آپ کسی زعم میں لگتے ہیں ،اعتزاز احسن ،ہم تو زعم ختم کرنے آئے ہیں ، چیف جسٹس ،آپ ٹینشن میں ہیں ،اعتزاز ،ٹینشن لینے کا نہیں،چیف جسٹس

آپ کسی زعم میں لگتے ہیں ،اعتزاز احسن ،ہم تو زعم ختم کرنے آئے ہیں ، چیف جسٹس ...
آپ کسی زعم میں لگتے ہیں ،اعتزاز احسن ،ہم تو زعم ختم کرنے آئے ہیں ، چیف جسٹس ،آپ ٹینشن میں ہیں ،اعتزاز ،ٹینشن لینے کا نہیں،چیف جسٹس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار،مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ کے روبرو ڈبہ بند دودھ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹرچودھری اعتزاز احسن نے جمعہ کے روز عدالت کی طرف سے عائد کئے گئے 10ہزار روپے جرمانہ کی رقم ادا کرنے سے انکار کردیااور چیف جسٹس سے کہا کہ آپ مجھے ٹینشن میں نظر آرہے ہیں ،آپ کو کوئی ٹینشن دے رہا ہے ۔آپ کسی زعم میں لگتے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ٹینشن میں نہیں ہیں ، ٹینشن لینے کے نہیں ۔ہمیں کوئی زعم نہیں ہم تو زعم ختم کرنے آئے ہیں ۔جمعہ کے روز عدالت میں پیش نہ ہونے پر فاضل بنچ نے اعتزاز احسن پر 10ہزار روپے ہرجانہ عائد کیا تھا ،کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی اعتزاز احسن نے فاضل بنچ سے کہا کہ مجھے جرمانہ کیوں کیا گیا ہے ؟ مجھے تو آج تک 10روپے جرمانہ نہیں ہوا ،مجھے سکول میں کبھی 25پیسے کا جرمانہ نہیں ہوا۔آپ نے میرا ریکارڈ خراب کردیا ہے ،میں یہ جرمانہ ادا نہیں کروں گا ۔اس پر چیف جسٹس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ یہ جرمانہ نہیں یہ تو صدقہ ہے ،یہ رقم توفاطمید فاﺅنڈیشن کو جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ میں صدقہ خیرات کرتا رہتا ہوں لیکن جرمانہ ادا نہیں کروں گا ،آج کے اخبارات میرے جرمانے کی خبر سے بھرے پڑے ہیں ۔انہوں نے عدالت میں اخبارات دکھائے ،ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ یہ رقم ادا نہیں کرتے تو پھر ہم اپنی جیب سے ادا کردیتے ہیں ۔ایک موقع پر چیف جسٹس نے اعتزاز احسن کی اہلیہ کا نام لے کر کہا کہ اگر آپ جرمانہ نہیں دیں گے تو پھر ہم بشریٰ باجی سے لے لیں گے ۔اس کے باوجود اعتزاز احسن کی سنجیدگی برقراررہی تو بنچ کے فاضل رکن مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ ہم نے ہرجانہ عائد کیا تھا لیکن ابھی تک اسے تحریری حکم کا حصہ نہیں بنایا ۔فاضل بنچ نے بنیادی کیس پر دلائل دینے کے لئے کہا تو اعتزاز احسن نے چیف جسٹس سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ مجھے ٹینشن میں نظر آرہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔دلائل کے دوران اعتزاز احسن نے ٹینشن میں ہونے کی متعدد بار بات کی تو چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے یک مشہور فلمی ڈائیلاگ کا پہلا حصہ بولا کہ " ٹینشن لینے کے نہیں ہیں "۔تاہم انہوں نے ڈائیلاگ کا دوسرا حصہ نہیں بولاجس میں کہا گیا ہے کہ ٹینشن دینے کے ہیں ۔دلائل کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ زعم میں لگتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں کوئی زعم نہیں ہے بلکہ ہم زعم ختم کرنے آئے ہیں ۔عدالت نے اعتزاز احسن سے کہا کہ گزشتہ روزآپ کے جونئیر کا عدالت سے رویہ درست نہیں تھا کسی کو آپ کے کندھوں پر چڑھ کر عدالتی کاروائی میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی،اعتزاز احسن نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ ٹینشن میں لگتے ہیں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے ایسو سی ایٹ نے عدالت میں کھڑے ہو کر اعزاز احسن کے چیمبر کا رعب دکھایاجو یہاں رعب جھاڑے گا میں تو میں جونیئر اور سینئر وکیل کی تمیز نہیں کروں گا۔ڈبہ بند دودھ کے حوالے سے فاضل بنچ نے قراردیا کہ ڈبہ بند اور فارمولا دود ھ ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں ہے ،یہ دودھ ہے ہی نہیں ہے۔عدالت حکم دے چکی ہے کہ فارمولا دودھ کے ڈبہ پر لازمی طور پر لکھا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے ،اس پر عمل کیوں نہیں ہورہا ؟ملک ایسوسی ایشن کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ بچوں کی مکمل غذا ہے اور90فیصد سے زیادہ دودھ ہے ۔یہ عبارت لکھنا درست نہیں جس پر عدالت نے اعتزاز احسن کو ہدایت کی کہ پھرآپ ایسی ہی عبارت لکھ کرلے آئیںجو ڈبوں پر تحریر ہونی چاہیے ،عدالت اس کا جائزہ لے گی ۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اگر مناسب تحریر پیش نہ کی گئی تو پھر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور