ڈیٹ شیٹ پر بھی وزیراعلیٰ کی تصویر چھپتی ہے ،قومی دولت ذاتی تشہیر پر خرچ نہیں کرنے دیں گے ،وزیراعلیٰ کو طلب کریں گے ،چیف جسٹس پاکستان 

ڈیٹ شیٹ پر بھی وزیراعلیٰ کی تصویر چھپتی ہے ،قومی دولت ذاتی تشہیر پر خرچ نہیں ...
ڈیٹ شیٹ پر بھی وزیراعلیٰ کی تصویر چھپتی ہے ،قومی دولت ذاتی تشہیر پر خرچ نہیں کرنے دیں گے ،وزیراعلیٰ کو طلب کریں گے ،چیف جسٹس پاکستان 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے پنجاب میں لیپ ٹاپ سکیم اور ہیلتھ کارڈز پر وزیراعلیٰ کی تصاویر شائع ہونے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے چیف جسٹس نے لیپ ٹاپ سکیم اور ہیلتھ کارڈز پر وزیراعلیٰ پنجاب کی تصاویر شائع کرنے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب سے استفسار کیا کہ پیسہ عوام کا ہے ،تصویریں وزیراعلیٰ کی کیوں لگائی جارہی ہیں،چیف سیکرٹری نے کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم اور ہیلتھ کارڈ سکیم وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوش ہے ،عدالت نے کہا کہ بتایا جائے لیپ ٹاپ سکیم پر کتنے اخراجات آئے ہیں؟کوئی سیاسی جماعت اپنے پیسے سے تشہیر کرے عوام کے ٹیکس سے نہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب کی تصویر ہر جگہ کیوں آجاتی ہے؟چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ میاںشہباز شریف کوجواب دہ ہونا پڑے گا ۔ان سے تصاویر چھاپنے پر وضاحت لیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے زمانے میں لوگ چھپ کر خدمت کرتے تھے، اب عوامی پیسوں سے تشہیر کرتے ہیں۔ عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب دونوں معاملات پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی ۔عدالت نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ 31 مارچ کو اس کیس کی دوبارہ سماعت کریں گے،تمام ڈیٹا ریکارڈ پر ہونا چاہیے، حالت یہ ہے کہ ڈیٹ شیٹ پر بھی وزیر اعلیٰ کی تصویریں چھپتی ہیں،کارکردگی دکھانی ہے تو کام کر کے دکھائیں، تصویریں چھپوا کر نہیں،شہباز شریف کو تصویریں چھپوانے کا زیادہ شوق ہے تو ہمیں پیش ہو کر وضاحت کریں۔یاد رکھیں ہم نیب کو پنجاب حکومت کے اشتہارات کی تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں،جسٹس عمر عطا ءبندیال نے کہا کہ حکمرانوں کو اندازہ نہیں کہ پاکستان قرضوں میں ڈوب چکا ہے، قرضوں میں ڈوبی قوم کا پیسہ حکمران ذاتی تشہیر پر خرچ کر رہے ہیں،قرضوں کی صورتحال دیکھ کر عدالت پریشان اور خوفزدہ ہے،اب بھی وقت ہے حکومتیں اپنی ترجیحات درست کر لیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور