زرداری+بلاول 236ربانی؟

زرداری+بلاول 236ربانی؟
زرداری+بلاول 236ربانی؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پنجابی بڑی میٹھی اور بامعنی زبان ہے، ہماری مادری ہے اور بدقسمتی یہ کہ ان دنوں ہماری ہی اولاد پنجابی سے بیگانگی کا مظاہرہ کررہی ہے، جس کی بنیادی وجہ ذریعہ تعلیم ہے کہ پنجابی زبان کو تعلیمی اداروں سے دور کردیا گیا، بہر حال موضوع یہ نہیں، اتنی بات اس لئے کی کہ پنجابی کی کئی ضرب المثل یاد آرہی ہیں جو موجودہ سیاسی ماحول کے مطابق بہت ہی پر اثر ہیں، ان میں کوے کی ضرب المثل، نانی کے خصم کرنے والی اور خاص طور پر ’’گھروں گھر گوایا، باہروں بڑھوا اکھوایا‘‘ والی بری طرح یاد آرہی ہے، ایسا ہی کچھ ایک بہت ہی ’’مقدس‘‘ہستی کے ساتھ ہوا ہے اور اگر اب بھی انہوں نے عقل مندی اور بردباری کا مظاہرہ نہ کیا تو پھر یہی ضرب المثل صادق آئے گی۔

ان دنوں سینٹ اراکین کے انتخاب کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ اس سلسلے میں ایک سنجیدہ تجویز جو ہمارے نزدیک خلوص سے پیش کی گئی سامنے آئی کہ موجودہ چیئرمین( آج تک ہیں) میاں رضا ربانی کو پھر بنالیا جائے، یہ تجویز اور پیشکش مسلم لیگ (ن) خصوصاً قائد جماعت محمد نواز شریف نے کھلے عام دی اور اس پر بڑی تعریف ہوئی۔

یاروں نے کہا کہ یہ انتخاب بلا مقابلہ ہوجائے گا اور تاریخ رقم ہوگی لیکن فلک کو یہ منظور نہ تھا بلکہ سب پر بھاری کو پسند نہیں تھی، چنانچہ انہوں نے انکار کردیا، صرف انکار ہی نہ کیا بلکہ تھوڑے وقفے کے بعد میاں رضا ربانی کو بے وفا اور پارٹی پالیسی (جوان کی اپنی ہے) کی پیروی نہ کرنے کا ملزم قرار دے دیا، آصف علی زرداری کے بقول میاں رضا ربانی نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرف سے آئین اور قانون کی خلاف ورزیوں پر کوئی نوٹس نہیں لیا، محترم نے نخوت سے کہا ’’لیکن میں نہیں چاہتا‘‘ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے چیئرمین کے لئے میاں رضا ربانی کا نام پیش کیا ہے۔

ادھر اللہ موقع دے رقیبوں کو کہ شاہ محمود قریشی نے مسلم لیگ (ن) کی تجویز کو ترپ کا پتا قرار دے دیا، مقصد تو شہد والی انگلی لگانا تھا، قدرت بھی ستم ظریف ہے خود ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا کہ وہ حضرات بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے ملے اور ان کے ساتھ خوشگوار مذاکرات ہوئے اور عمران خان نے برملا اعلان کیا کہ ان کے تیرہ سینیٹر عبدالقدوس بزنجو کے سپرد کردیئے ہیں، انہی عبدالقدوس بزنجو نے بعد ازاں آصف علی زرداری سے مذاکرات کئے تو ان کو اپنی طرف سے بھرپور اور مکمل حمائت کی پیش کش کردی، یہ الگ بات ہے کہ پھر عمران خان نے پہلے اورساتھ ہی خود عبدالقدوس بزنجو نے یو ٹرن لیا، عمران خان نے کہا ’’ان کے سینیٹر(تحریک انصاف کے) پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہیں دیں گے اس کے بعد باری عبدالقدوس بزنجو کی تھی جو بلوچستان سے چیئرمین کی خواہش لئے بیٹھے ہیں اور عمران خان نے اعلان کردیا ہے، چنانچہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک معروف اینکر کے سوالات کے چکر میں واضح کردیا کہ انہوں نے شریک چیئرمین پیپلز پارٹی کو پیش کش نہیں کی، انہوں نے کہا ہم آصف علی زرداری کی پیشکش کا انتظار کریں گے اگر تو ہمارا رکن چیئرمین کے لئے نامزد ہوا تو ٹھیک ورنہ ہم عمران خان سے رجوع کریں گے۔

تو قارئین محترم! یہ ہے وہ کشمکش اور بھاگ دوڑ جو سینٹ چیئرمین کے لئے ہے، آصف علی زرداری بھلے سب پر بھاری ہوں، یہاں ان سے چوک ہوئی اور ان کو جھٹکا لگا ہے اور اب ہم بھی وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ بازی پھر سے محمد نواز شریف کے پاس چلی گئی جو اتحادیوں کے تعاون سے امیدوار نامزد کرکے اسے جتوانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں، موجودہ صورت میں محترم زرداری کے لئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ کوئی حیرت کا سامان کرسکیں۔

محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو کا مشورہ اور محمد نواز شریف کا فیصلہ حتمی ہوگا اور نمبر گیم بھی ان کے پاس چلی گئی ہے مسئلہ اب صرف ڈپٹی چیئرمین کا ہوگا جو اس صورت میں مولانا فضل الرحمن اچک لیں گے۔

اگرچہ آصف علی زرداری نے بڑے توہین آمیز انداز میں میاں رضا ربانی جیسے جیالے کے خلاف الزام لگا کر ان کو متفقہ چیئرمین بننے سے روک لیا ہے لیکن وہ خود بھی پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ان کو کبھی اس قسم کی پرواہ نہیں رہی، بہر حال ایک تو میاں رضا ربانی بہت دل شکستہ ہوئے اور انہوں نے سینٹ میں اپنے آخری خطاب میں دل گرفتگی کے ساتھ اظہار کیا اورسینٹ ہی سے لاتعلقی کا عندیہ دے دیا، ساتھ ہی انہوں نے اپنے اسی اصول کا اعادہ کیا جس کی بنا پر ان کے خلاف ایسا سلوک کیا گیا تھا، انہوں نے پارلیمنٹ کی بالا دستی اور اداروں کے درمیان تعاون اور سب کو اپنی حدود میں کرنے کے موقف پر ثابت قدم رہنے کا اعلان کردیا۔پارٹی کے جیالے، نظریاتی راہنما کے ساتھ اس سلوک نے پیپلز پارٹی کے اندر سوئے جذبات کو جگادیا اور جو چنگاریاں چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے موقف، بیانات اور سینئر حضرات کے احترام سے سرد کی تھیں، ان پر پھر سے مٹی کا تیل ڈال کر تیلی دکھا دی گئی۔ اب پارٹی کا بہت بڑا طبقہ جو یقیناً سینئر حضرات پر مشتمل ہے، بے چین ہوگیا اور یہ سب بھی میاں رضا ربانی کی طرح ٹھنڈے ہو کربیٹھ جائیں گے، اگرچہ یہ لوگ سیاست اور پارٹی نہیں چھوڑیں گے لیکن اپنے موقف سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے اور یہ سب پارٹی کے بنیادی اصولوں( چاروں نکات) کا پرچار کرتے رہیں گے، یہ تو بلاول بھی کررہے ہیں اور اسی لئے یہ سینئر اس کے ساتھ تعاون پر مجبور تھے، اب ان کو راستہ دکھا دیا گیا کہ ’’آپ کی ضرورت نہیں‘‘ چنانچہ یہ حضرات اپنا راستہ اب خود متعین کریں گے اس سے ان کو کوئی مادی فائدہ ہو یا نہ ہو، پارٹی کو مزید نقصان پہنچے گا۔

ان حالات میں دیکھنا ہوگا کہ چیئرمین بلاول بھٹو اور ان کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو کا طرز عمل کیا ہوگا، یہ دونوں بھائی بہن عملی سیاست میں ہم نظریہ ہیں اور روٹی، کپڑا اور مکان کی بات کرتے ہیں یوں پارٹی کے بنیادی اصولوں کے مطابق پارٹی چلانا چاہتے ہیں، یہ براہ راست مفادات نظریات اور عمل کا تضاد ہے، اس میں کیا ہوگا، کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن والد اور بچوں کے درمیان خلیج ضرور بڑھے گی جومشکل سے پاٹی جاسکے گی۔ یوں ’’محترم‘‘ نے اپنی پالیسیوں سے بہت بڑے معرکہ کے امکانات پیدا کردیئے ہیں اور اس سے پارٹی کو بھی بہت زیادہ نقصان ہوگا۔۔۔ آخر میں پنجابی ہی کی ایک اور کہاوت کہہ کر بات ختم کرتے ہیں، کہا جاتا ہے ’’ڈِگے بیراں دا کچھ نہیں بگڑدا‘‘(درخت سے بیرگر جائیں تو ان کا کچھ نہیں بگڑتا، اٹھا کر صاف کرکے کھائے جاسکتے ہیں) اس لئے تھوڑا سا ’’یو ٹرن) لے ہی لیں اور رضا ربانی پر صاد کریں کہ مولانا فضل الرحمن اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مل کر کہا کہ چیئرمین رضا ربانی کو بنایا جائے، وہ کوشش کریں گے، شاید نواز شریف پھر سے مان جائیں۔

مزید : رائے /کالم