صاف پانی کا معاملہ ہماری پہلی ترجیحات میں شامل نہیں رہا،چیف سیکرٹری کا اعتراف،جو نہیں کیا اس کااشتہار بھی چلائیں،چیف جسٹس 

صاف پانی کا معاملہ ہماری پہلی ترجیحات میں شامل نہیں رہا،چیف سیکرٹری کا ...
صاف پانی کا معاملہ ہماری پہلی ترجیحات میں شامل نہیں رہا،چیف سیکرٹری کا اعتراف،جو نہیں کیا اس کااشتہار بھی چلائیں،چیف جسٹس 

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے دریائے راوی میں آلودہ پانی پھینکے جانے اور صاف پانی کی فراہمی سے متعلق لئے گئے از خود نوٹس کیسوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے پی سی ون پیش کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے پبلک سیکٹر میں قائم کمپنیوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے یہ وضاحت پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے کہ صاف پانی کمپنی میں افسروں پر کروڑوں روپے کے اخراجات کس حیثیت سے کئے گئے؟عدالتی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومتی کمپنیوں میں کروڑوں روپے کے اخراجات کس حیثیت سے کئے گئے اورافسران کو بلٹ پروف گاڑیاں کیوں فراہم کی گئیں۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ دوگاڑیاں خریدی گئیں تھیں ان بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے سے روک دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو کمپنیوں کی تمام تفصیلات، افسران کو دی جانے والی مراعات کی تفصیل فراہم کی جائے، چیف جسٹس نے نہروں اور دریاوں میں پھینکنے جانے والے آلودہ پانی کی صفائی اورواٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تشکیل سے متعلق حکومت کی حمایت میں بات کرنے پر عدالتی معاون عائشہ حامد کی سرزنش کر دی اورکہا کہ یہ آپ کا مسئلہ نہیں جن کا کام ہے وہ وضاحت کریں ۔گزشتہ 10برسوں سے ان کی حکومت میں ایک بھی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کیوں نصب نہیں ہوا، وزیراعلیٰ پنجاب وضاحت کریں گزشتہ 10برسوں میں اس معاملہ پرکارکردگی کیوں نہیں دکھائی؟ ضرورت پڑنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو عدالت میں طلب کریں گے، لگ رہا ہے کہ صحت کے مسائل حکومت کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں، شہریوں کو پینے کے لئے زہریلا پانی مل رہا ہے،عدالت کے استفسار پر چیف سیکرٹری پنجاب نے اعتراف کیا کہ صاف پانی کا معاملہ ہماری پہلی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کارکردگی کا اشتہار چلاتے ہیں، جو نہیں کیا اس کااشتہار بھی چلائیں، اورنج ٹرین پر اربوں روپے لگا دیئے ،پانی کے زیاں کو روکنے کے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے؟ اورنج ٹرین اور موٹر وے جیسے دکھائی دینے والے منصوبے بنا کرعوامی پیسوں سے تشہیر کی جارہی ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ اورنج ٹرین پر180ارب روپے خرچ کردیئے گئے جس پر عدالت میں موجود اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں ،اس منصوبہ پر 235ارب روپے لاگت آئی ہے ۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 31مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور