اک گونا بے خودی مجھے دن رات چاہیے

اک گونا بے خودی مجھے دن رات چاہیے
اک گونا بے خودی مجھے دن رات چاہیے

کھلے سگریٹوں کی فروخت پر پابندی سے خیال آیا کہ ہر کہنہ مشق تمباکو نوش کو سالہا سال گزر جانے پہ بھی زندگی کے اولین سگریٹ کی لذت یاد رہتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ میرے لئے پہلے کی بجائے دوسرے سگریٹ کا تجربہ زیادہ منفرد ثابت ہوا ۔

اُس دن مجھ سمیت بی اے فائنل کے کچھ ’دانشور ٹائپ‘ لڑکے اسٹوڈنٹس یونین کے دفتر میں بھیگے ہوئے موسم کا مزا لے رہے تھے ۔ ہمارے ایک ہم جماعت نے ’پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ ‘ جیسی سنجیدہ نظم کے خالق پروفیسر اصغر سودائی کی ایک کم معروف مگر یک کیفیتی غزل چھیڑ دی ۔

کہتے ہیں ’نشہ ء مے کو تعلق نہیں پیمانے سے ‘ لیکن اب سے چھ برس پہلے تمباکو نوشی کی بیالیس سالہ ’کوالیفائینگ سروس‘ سے ریٹائر ہو کر بھی مَیں نہیں سمجھ سکا کہ اُس گھڑی گرج چمک اور چھینٹوں کے زور پر سگریٹ کا نیلگوں ذائقہ کسی ویزے یا پاسپورٹ کے بغیر شعری واردات کی حدوں میں کیسے داخل ہو گیا تھا۔

اُس صبح کی شعری لذت ایک رات پہلے میری سگریٹ نوشی کی افتتاحی رسم میں ایک چھوٹے سے ’حادثہ‘ کا امکانی رد عمل بھی ہو سکتی ہے ۔ ایک ایسا وقوعہ جس میں اپنا منہ تو باقاعدہ طور پہ کالا ہوا ہی ، ساتھ ہی لاہوری زبان میں میرے چھوٹے بھائی کی ’بزتی‘ بھی ہو گئی ، جو ذرا ’کولیٹرل‘ نوعیت کی تھی ۔ بھائی اُس وقت تھے تو فرسٹ ائیر کے طالب علم ، لیکن شیخ سعدی کے نزدیک بزرگی کا پیمانہ چونکہ مہ و سال کی جگہ عقل ہے ، لہٰذا مجھ بی اے فائنل کے اسٹوڈنٹ کو سگریٹ پینے کی دعوت انہوں نے دی ۔ سیالکوٹ کی گھاس منڈی میں ، جسے اب چوک شہیداں کہتے ہیں ، کھوکھے والے نے ’کیپسٹن‘ کے پانچ کھُلے سگریٹ ’ہم پلہ ‘ ڈبی دستیاب نہ ہونے کے باعث ’کے ٹو ‘ کے پیکٹ میں ڈال کر دئے تو اِسے بھی خندہ پیشانی سے قبول کر لیا گیا ۔

میرے معاملہ کے حادثاتی پہلو کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ چوتھائی صدی پہلے آپ نے پان سگریٹ کی عوامی دکانوں پر صدقہ ء جاریہ کے طور پہ ہمہ وقت روشن رہنے والا تیل کا دیا اور گاہکوں کے انتظار میں سلگتی ہوئی رسی دیکھی ہو ۔

اِس کی بدولت یہ سہولت حاصل ہوتی کہ لائٹر یا ماچس کے پیسے بچا کر بھی ’اپنے حصے کی کوئی شع جلاتے جاتے‘ ۔ بھائی نے ’ماماں ٹوپ‘ بننے کے شوق میں پیکٹ میری طرف بڑھا تو دیا ، لیکن مجھے کہاں پتا تھا کہ صحیح پروسیجر کے تحت پہلے موٹے کاغذ کی کترن کو شعلہ دکھایا جاتا ہے ۔ پھر اُس سے سگریٹ سلگاتے ہیں ۔ میری نا سمجھی کہ منہ میں سگریٹ بلکہ ’سغٹ‘ ٹکا کر دئیے کی لو کو ڈائرکٹ ’ٹچ‘ کرنے کی کوشش کی ۔

یوں چراغ تو ہو گیا گُل ، پر اِس دوران مجھ پہ کیا گزری ’میری کہانی میری زبانی نہ پوچھئے‘ ۔ بس ، آگ میں موجود کاربن سمیت وہ کالے ، نیلے ، سرخ اور بے رنگ اجزاء مجھ پہ جھپٹ پڑے جو اسکول کی سائینس میں پڑھے تھے ۔

کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ اگر باقی دنیا کے برعکس برصغیر میں پیکٹ کی جگہ کھلے سگریٹ بیچنے اور خریدنے کا رواج نہ ہوتا تو اِس حاد ثہ سے بچا جا سکتا تھا ۔ نوجوانی کے مسائل کی روشنی میں میری دلیل یہ ہے کہ ایک آدھ سگریٹ خرید نا پوری ڈبیہ لینے کے مقابلے میں سستا پڑتا ، پھر اسے اٹھائے اٹھائے پھرنا بھی مسئلہ نہیں تھا ۔ وگرنہ پیکٹ دس والا بھی ہوتا تو قمیض کی جیب میں بزرگوں کی جھات پڑ سکتی تھی اور اگر پتلون میں سنبھالا تو ڈبی کی جمالیات ہی ختم سمجھو ۔

کھوکھے سے اکا دکا سگریٹ خریدنے والے کو عادی سگریٹ نوش بنتے دیکھا تو سہی ، مگر اُس مرحلے پر جب وہ کھلے سگریٹ لینا چھوڑ دیتا اور حسبِ توفیق پیکٹ اور ’ڈنڈے‘ خریدنے لگتا ۔

میرے ساتھ بھی یہی ہوا ، مگر اقبال کی شاعری کی طرح میری تمباکو نوشی کے بھی تین ادوار ہیں ، جن میں سے بیچ کا دور علامہ کی پیروی میں یورپ میں گزرا ۔

ابتدائی مشق سخن تو اُسی گھر میں ہوئی تھی جہاں فخر سے کہا جا سکے کہ ’حقوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں‘ ۔ ایک میرے والد تھے جنہیں ہم نے کسی کی شادی یا ولیمہ پر زندگی میں صرف دو ایک مرتبہ سگریٹ پیتے دیکھا اور بھانجے بھانجیوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں کہ دیکھو ، ماموں جی بھی ناک سے دھواں نکال لیتے ہیں ۔ ابا کی ’مردانگی‘ کا مسئلہ اس لئے اہم ہے کہ ہمارے ’سیکولر‘ ماحول میں دُود کشی کے بغیر کسی عاقل بالغ شہری کا تصور تھا ہی مشکل ۔

اسی لئے شہر میں نئی نئی بجلی آئی تو بلب سے ’ٹاکی‘ جلا کر حقہ روشن کرنے کی ناکام کوشش کے بعد دادا سے اٹھارہ سال بڑی بہن نے ایک تاریخی جملہ کہا جسے دہرایا نہیں جاسکتا ۔ بجلی جیسے ’نئے فیشنوں‘ کی مذمت میں یہ ایک پنجابی محاورہ تھا جس میں دادے کی داڑھی یا ستی پیڑھی کا ذکر آتا ہے ۔

یوں گزشتہ ہفتے دھوم دھام سے منائے گئے عالمی یومِ خواتین سے بہت پہلے حقہ نوشی کی حد تک ہمارے قصبہ و دیہات میں مرد و خواتین کی برابری کا اصول جڑ پکڑ چکا تھا ۔

میرے آبائی علاقے میں زمینی ملکیت کی اکائی بھی چھوٹی ہے ، اس لئے ’تمیز بندہ و آقا‘ کے بغیر جب مردانہ مجلس میں حقہ رہٹ کی طرح گول دائرے میں گھومتا تو بھائی چارے کے ایک عجیب کلچر کا احساس ہوتا ۔ سماجی رتبہ کی طرح عمر کے فرق کی بھی کوئی خاص قید نہیں تھی ۔

خالد نظیر صوفی کی کتاب ’اقبال درون خانہ‘ میں عدالتی تعطیلات کے دنوں میں شاعرِ مشرق اور شیخ نور محمد کے سیالکوٹ والے گھر میں باپ بیٹے کے متوازی چارپائیوں پہ لیٹ کر حقہ نوشی سے لطف لینے کا صاف اشارہ ملتا ہے ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ ایک خدا اور ایک کتاب کی طرح ساری قوم کا حقہ بھی ایک تھا ۔ جی نہیں ۔

ایک واضح فرق تو ’پینڈو‘ اور شہری حقے کا ہے ۔ اول الذکر ایک نڑی ، مٹی کے پیندے اور ’ٹوپی‘ پر مشتمل ایک بنیادی ڈھانچہ تھا جو دُور سے ’اینٹی ائر کرافٹ گن‘ کے مشابہہ لگتا ۔ ہاں ، شہری حقہ کا ’تھلا‘ مضبوط دھات کا بنا ہوتا اور شائد اس کے نیچے کسی یورپی کمپنی کے نام کے الفاظ بھی ڈھلے ہوتے ۔

ہم بچوں کی دلچسپی اُس ’قبضہ‘ ٹائپ چیز میں زیادہ تھی جسے ڈھیلا کر کے حقہ کی نڑی کو مسجد کے مائیکروفون اسٹینڈ کی طرح اوپر نیچے ’ایڈجسٹ‘ کر لیتے ۔

جعفر علی زیدی جیسے فرشی حقہ پینے والوں سے تو تعلق بعد میں بڑھا ، لیکن بچپن میں ہم ایک تیسری قسم کے سیدھی چلم والے پوٹھواری حقے بھی دیکھ چکے تھے ، جن میں چمپئن حقہ نوش ، پھوپھا جمال دین نے علاقائی تعصب سے کام لے کر یہ ٹکنیکل نقص نکالا کہ چلم کا ’سوٹا‘ لگا کر تھوکنا واجب ہو جاتا ہے ، سو اسے قالین یا دری پر بیٹھ کر نہیں پیا جاسکتا ۔

بہر حال ، ریکارڈ کی درستی کی خاطر یہ بتادوں کہ بندے نے بحیثیت تمباکو نوش اپنے کیرئر میں ابتدائی چھ برس سگریٹ ، اگلے آٹھ سال پائپ اور سگریٹ ، پھر چوتھائی صدی سے کچھ اوپر صرف پائپ پہ گزر بسر کی ۔ البتہ لندن میں قائد اعظم کی یاد میں ’کریون اے‘ کے بیس سگریٹ بھی پئے کیونکہ قائد کے معالج کرنل الہی بخش کی تصنیف میں اسی برانڈ کا ذکر تھا ۔ خوشی غمی کے خاص خاص موقعوں پر سگار نوشی کے بعد یہ بھی کہنا پڑا کہ ’میں آج اعتدال کی حد سے گزر گیا‘ ۔ جیسے بہن کی شادی کے انتظامات کرتے ہوئے ’کنگ ایڈورڈ‘ کی پانچ ڈبیوں کے پشتے لگا دئے تھے ۔

اِس سے سال بھر پہلے اُس رات تعداد ذرا کم رہی جب کراچی یونیورسٹی میں فلسفہ کے مرحوم استاد ڈاکٹر ظفر عارف سے اِس سوال پہ سینگ پھنس گئے تھے کہ آیا بیوروکریسی ایک ’انڈپنڈنٹ فورس‘ ہے یا جاگیردار طبقہ کی ترجمان ۔ چند سال پہلے ٹورونٹو سے سردار شوکت نواز کے بھیجے ہوئے ایک سو کیوبن سگار اِس کے علاوہ ہیں ۔

آج پھر جی میں آرہی ہے کہ سگریٹ پر پائپ کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے کتاب زندگی کے وہ سارے ابواب پڑھ کر سنادوں جن کے عنوانات میں برٹرینڈ رسل سے لے کر ن۔ م ۔ راشد ، ڈاکٹر خرم قادر ، پروفیسر خالد آفتاب ، مقسط ندیم اور بی بی سی کے وقار بھائی کے نام دمک رہے ہیں ۔

اِس سے اگلے مرحلے پر کتاب کی نہیں ، ڈی وی ڈی کی ضرورت پڑے گی تاکہ ’منڈیوں کے بھاؤ‘ سنا سنا کر اور پائپ فضا میں لہراتے ہوئے مجھے رغبت دینے والے بھلے وقتوں کے دوست حامد ہاشمی کی شیریں آواز سنی جا سکے کہ ’آپ بارہ آنے کا سگریٹ پئیں ، میں دونی کا تمباکو پیوں گا‘ ۔

بہر حال کتاب ہو یا ڈسک ، سرورق پر تصویر میرے چھوٹے بھائی کی ہونی چاہئیے جو ’ ساہنوں نہر والے پل تے بلا کے‘ آج بھی آدھی ڈبی کے زادِ راہ کے ساتھ ’چلی جا رھیا ہاں کنارے کنارے!‘

یہاں ایک متوقع سوال یہ ہے کہ چالیس سال سے طویل تر سروس کے بعد تم نے تمباکو نوشی سے ریٹائرمنٹ آخر کیسے لے لی ۔ اگر آپ کرکٹ کی اصطلاحات سے واقف ہیں تو سُن لیجئے میں نے آپ ہی ’گوگلی‘ پھینک کر اپنی وکٹ اڑائی ہے ۔

تھوڑی سی جسمانی ’بھن تروڑ‘ کے بعد میرے نہائت شفیق معالج نے کہا تھا کہ احتیاط ایک ہی ہے بشرطیکہ آپ کو یہ نہ لگے کہ پائپ چھوڑ دینے سے ’کوالٹی آف لائف‘ خراب ہو گئی ہے ۔ میں نے اپنے آپ کو نرمی سے یہ کہہ کر چکر دیا کہ ’ملک صاحب ، آپ چوبیس گھنٹے میں چھ پائپوں سے ایک پائپ پہ آ ہی چکے ہیں ۔

ذرا اور کم کر کے دیکھئے‘ ۔ سات برس ہونے کو آئے دن رات میں خود کو چھوٹے سائز کے آدھے پائپ کی اجازت دے رکھی ہے ۔ وہ بھی اِس لئے کہ دادا کے الفاظ میں ’بندہ دھیانے لگا رہتا ہے‘ ۔

مسئلہ تو چھوٹے بھائی کا ہے جو پچاس سال سے پچاس سگریٹ یومیہ کی حد سے آگے نہیں بڑھے ۔ اب ڈر تا ہوں کہ کھُلے سگریٹوں پر پابندی لگنے سے کہیں اِس نوجوان کی عادتیں خراب نہ ہو جائیں ۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...