انہیں ہر محفل اور مجمع گراں گزرتا اور مجلس آرائی کا تصور سرگرانی کا موجب ہوتا تھا مگر شاہ صاحب کا معاملہ ان سے مختلف تھا:

احباب جمع ہیں میرؔ حال دل کہہ لے

پھر التفات دلِ دوستاں رہے نہ رہے

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ خوش مزاج، ،خوش گلو، خوش اطوار، خوش اخلاق اور خوش کن اوصاف کے مالک تھے، مجلس آرائی، احباب سے بے تکلفی، خوردوں پر شفقت آپ کی زندگی کا لازمہ تھا، آپ فرمایا کرتے کہ گردوپیش بھرپور مجلس نظر نہ آئے تو زندگی مرگھٹ کی شام محسوس ہوتی ہے۔ آپ کے صبح و شام ایک جلسہ گاہ ہوتے، آپ کے لئے گھر کی نشست، ریل کا ڈبہ، مسجد کی صف اور جیل خانے کی چار دیواری یکساں حیثیت رکھتی تھی، اپنی بات ہر جگہ کہتے اور بے خوف ہو کر کہتے تھے، ’’سربازار ہو کہ سردار‘‘۔

حیات امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ایمان افروز واقعات سے اگرچہ تاریخ کے اوراق بھرپور ہیں مگر ایک واقعہ خصوصاً قابل ذکر ہے کہ جن دنوں انڈیا چھوڑ دو کی تحریک زوروں پر تھی تو شاہ جی نے فرنگیوں کے خلاف معرکہ آراء تقریر کی کہ سارا مجمع انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کو اٹھ کھڑا ہوا، شاہ صاحب گرفتار کر لئے گئے، جب مقدمے کی سماعت ہوئی تو انگریز جج نے شاہ صاحب سے پوچھا کیا آپ نے اپنی تقریر میں حکومت کے خلاف یہ باغیانہ جملے کہے تھے؟ کیوں نہ آپ کو دفعہ -124الف کی خلاف ورزی پر موت کی سزا دے دی جائے۔

شاہ صاحب نے برجستہ فرمایا، سنو! جج صاحب اگر تو سی آئی ڈی کی رپورٹیں دفعہ -124 الف کے تقاضے پورا کرتی ہیں تو ٹھیک، ورنہ اب میں پھر کہتا ہوں کہ میں نے ہر وہ بات کہی ہے جو اس دفعہ کے تقاضے پورے کرے، انگریز غاصب حکمراں ہیں ان کے خلاف تقریر کرکے اپنا یہ ملک چھوڑنے پر مجبور کر دینا میرا دینی، ملی اور ملکی فریضہ ہے۔ اس کے لئے جدوجہد میرے دین و ایمان کا حصہ ہے، میں تو ہر جگہ اپنا یہ عقیدہ برملا بیان کرتا رہتا ہوں اور قرآن کریم کی تلاوت۔

رسول اللہؐ کی ذات سے عشق و محبت

اور انگریزی حکومت کی بغاوت

یہ تو میرے دین و ایمان اور عقیدے کی بات ہے، مَیں نے اس کا اظہار بارہا کیا ہے اور کرتا رہوں گا، چنانچہ شاہ صاحب کو اس پر موت کی سزا سنا دی گئی جو بعد میں قید میں تبدیل ہو گئی تھی۔

مختلف مکاتبِ فکر کی عظیم شخصیات : امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی شخصیت پرکشش جاذبیت کی حامل اور مرجع خلائق تھی، آپ کی ذات کے ساتھ لوگوں کی عقیدت و محبت اور والہانہ وابستگی کا اندازہ ان عظیم المرتبہ شخصیات سے لگایئے جن کے ساتھ آپ کی گہری عقیدت و احترام کے جذبات تھے جو شاہ صاحب کے ساتھ محبت و الفت کے سلسلے میں منسلک تھیں، ان میں شیخ المشائخ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف اور شیخ المشائخ مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری، تو آپ کے مربی اور مرشد تھے، حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری، بخاری صاحب کے استاد بھی تھے اور علماء کے بڑے مجمع میں خطاب سے نوازتے ہوئے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والی پہلی شخصیت بھی۔

(یاد رہے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ برصغیر میں کسی عالم دین سے متاثر اور اس کی علمی عظمت کے قائل تھے تو وہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث علامہ انور شاہ کشمیری کی شخصیت تھی جنہیں وہ دنیائے اسلام کی ممتاز فقیہہ شخصیت قرار دیتے تھے نیز بعض عظیم شخصیات ایسی بھی تھیں کہ شاہ صاحب ان کا اور وہ شاہ صاحب کے بے حد احترام و اکرام کیا کرتی تھیں، ان میں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، شیخ طریقت مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ شبیر احمد عثمانی، ابو حنیفہ ہند مفتی کفایت اللہ، مولانا عزیر گل اسیر مالٹا، مولانا عبیداللہ سندھی، مفتی محمد حسن، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا غلام مصطفی امرتسری، علامہ اقبالؒ ، مولانا سید سلیمان ندوی، شیخ الحدیث مولانا شمس الحق افغانی، حکیم اجمل خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا عبدالقادر قصوری، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبدالہادی دین پوری، مولانا خیر محمد جالندھری، ڈاکٹر ذاکر حسین، استاد العلماء مفتی فقیر اللہ، مولانا محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان، مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، علامہ قاری محمد طیب، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد صادق کراچی اور مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ کے علاوہ اور بہت سی شخصیات کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ (جاری ہے)

جہاں تک مختلف مکاتب فکر اور مسالک کا تعلق ہے شاہ صاحب کے دور میں فرقہ ورانہ تلخی اور باہمی کشمکش نہیں تھی کیونکہ شاہ صاحب سب کے ساتھ امت وحدہ کے سلوک کے داعی اور ساعی تھے۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران تمام علماء و مشائخ کو متفق اور مجتمع کرنے میں شاہ صاحب کا اہم کردار تھا چنانچہ تحریک کی مجلس عمل کا صدر بریلوی مکتب فکر کے مولانا سید محمد احمد قادری خطیب جامع مسجد وزیر خان لاہور کو منتخب کیا گیا تھا۔

ان کے دوش بدوش بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ مسلک کے شخصیات اتحاد و یگانگت اور ملی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہ صاحب کے ساتھ تھیں جن میں سے جمعیتہ علماء پاکستان کے بانی صدر مولانا عبدالحامد بدایونی، جمعیتہ اہلحدیث کے بانی صدر اور مولانا سید محمد داؤد غزنوی اور سیکرٹری جنرل مولانا محمد اسماعیل سلفی، مجلس تحفظ شیعہ کے بانی صدر علامہ کفایت حسین اور سیکرٹری جنرل مظفر علی شمسی تنظیم اہلسنت والجماعت کے بانی مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری، جماعت اسلامی پاکستان کے بانی امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور نائب امیر مولانا امین احسن اصلاحی کے اسماء گرامی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے بعض شخصیات جزوی طور پر طریق کار میں اختلاف رکھنے کے باوجود ملت کے اجتماعی مفاد کی خاطر شیر و شکر اور باہمدگر شانہ بشانہ سرگرم عمل تھیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...