دوہری شہریت ،آئینی تشریح کیلئے لارجر بنچ تشکیل ، سینیٹرز کی کامیابی کے عبوری نوٹیفکیشن کی اجازت

دوہری شہریت ،آئینی تشریح کیلئے لارجر بنچ تشکیل ، سینیٹرز کی کامیابی کے عبوری ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار ، جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے مختلف کیسوں میں ازخود نوٹسز کی سماعت کی ۔تفصیلات کے مطابق دوہری شہریت از خود نوٹس کیس میں الیکشن کمشن کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے متعلقہ سینیٹروں کی کامیابی کا عبوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دیدی ۔چیف جسٹس نے دوہری شہریت کے معاملہ پر آئینی اور قانونی نکات کی تشریح کیلئے لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے جو اس کیس کا حتمی فیصلہ کرے گا۔عدالت نے جن سینیٹرز کی کامیابی کا عبوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دی ہے ،ان میں وزیراعظم کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی ، نزہت صادق، ہارون اختر اور پی ٹی آئی کے چودھری سرور شامل ہیں ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اہم نکتہ سامنے آیا ہے 2012ء میں سپریم کورٹ نے غیر ملکی شہریت چھوڑ کر پاکستان آنیوالے سیاستدانوں کو پارلیمنٹ کی رکنیت کا اہل قرار دے دیا تھا ۔آئین کے آرٹیکل63(1)سی میں کہا گیا ہے کہ جو شخص پاکستان کی شہریت چھوڑ دے یا کسی غیر ملک کی شہریت حاصل کرلے ،وہ اسمبلی کی رکنیت کیلئے نااہل ہوگا۔اب نکتہ یہ ہے کہ یہ لوگ غیر ملکی شہریت چھوڑ کر دوبارہ پاکستانی شہریت اختیار کرلیں تو کیا یہ اسمبلی کیلئے اہل ہوجائینگے ؟ اس معاملہ پر لارجر بنچ فیصلہ کرے گا ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہوسکتا ہے لارجر بنچ سپریم کورٹ کے7ججوں پر مشتمل ہو ۔دوران سماعت نو منتخب سینیٹر چودھری سرور کی طرف سے کہا گیا کہ گورنر بننے سے قبل انہوں نے برطانوی شہریت چھوڑ دی تھی ،تب سے آج تک وہ پاکستانی شہری ہیں اور ملک میں تعلیم ،صحت اور صاف پانی کے منصوبے اپنی جیب سے چلا رہے ہیں، چیف جسٹس کے استفسار پر چودھری سرور نے کہا کہ انکی جائیدادیں اور بیوی بچے برطانیہ میں ہیں جبکہ ان کے بیوی بچوں کے پاس برطانوی شہریت موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی باتیں اپنی جگہ پر مگر عدالت کے پاس آئین کے آرٹیکل 63(1) سی کی تشریح کا معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ غیر ملکی قوانین کے تحت دوسرے ملک کی شہریت کو دوبارہ بھی حاصل کیاجا سکتا ہے، عدالت کے روبروحلف نامہ جمع کرانا کافی نہیں ،یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ٹکٹ پر دو مزے کر لئے جائیں۔ چیف جسٹس نے چودھری سرور سے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ برطانوی شہریت مکمل طور پر چھوڑی ہے کہ یا عارضی طور پر ؟ چودھری سرور کے وکیل نے کہا کہ برطانوی قانون کے مطابق وہاں شہریت دوبارہ بحال ہوسکتی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے کہ آ پ نے گورنر بننے کیلئے برطانوی شہریت ترک کی ۔آپ نے یہاں سیاست کرنی تھی اور وقت پورا ہونے پر دوبارہ جا کروہاں شہریت بحال کروانی تھی ،اگر کوئی شخص اپنی غیر ملکی شہریت دوبارہ بحال کرواتا ہے تو پھر نااہلی تو بنتی ہے ۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ جو دوہری شہریت ترک کررہا ہے اس کی پاکستان سے وفاداری کتنی ہے ؟اوورسیز پاکستانیوں کی ہمارے دل میں بہت عزت اور احترام ہے ،ہم قانونی لحاظ ہے بات کررہے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم صرف عبوری حکم کی حد تک فیصلہ دے رہے ہیں ،مزید سماعت لارجر بنچ کرے گا ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ان سینیٹر ز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی ،اگر وہ بعد میں نااہل ہوگئے تو پھر نومنتخب چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کا کیا بنے گا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بہت پیچیدہ آئینی نکتہ ہے ،اس کا حتمی فیصلہ لارجر بنچ کرے گا۔چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے دریائے راوی میں آلودہ پانی پھینکے جانے اور صاف پانی کی فراہمی سے متعلق لئے گئے از خود نوٹس کیسوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے پی سی ون پیش کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے پبلک سیکٹر میں قائم کمپنیوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے یہ وضاحت پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے کہ صاف پانی کمپنی میں افسروں پر کروڑوں روپے کے اخراجات کس حیثیت سے کئے گئے؟عدالتی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومتی کمپنیوں میں کروڑوں روپے کے اخراجات کس حیثیت سے کئے گئے اورافسران کو بلٹ پروف گاڑیاں کیوں فراہم کی گئیں۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ دوگاڑیاں خریدی گئیں تھیں ان بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے سے روک دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو کمپنیوں کی تمام تفصیلات، افسران کو دی جانے والی مراعات کی تفصیل فراہم کی جائے، چیف جسٹس نے نہروں اور دریاوں میں پھینکنے جانے والے آلودہ پانی کی صفائی اورواٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تشکیل سے متعلق حکومت کی حمایت میں بات کرنے پر عدالتی معاون عائشہ حامد کی سرزنش کر دی اورکہا کہ یہ آپکا مسئلہ نہیں جن کا کام ہے وہ وضاحت کریں ۔گزشتہ 10برسوں سے انکی حکومت میں ایک بھی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کیوں نصب نہیں ہوا، وزیراعلیٰ پنجاب وضاحت کریں گزشتہ 10برسوں میں اس معاملہ پرکارکردگی کیوں نہیں دکھائی؟ ضرورت پڑنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو عدالت میں طلب کریں گے، لگ رہا ہے کہ صحت کے مسائل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں، شہریوں کو پینے کیلئے زہریلا پانی مل رہا ہے،عدالت کے استفسار پر چیف سیکریٹری پنجاب نے اعتراف کیا کہ صاف پانی کا معاملہ ہماری پہلی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کارکردگی کا اشتہار چلاتے ہیں، جو نہیں کیا اس کااشتہار بھی چلائیں، اورنج ٹرین پر اربوں روپے لگا دیئے ،پانی کے زیاں کو روکنے کے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے؟ اورنج ٹرین اور موٹر وے جیسے دکھائی دینے والے منصوبے بنا کرعوامی پیسوں سے تشہیر کی جارہی ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ اورنج ٹرین پر180ارب روپے خرچ کردیئے گئے جس پر عدالت میں موجود اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں ،اس منصوبہ پر 235ارب روپے لاگت آئی ہے ۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 31مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے پنجاب میں لیپ ٹاپ سکیم اور ہیلتھ کارڈز پر وزیراعلیٰ کی تصاویر شائع ہونے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔چیف جسٹس نے لیپ ٹاپ سکیم اور ہیلتھ کارڈز پر وزیراعلیٰ پنجاب کی تصاویر شائع کرنے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب سے استفسار کیا کہ پیسہ عوام کا ہے ،تصویریں وزیراعلیٰ کی کیوں لگائی جارہی ہیں،چیف سیکرٹری نے کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم اور ہیلتھ کارڈ سکیم وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوش ہے ،عدالت نے کہا کہ بتایا جائے لیپ ٹاپ سکیم پر کتنے اخراجات آئے ہیں؟کوئی سیاسی جماعت اپنے پیسے سے تشہیر کرے عوام کے ٹیکس سے نہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب کی تصویر ہر جگہ کیوں آجاتی ہے؟چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کوجواب دہ ہونا پڑے گا ۔ان سے تصاویر چھاپنے پر وضاحت لیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے زمانے میں لوگ چھپ کر خدمت کرتے تھے، اب عوامی پیسوں سے تشہیر کرتے ہیں۔ عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب دونوں معاملات پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی ۔عدالت نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ 31 مارچ کو اس کیس کی دوبارہ سماعت کریں گے،تمام ڈیٹا ریکارڈ پر ہونا چاہیے، حالت یہ ہے کہ ڈیٹ شیٹ پر بھی وزیر اعلیٰ کی تصویریں چھپتی ہیں،کارکردگی دکھانی ہے تو کام کر کے دکھائیں، تصویریں چھپوا کر نہیں،شہباز شریف کو تصویریں چھپوانے کا زیادہ شوق ہے تو ہمیں پیش ہو کر وضاحت کریں۔یاد رکھیں ہم نیب کو پنجاب حکومت کے اشتہارات کی تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں،جسٹس عمر عطا ء بندیال نے کہا کہ حکمرانوں کو اندازہ نہیں کہ پاکستان قرضوں میں ڈوب چکا ہے، قرضوں میں ڈوبی قوم کا پیسہ حکمران ذاتی تشہیر پر خرچ کر رہے ہیں،قرضوں کی صورتحال دیکھ کر عدالت پریشان اور خوفزدہ ہے،اب بھی وقت ہے حکومتیں اپنی ترجیحات درست کر لیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ کے روبرو ڈبہ بند دودھ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹراعتزاز احسن نے جمعہ کے روز عدالت کی طرف سے عائد کئے گئے 10ہزار روپے جرمانہ کی رقم ادا کرنے سے انکار کردیااور چیف جسٹس سے کہا کہ آپ مجھے ٹینشن میں نظر آرہے ہیں ،آپ کو کوئی ٹینشن دے رہا ہے ۔آپ کسی زعم میں لگتے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ٹینشن میں نہیں ہیں ، ٹینشن لینے کے نہیں ۔ہمیں کوئی زعم نہیں ہم تو زعم ختم کرنے آئے ہیں ۔جمعہ کے روز عدالت میں پیش نہ ہونے پر فاضل بنچ نے اعتزاز احسن پر 10ہزار روپے ہرجانہ عائد کیا تھا ،کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی اعتزاز احسن نے فاضل بنچ سے کہا کہ مجھے جرمانہ کیوں کیا گیا ہے ؟ مجھے تو آج تک 10روپے جرمانہ نہیں ہوا ،مجھے سکول میں کبھی 25پیسے کا جرمانہ نہیں ہوا۔آپ نے میرا ریکارڈ خراب کردیا ہے ،میں یہ جرمانہ ادا نہیں کروں گا ۔اس پر چیف جسٹس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ یہ جرمانہ نہیں یہ تو صدقہ ہے ،یہ رقم توفاطمید فاؤنڈیشن کو جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ میں صدقہ خیرات کرتا رہتا ہوں لیکن جرمانہ ادا نہیں کروں گا ،آج کے اخبارات میرے جرمانے کی خبر سے بھرے پڑے ہیں ۔انہوں نے عدالت میں اخبارات دکھائے ،ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ یہ رقم ادا نہیں کرتے تو پھر ہم اپنی جیب سے ادا کردیتے ہیں ۔ایک موقع پر چیف جسٹس نے اعتزاز احسن کی اہلیہ کا نام لے کر کہا کہ اگر آپ جرمانہ نہیں دیں گے تو پھر ہم بشریٰ باجی سے لے لیں گے ۔اس کے باوجود اعتزاز احسن کی سنجیدگی برقراررہی تو بنچ کے فاضل رکن مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم نے ہرجانہ عائد کیا تھا لیکن ابھی تک اسے تحریری حکم کا حصہ نہیں بنایا ۔فاضل بنچ نے بنیادی کیس پر دلائل دینے کے لئے کہا تو اعتزاز احسن نے چیف جسٹس سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ مجھے ٹینشن میں نظر آرہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔دلائل کے دوران اعتزاز احسن نے ٹینشن میں ہونے کی متعدد بار بات کی تو چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے یک مشہور فلمی ڈائیلاگ کا پہلا حصہ بولا کہ " ٹینشن لینے کے نہیں ہیں "۔تاہم انہوں نے ڈائیلاگ کا دوسرا حصہ نہیں بولاجس میں کہا گیا ہے کہ ٹینشن دینے کے ہیں ۔دلائل کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ زعم میں لگتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں کوئی زعم نہیں ہے بلکہ ہم زعم ختم کرنے آئے ہیں ۔عدالت نے اعتزاز احسن سے کہا کہ گزشتہ روزآپ کے جونیئر کا عدالت سے رویہ درست نہیں تھا کسی کو آپ کے کندھوں پر چڑھ کر عدالتی کاروائی میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی،اعتزاز احسن نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ ٹینشن میں لگتے ہیں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے ایسو سی ایٹ نے عدالت میں کھڑے ہو کر اعزاز احسن کے چیمبر کا رعب دکھایاجو یہاں رعب جھاڑے گا تو میں جونیئر اور سینئر وکیل کی تمیز نہیں کروں گا۔ڈبہ بند دودھ کے حوالے سے فاضل بنچ نے قراردیا کہ ڈبہ بند اور فارمولا دود ھ ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں ہے ،یہ دودھ ہے ہی نہیں ہے۔عدالت حکم دے چکی ہے کہ فارمولا دودھ کے ڈبہ پر لازمی طور پر لکھا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے ،اس پر عمل کیوں نہیں ہورہا ؟ملک ایسوسی ایشن کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ بچوں کی مکمل غذا ہے اور90فیصد سے زیادہ دودھ ہے ۔یہ عبارت لکھنا درست نہیں جس پر عدالت نے اعتزاز احسن کو ہدایت کی کہ پھرآپ ایسی ہی عبارت لکھ کرلے آئیں جو ڈبوں پر تحریر ہونی چاہیے ،عدالت اس کا جائزہ لے گی ۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اگر مناسب تحریر پیش نہ کی گئی تو پھر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالجز میں فیسوں کی حد اور معیار مقرر کرنے کیلئے پی ایم ڈی سی، یوایچ ایس اور دیگرفریقین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے سفارشات طلب کر لیں، عدالت نے 80سے 90فیصد نمبروں کے باوجود میڈیکل کالجوں میں داخلوں سے محروم طالب علموں کیلئے ہر میڈیکل کالج میں5فیصد سیٹیں بڑھانے کیلئے سیکریٹری صحت پنجاب سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازخود کیس کی سماعت کی، سیکرٹری صحت پنجاب نجم شاہ نے عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ کے معاملہ پر میرٹ کا قتل ہوا ہے جس کی وجہ سے میرٹ پر پورا اترنے والے ذہین طالب علم داخلوں سے محروم رہ گئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اتنے اہم عہدے پر بیٹھ کر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کم نمبروں کے باوجود نجی میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے والے طالب علموں کوپڑھائی سے روکنا مناسب نہیں ،البتہ جن طالب علموں کو 90فیصد نمبروں کے باوجود داخلہ نہیں مل سکا ،ان کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنا چاہیے ، چیف جسٹس نے کہا کہ تمام نجی میڈیکل کالجز میں 5فیصد سیٹوں کا کوٹہ بڑھا کر ذہین طالب علموں کو داخلہ دینے کے حوالے سے میکنزم بناکر 24گھنٹوں میں عدالت کو پیش کیا جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ 2ہزار810طلباء ایسے ہیں جنہوں نے 81سے 91فیصد کے درمیان نمبر حاصل کئے لیکن ان کا میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہ ہوسکا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم ہر کالج میں 5،5سیٹیں بڑھا دیں تو 170طلباء اکاموڈیٹ ہوسکتے ہیں ۔عدالت نے اس بابت سیکرٹری صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے فضائی آلودگی سے متعلق لئے گئے از خود نوٹس کیس میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے مکمل منصوبہ بنا کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔عدالت عظمیٰ نے ڈی جی ماحولیات کی رپورٹ مسترد کردی،چیف جسٹس نے کہاکہ چھوڑ دیں ایسی رپورٹ اورپالیسی کو، ایسی رپورٹ ہم ابھی ٹکا ٹک کر کے گوگل سے نکال دیں گے ۔چیف سیکرٹری پنجاب نے انکشاف کیا کہ شہروں میں ناقص پیٹرول فروخت ہو رہا ہے جو کہ فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈی جی ماحولیات نے کہا کہ گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں ماحولیاتی آلودگی کی بنیادی وجہ ہے، عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کوواضح کیا کہ ہم کوئی بھی کام ادھورا چھوڑ کر نہیں جائیں گے، عدالتی احکامات پر آپ سرخ سیاہی سے عملدرآمد کویقینی بنائیں۔دوران سماعت سرگودھا کی ایک فیکٹری مالکہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کی فیکٹری کا پانی بدی نالہ میں گرتا ہے ،وہاں ایک اعلیٰ پولیس افسر کی زمینیں ہیں ،انہوں نے نالہ پر بند باندھ رکھا ہے ،جس کی وجہ سے آلودگی پھیل رہی ہے ۔چیف جسٹس کے استفسار پر یہ کون افسر ہے ؟ خاتون نے خاموشی اختیار کی تو فاضل جج نے کہا کہ آپ سب کو اس نظام کے خلاف جرات کرنا ہو گی جو غلط کام کر رہا ہے ،اس کا کھل کر نام بتائیں، آنکھیں اور لب بند رکھنے سے نظام درست نہیں ہو گا۔عدالت کو بتایا گیا کہ سی سی پی او لاہور وہاں اپنا اثر ورسوخ استعمال کررہے ہیں ،عدالت نے فوری نوٹس پر سی سی پی لاہور امین وینس کو طلب کرلیا ،وقفے کے بعد امین وینس نے عدالت کو بتایا کہ وہاں میرے بھائیوں کی زمینیں ہیں ،بند باندھنے کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے ،میں معلوم کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کردوں گا۔اس فیکٹری سے زہرآلود پانی نکل رہا ہے جس سے انسان اورجانور مررہے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے سی سی پی او سے کہا کہ بندے تو آپ لوگ بھی بہت ماررہے ہیں ،آپ بھی انسانوں کی حفاظت کریں ۔چیف جسٹس نے ڈی جی ماحولیات کو حکم دیا کہ وہ سرگودھا جائیں اور دوبارہ معاملہ کا جائزہ لے کر 15دن میں رپورٹ پیش کریں ۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول